BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 September, 2007, 09:18 GMT 14:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پارلیمنٹ نے بیساکھیاں دیں‘

جسٹس جاوید اقبال
بارہ مئی کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیے اس پر بات نہیں ہو سکتی: جسٹس جاوید اقبال
صدر کے دو عہدے رکھنے، سترہویں آئینی ترمیم، اور صدر مشرف کے وردی میں رہتے ہوئے آئندہ انتخاب کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے سترہویں ترمیم منظور کر کے صدر کو بیساکھیاں فراہم کی ہیں۔

پیر کو آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس انہوں نے کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان کے انجینئر جمیل کی اس دلیل کے جواب میں دیئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے سن دو ہزار پانچ کو پاکستان لائرز فورم کی آئینی درخواست پر اپنے فیصلے میں صدر کو اپنے عہدے پر قائم رہنے کا جواز فراہم کیا اور وہ اسی کے سہارے چل رہے ہیں۔

انجینئر جمیل نے اپنے دلائل نے کہا کہ نو رکنی بینچ میں شامل چھ جج ان کے لیے انتہائی قابل احترام ہیں جبکہ ان کو بینچ میں شامل تین ججوں پر اعتراض ہے جو، ان کے بقول، صدر سے ڈکٹیشن لیتے ہیں۔

بینچ میں شامل جج صاحبان نے انجینئر جمیل کے اس بیان پر شدید اعتراض کیا اور ان کا مائیک بند کردیا لیکن انہوں نے اپنے دلائل جاری رکھے۔

جسٹس فلک شیر نے انجینئر جمیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ قانون کی بات کریں گے تو عدالت انہیں سنے گی ورنہ انہیں عدالت سے نکال دیا جائے گا۔

 جسٹس نواز عباسی نے انجینئر جمیل سے استفسار کیا کہ اگر صدر اپنے حلف کی خلاف ورزی کرے تو ان کے خلاف کس فورم پر کارروائی ہونی چاہیے۔ جواب میں انجینئر جمیل نے کہا کہ حلف کی خلاف ورزی پر صدر کا مواخذہ ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سپریم کورٹ صدر کا مواخذہ کر سکتی ہے

جسٹس جاوید بٹر نے کہا کہ قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ کسی جج کے بارے میں بات کریں اور اگر آپ ایسی بات کریں گے تو عدالت سے باہر نکال دیے جائیں گے۔

بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے انجینئر جمیل سے استفسار کیا کہ اگر صدر اپنے حلف کی خلاف ورزی کرے تو ان کے خلاف کس فورم پر کارروائی ہونی چاہیے۔ جواب میں انجینئر جمیل نے کہا کہ حلف کی خلاف ورزی پر صدر کا مواخذہ ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سپریم کورٹ صدر کا مواخذہ کر سکتی ہے۔

ایک دوسرے درخواست گزار ڈاکٹر انوارالحق کے وکیل شوکت صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص نے تمام اداروں کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارہ مئی کو کراچی میں ہونے والے واقعات میں بھی اسی شخصیت کا ہاتھ ہے۔

اس پر بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ بارہ مئی کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ کے سامنے زیر سماعت ہے اس لیے اس پر بات نہیں ہو سکتی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ صدر جنرل پریز مشرف لال مسجد میں ہونے والے قتل عام کے ذمہ دار ہیں جس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ یہ روایت ختم ہونی چاہیے کہ ملک میں جو بھی کچھ ہو اُس کی زمہ داری صدر پر ڈال دی جائے۔

ایک اور درخواست گزار شاہد اقبال جو سینٹ میں ایک اعلی عہدے پر فائض رہ چکے ہیں نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر کے انتخاب کے لیے بھی وہی رولز عائد ہوتے ہیں جو صدر کے انتخاب کے لیے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف ایک ایماندار شخص نہیں ہیں اور انہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے وہ ایک دن کے لیے بھی صدارت اپنے پاس نہیں رکھ سکتے اس لیے چیرمین سینٹ کو قائم مقام صدر بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس صدرکے مواخذہ کے اختیارات محدود ہیں۔ بینچ میں شامل جسٹس جاوید بٹر نے کہا کہ آپ عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

بینچ کے سربراہ رانا بھگوان داس نے آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی کی سب کلاز تین کے تحت درخواست مسترد کردی۔

 صدر کے دو عہدے رکھنے اور سترہویں ترمیم سے متعلق جو درخواستیں دار کی گئی ہیں وہ قابل سماعت نہیں۔ان درخواستوں میں جو نکات اُٹھائے گئے ہیں ان کا فیصلہ قاضی حسین احمد اور پاکستان لائرز فورم کی درخواستوں میں ہوچکا ہے
اٹارنی جنرل

عدالت نے مولوی اقبال حیدر کی درخواست بھی مسترد کردی جس میں درخواست گزار نے کہا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کی بطور صدر عہدے کی معیاد سنہ دو ہزار نو میں ختم ہو رہی ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل ملک قیوم سے استفسار کیا کہ صدر کے عہدے کی معیاد پندرہ نومبر سنہ دو ہزار سات میں ختم ہو رہی ہے۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جنرل پریز مشرف کے آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے دو عہدے رکھنے اور سترہویں ترمیم سے متعلق جو درخواستیں دار کی گئی ہیں وہ قابل سماعت نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں میں جو نکات اُٹھائے گئے ہیں ان کا فیصلہ قاضی حسین احمد اور پاکستان لائرز فورم کی درخواستوں میں ہوچکا ہے۔

ملک قیوم نے کہا کہ ان درخواستوں میں کوئی نئی بات نہیں ہے اور درخواست گزار ایک مرے ہوئے گھوڑے کو چابک مار رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں
مشرف کیخلاف پٹیشن منظور
06 September, 2007 | پاکستان
باوردی صدر: سماعت پانچ کو
03 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد