BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاوید ہاشمی: گرفتاری سے ضمانت تک

جاوید ہاشمی
جاوید ہاشمی کو فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں سزا سنائی گی تھی
مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کی بغاوت کیس میں ضمانت منظور ہونے کے بعد سنیچر کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی عمل میں آنے کا امکان ہے۔

پریس کانفرنس اور گرفتاری
جاوید ہاشمی کو انیس اکتوبر سنہ دو ہزار تین کواسلام آباد میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کرنے کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں انہوں نے دعویْ کیا تھا کہ ان کو فوج کے مونو گرام والے لیٹر ہیڈ پر فوجی حکمرانوں کے خلاف ایک خط موصول ہوا ہے۔

انتیس اور تیس اکتوبر سنہ دو ہزار تین کی درمیانی شب کو جاوید ہاشمی کو اسلام آباد کے پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کیا گیا تھا۔

درخواست مسترد
سترہ نومبر سنہ دو ہزار تین کو جاوید ہاشمی کی رہائی کے لیے ان کی بیٹی اور رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو مسترد کردی گئی۔

بیس نومبر سنہ دو ہزار تین کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جاوید ہاشمی کے طبی معائنہ کی درخواست مسترد کردی۔

بائیس نومبر سنہ دو ہزار تین کو جاوید ہاشمی کی ضمانت مقامی جوڈیشل مسجٹریٹ نے مسترد کردی۔

باقاعدہ سماعت اور فرد جرم
آٹھ دسمبر سنہ دو ہزار تین کو جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہوئی۔

چوبیس جنوری سنہ دو ہزار چار کو جاوید ہاشمی پر غداری اور فوج کو بغاوت پر اکسانے سمیت سات دفعات کی فرد جرم عائد کی گئی۔

دس اپریل سنہ دوہزار چار کو مقدمے کے جج چودھری اسد رضا نے جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمے میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

عدالت کا فیصلہ اور اپیل
بارہ اپریل سن دو ہزار چار کو عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سات مختلف الزامات میں جاوید ہاشمی کو مجموعی طور پر تئیس سال قید کی سزا سنائی۔

اپریل دو ہزار سنہ دو ہزار چار کو بغاوت کیس کی سزا کے خلاف جاوید ہاشمی نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جس کی آج تک سماعت نہیں ہوئی۔

انتخابات میں حصہ
چھبیس اگست سنہ دو ہزار چار کو حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی نے جاوید ہاشمی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے شوکت عزیز کے مقابلہ میں امیدوار نامزد کیا۔

ستائیس اگست سنہ دو ہزار چار کو جاوید ہاشمی کو وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر پارلیمنٹ میں نہیں بلایا گیا اور حزب اختلاف نے اپنے امیدوار جاوید ہاشمی کو پیش نہ کرنے پر انتخاب کا بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے شوکت عزیز وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔

ستائیس اپریل سنہ دو ہزار چار کو سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے جاوید ہاشمی کو اسمبلی میں بلانے کی درخواست کو مسترد کردیا گیا جس پر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے ایوان میں احتجاج کیا۔

درخواست ضمانت مسترد
چوبیس اپریل سنہ دو ہزار پانچ کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے جاوید ہاشمی کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

دو اپریل سنہ دو ہزار پانچ کو جاوید ہاشمی کو مستقل بنیادوں پر اڈیالہ جیل راولپنڈی سے کوٹ لکھپت جیل لاہور منقتل کردیا جہاں جاوید ہاشمی اپنے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس کی سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔اس سے قبل جاوید ہاشمی کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیشی کے لئے اڈیالہ جیل سے لایا جاتا تھا۔

دو دن کا پیرول
دس جولائی سنہ دو ہزارچھ کوجاوید ہاشمی کو بغاوت کیس میں سزا کے بعد پہلی بار کو اس وقت دو روز کے لیے پیرول پر رہائی ملی جب انہیں اپنی بھانجی اور ان کے شوہر کی ہلاکت کے بعد ان کی آخری رسوم میں شرکت کرنا تھی۔

مسلم لیگ کی نائب صدارت
دو اگست سنہ دو ہزار چھ میں مسلم لیگ کی جنرل کونسل نے مخدوم جاوید ہاشمی کو جماعت کا سینئر نائب صدر چن لیا۔

درخواست مسترد
نو اکتوبر سنہ دو ہزاز چھ کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے جاوید ہاشمی کی بغاوت کیس میں سزا معطل کرنے اور ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کردی۔

تئیس دسمبر سنہ دوہزار چھ کو جاوید ہاشمی کو دوبارہ پیرو ل پر رہائی ملی اور اس طرح جاوید ہاشمی نے اپنی بیٹی بشریْ کی شادی میں شرکت کی۔

آخری سماعت
یکم اگست سنہ دو ہزار سات کو سپریم کورٹ کے سہ رکنی بینچ نے جاوید ہاشمی کی درخواست پر کارروائی کی اور حکومت کی یہ استدعا مسترد کردی کہ درخواست پر کارروائی ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی جائے۔ سپریم کورٹ نے جاوید ہاشمی کو قید میں رکھنے پر حکومت سے وضاحت طلب کرلی۔

تین اگست سنہ دو ہزار سات کو سپریم کورٹ نے جاوید ہاشمی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

ہاں میں باغی ہوں
جاوید ہاشمی نے اپنی قید کے دوران ’ہاں میں باغی ہوں‘ اور’تختہ دار کے سایہ تلے‘ کے عنوان سے دو کتابیں بھی لکھیں اور ان کتابوں کی رونمائی ان کی عدم موجودگی میں ہوئیں۔ جاوید ہاشمی کی مزید دو کتابیں تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔

جاوید ہاشمی کی گرفتاری اور رہائی کے احکامات کے حوالے سے یہ بات دلچسپ ہے کہ جس وقت جاوید ہاشمی کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت بھی قومی اسمبلی کا اجلاس چل رہا تھا اور جب ان کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے ہیں تو اس وقت بھی قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور جاوید ہاشمی اپنی رہائی کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

اسی بارے میں
ہاشمی: درخواست ضمانت خارج
09 October, 2006 | پاکستان
’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘
23 December, 2006 | پاکستان
جاوید ہاشمی اور متنازع خط
30 October, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد