APDMگرفتاریوں پر امریکی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی جانب سے پاکستان میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے ہونے والی مختلف سیاسی راہنماوں کی گرفتاریوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اہم سیاسی جماعتوں کے راہنماوں کی گرفتاری کی اطلاعات پریشان کن اور پاکستان کے دوست ممالک کے لئے باعث تشویش ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لئے گئے تمام افراد کو جس قدر جلدی ممکن ہورہا کیا جانا چاہیے۔ بیان میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ آئندہ انتخابات کے لئے تمام انتخابی عمل آئین کے مطابق ہوتاکہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ممکن ہوسکیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ پاکستان میں جاری جمہوری عمل بشمول انتخابات میں ہر ایک کو حصہ لینے کی اجازت ہوگی اور انتخابی عمل سے پاکستان کے لوگوں کو انتخاب کا حق مہیا ہو تاکہ یہ عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔
حکومت سپریم کورٹ کو یہ بتانا چاہ رہی ہے کہ ہمارے ہاتھ میں بندوق ہے اور ہمیں کسی کی فکر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود باہر بھجوا کر سپریم کورٹ کو پیغام بھیجا گیا تھا اور یہ گرفتاریاں بھی سپریم کورٹ کے لیے پیغام ہے۔ عمران خان نے حالیہ گرفتاریوں پر مذمت کی اور کہا کہ ابھی تک اُنہیں تو کسی نے گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی وہ چھپ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ قاضی حُسین احمد اور اُنہیں شاید اس لیے گرفتار نہیں کیا جا رہا کہ ان دونوں کی درخواستیں سپریم کورٹ میں ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ یہ سب کچھ ایک شخص کے لیے ہو رہا ہے اور امریکہ جنرل مشرف کی پشت پناہی اس لیا کر رہا ہے کیونکہ جنرل مشرف امریکہ کا مقصد حل کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ عوام اب تک اس لیے باہر سڑکوں پر نہیں آئی کیونکہ ملک میں اب تک حقیقی اپوزیشن سامنے نہیں آئی۔ اور اب استعفوں کے بعد یہ بات واضح ہو جائے گی اور کون حقیقی حزب مخالف کا کردار ادا کرتا ہے اور کون فرینڈلی اپوزیشن کے روپ میں سامنے آتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کچھ بھی آئے، اگر جنرل مشرف صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو اُن کی جد وجہد جاری رہے گی اور وہ جنرل مشرف کو کبھی صدر کے عہدے پر قبول نہیں کریں گے۔ وکلاء کی جانب سے وجہیہ الدین احمد کو صدارتی امُیدوار نامزد کرنے کے بارے میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اے پی ڈی ایم نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ مستفعی ہو جائے گی لیکن اور وہ وجہیہ الدین احمد کی حمایت کرتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ جب تک وہ آزاد ہیں اپوزیشن کی جانب سے ہونے والے احتجاجی جلسوں کی قیادت کرتے رہیں گے۔ | اسی بارے میں چالیس کارکن گرفتار چھاپے جاری23 September, 2007 | پاکستان اسلام آباد میں سیاسی گرفتاریاں اور چھاپے22 September, 2007 | پاکستان اےاین پی: رکن قومی اسمبلی مستعفی23 September, 2007 | پاکستان اے پی ڈی ایم اجلاس سرحد میں 23 September, 2007 | پاکستان گرفتاریاں حکومتی ارکان کوڈرانے کیلیے23 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||