عوامی نیشنل پارٹی مزید استعفے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) کی طرف سے صدراتی انتخاب سے قبل استعفوں کے اعلان کے بعد قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دس اراکین صوبائی اسمبلی نے اپنی نشستوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے استعفے پارلمیانی لیڈروں کے حوالے کردیئے ہیں۔ منگل کو باچاخان مرکز پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سرحد اسمبلی میں اے این پی کے پارلیمانی رہنما بشیر احمد بلور نے کی۔ اجلاس میں پارٹی کے سات ممبران صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں شریک اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں شامل تمام اراکین صوبائی اسمبلی امیر رحمان، مختیار، عباس خلیل، شوکت حبیب اور خواتین اراکین فرح عاقل شاہ اور یاسمین پیر محمد نے اپنے اپنے استعفے پارلیمانی رہنما بشیر احمد بلور کو پیش کردیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ استعفے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی ہدایت کے مطابق 29 ستمبر کو سپیکر سرحد اسمبلی کے حوالے کردیئے جائیں گے۔ میاں افتخار کے مطابق اے این پی ایک اصولی جماعت ہے جس نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے اور اسمبلی اور وزراتوں کو اصولوں پر قربان کیا ہے۔ یاد رہے کہ باجوڑ ایجنسی سے اے این پی کے واحد رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان نے بھی گزشتہ روز اپنا استعفی باچا خان مرکز میں جمع کرادیا تھا۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تین اراکین سرحد اسمبلی نے بھی اپنی نشستوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے استعفے سرحد اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی رہنما انور کمال مروت کو پیش کردیئے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انور کمال مروت کا کہنا تھا کہ بشمول ان کے مسلم لیگ (ن) کے تین اراکین صوبائی اسمبلی نے استعفے ان کے حوالے کئے ہیں جن میں ان کے علاوہ سردار ممتاز عباسی اور خاتون رکن ڈاکٹر امتیاز بخاری شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لکی مروت سے ان کی جماعت کے دو ایم پی اے ظفر اللہ مروت اور عمران مروت آج پشاور میں موجود نہیں تھے لیکن وہ جب بھی شہر پہنچیں گے اپنے استعفے پیش کردینگے۔ واضح رہے کہ تین دن قبل اسلام آباد میں اے پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں جنرل پرویز مشرف کا دوبارہ بحثیت صدر انتخاب روکنے کےلئے استعفے دینے کا فیصلہ ہوا تھا۔ اتحاد میں شامل جے یو ائی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ | اسی بارے میں APDMگرفتاریوں پر امریکی تشویش24 September, 2007 | پاکستان ’ہر قربانی کے لیے تیار ہیں‘24 September, 2007 | پاکستان جنرل مشرف کو وکلاء کا چیلنج24 September, 2007 | پاکستان قواعد میں تبدیلی، پٹیشن مسترد24 September, 2007 | پاکستان ’پارلیمنٹ نے بیساکھیاں دیں‘24 September, 2007 | پاکستان کوئٹہ سے انتخابی مہم کا آغاز25 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||