’دم توڑتی حکومت کو آکسیجن فراہم نہ کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پونے چار برس بعد قید سے رہائی پانے والے مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر اور رکن قومی اسمبلی مخدوم جاوید ہاشمی نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو سے اپیل کی ہے کہ وہ دم توڑتی مشرف حکومت کو آکسیجن فراہم نہ کریں۔ رہائی کے بعد اپنے استقبالیہ جلوس سے خطاب کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ ’میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ انہوں نے سات سال ہمارے ساتھ ملکر ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے ہیں اور اب کوئی کہے’ کم مشرف کم‘ تو یہ نہیں چلےگا‘۔ جاوید ہاشمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیل اور پھانسی گھاٹ صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں بلکہ آئین کو پامال کرنے والوں کے لیے بھی بنے ہیں اور اس ملک کے عوام قانون اور عوام کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی عدلیہ آزاد ہے اور ملک میں کوئی ایمرجنسی یا مارشل لاء لگانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ مخدوم جاوید ہاشمی کو سنیچر کی شام لاہور کی کوٹ لکھپت سنٹرل جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ جیل سے باہر آنے پر جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ حقیقی معنوں میں اس وقت رہا ہوں گے جب پارلیمان اور ادارے آزاد ہوں گے۔ رہائی کے بعد جاوید ہاشمی کو ایک بڑے جلوس کی صورت میں پہلے داتا دربار اور پھر مزارِ اقبال لے جایا گیا۔ جاوید ہاشمی کے جلوس کو عموماً ڈیڑھ گھٹنے میں طے ہونے والا یہ سفر مکمل کرنے میں قریباً بارہ گھنٹے لگے اور اور وہ اتوار کی صبح چار بجے مزارِ اقبال پر پہنچ سکے۔ جاوید ہاشمی کے جلوس کے راستے میں درجنوں مقامات پر استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے جہاں پر موجود کارکنوں نے ان کا زبردست استقبال کیا۔ مسلم لیگی کارکن صدر جنرل مشرف کے خلاف اور نواز شریف اور جاوید ہاشمی کے حق میں نعرے بازی بھی کرتے رہے۔ جاوید ہاشمی نے بھی مسلم لیگی کارکنوں کے ساتھ گو مشرف گو کے نعرے لگائے۔ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی جاوید ہاشمی کا استقبال کیا۔ استقبالیہ کیمپوں سے خطاب کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا انہوں نے فوج کو بدنام کرنے کی کوئی سازش نہیں کی بلکہ جنرل مشرف نے اپنی غلط پالیسیوں سے فوج کو بدنام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں سے حساب لینے کا وقت آ گیا ہے اور ان سے بلوچستان اور وزیرستان میں چلائی جانے والی ایک ایک گولی کا حساب لیا جائے گا۔ اس سے قبل جب جاوہد ہاشمی کو سنیچر کی شام کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا تو مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ جاوید ہاشمی کا استقبال کرنے والوں میں سابق صدر جسٹس رفیق تارڑ (ریٹائرڈ) اور مسلم لیگ (نواز) کے صوبائی صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ نمایاں تھے۔ مسلم لیگی کارکن سنیچر کی صبح سے ہی جیل کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے جبکہ شام چار بجے کے بعد ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوا۔جاوید ہاشمی جب جیل سے باہر آئے تو کارکنوں نے کئی کبوتر آزاد کیے۔ مخدوم جاوید ہاشمی اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے اور بعد ازاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد جائیں گے۔ |
اسی بارے میں پارٹیوں میں بھی آمریت تسلیم نہیں: ہاشمی04 August, 2007 | پاکستان جمہوریت اور انصاف کی فتح ہے03 August, 2007 | پاکستان جاوید ہاشمی کی رہائی کا حکم03 August, 2007 | پاکستان جاوید ہاشمی کیوں قید ہیں: عدالت01 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||