جاوید ہاشمی: گرفتاری سے ضمانت تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کی بغاوت کیس میں ضمانت منظور ہونے کے بعد سنیچر کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی عمل میں آنے کا امکان ہے۔ پریس کانفرنس اور گرفتاری انتیس اور تیس اکتوبر سنہ دو ہزار تین کی درمیانی شب کو جاوید ہاشمی کو اسلام آباد کے پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کیا گیا تھا۔ درخواست مسترد بیس نومبر سنہ دو ہزار تین کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جاوید ہاشمی کے طبی معائنہ کی درخواست مسترد کردی۔ بائیس نومبر سنہ دو ہزار تین کو جاوید ہاشمی کی ضمانت مقامی جوڈیشل مسجٹریٹ نے مسترد کردی۔ باقاعدہ سماعت اور فرد جرم چوبیس جنوری سنہ دو ہزار چار کو جاوید ہاشمی پر غداری اور فوج کو بغاوت پر اکسانے سمیت سات دفعات کی فرد جرم عائد کی گئی۔ دس اپریل سنہ دوہزار چار کو مقدمے کے جج چودھری اسد رضا نے جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمے میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت کا فیصلہ اور اپیل اپریل دو ہزار سنہ دو ہزار چار کو بغاوت کیس کی سزا کے خلاف جاوید ہاشمی نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جس کی آج تک سماعت نہیں ہوئی۔ انتخابات میں حصہ ستائیس اگست سنہ دو ہزار چار کو جاوید ہاشمی کو وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر پارلیمنٹ میں نہیں بلایا گیا اور حزب اختلاف نے اپنے امیدوار جاوید ہاشمی کو پیش نہ کرنے پر انتخاب کا بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے شوکت عزیز وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ ستائیس اپریل سنہ دو ہزار چار کو سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے جاوید ہاشمی کو اسمبلی میں بلانے کی درخواست کو مسترد کردیا گیا جس پر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے ایوان میں احتجاج کیا۔ درخواست ضمانت مسترد دو اپریل سنہ دو ہزار پانچ کو جاوید ہاشمی کو مستقل بنیادوں پر اڈیالہ جیل راولپنڈی سے کوٹ لکھپت جیل لاہور منقتل کردیا جہاں جاوید ہاشمی اپنے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس کی سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔اس سے قبل جاوید ہاشمی کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیشی کے لئے اڈیالہ جیل سے لایا جاتا تھا۔ دو دن کا پیرول مسلم لیگ کی نائب صدارت درخواست مسترد تئیس دسمبر سنہ دوہزار چھ کو جاوید ہاشمی کو دوبارہ پیرو ل پر رہائی ملی اور اس طرح جاوید ہاشمی نے اپنی بیٹی بشریْ کی شادی میں شرکت کی۔ آخری سماعت تین اگست سنہ دو ہزار سات کو سپریم کورٹ نے جاوید ہاشمی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ ہاں میں باغی ہوں جاوید ہاشمی کی گرفتاری اور رہائی کے احکامات کے حوالے سے یہ بات دلچسپ ہے کہ جس وقت جاوید ہاشمی کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت بھی قومی اسمبلی کا اجلاس چل رہا تھا اور جب ان کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے ہیں تو اس وقت بھی قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور جاوید ہاشمی اپنی رہائی کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ | اسی بارے میں ہاشمی: درخواست ضمانت خارج09 October, 2006 | پاکستان ’جاوید ہاشمی کوپیش کریں‘ 19 April, 2007 | پاکستان ’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘23 December, 2006 | پاکستان جاوید ہاشمی اور متنازع خط30 October, 2003 | پاکستان جاوید ہاشمی کی گرفتاری ،کسے کیا ملا04 November, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||