BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 September, 2007, 09:28 GMT 14:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قواعد میں تبدیلی، پٹیشن مسترد

لاہور ہائی کورٹ
نوٹیفیکشن ایک ایسے موقع پر جاری کیا گیا ہے جب معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے: درخواست گزار
لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے قواعد میں تبدیلی کے نوٹیفکیشن کے خلاف دائر درخواست ابتدائی سماعت میں مسترد کردی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے میڈیا ایڈوائزر محمد اظہر ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کے اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا جس میں صدارتی امیدوار کی اہلیت کی شق معطل کی گئی تھی۔

پیر کواس درخواست کی ابتدائی سماعت کےدوران لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ایم بلال خان نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔محمد اظہر ایڈووکیٹ کا موقف تھا کہ صدارتی انتخاب کا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے قواعد میں تبدیلی کا نوٹیفکشن جاری کیا ہے۔مختصر دلائل کے بعد ہائی کورٹ نے آئینی درخواست خارج کردی تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

محمد اظہر ایڈووکیٹ نے اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ الیکشن کمیشن کو صدراتی انتخاب کا شیڈول جاری کرنے سے روکا جائے اور حالیہ نوٹیفکشن کو منسوخ کیا جائے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ آئین سے ماورا قانون جاری کرے۔صدراتی انتخاب اور صدراتی امیدوار کی اہلیت کے لئے آئین کے آرٹیکل 41،62،اور 63میں طریقہ کار اور معیار وضع کر دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن اس طریقے کار کے مطابق عملدرآمد کا پابند ہے اور اس سے انحراف نہیں کرسکتا۔

درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن اس بارے میں کوئی نوٹیفکشن جاری نہیں کرسکتا اور الیکشن کمیشن کا جاری کردہ حالیہ نوٹیفکشن آئین کے خلاف اور بدنیتی پر مبنی ہے۔

نوٹیفکشن عوام سے دھوکہ ہے
 جب تک صدر کے عہدوں کے بارے میں فیصلہ نہیں ہوجاتا الیکشن کمیشن کو صدارتی امیدواروں کی درخواستیں وصول کرنے سے روک دیا جائے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں الکیشن کمیشن کے نوٹیفکشن کو بدنیتی پر مبنی، عوام سے دھوکے کے مترادف اور ایک باغیانہ اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر متعلقہ حکام کو نوٹس لینا چاہیے۔

درخواست گذار کا کہنا ہے کہ آئین میں دی گئی گنجائش کے تحت پرویز مشرف وردی سمیت صرف پندرہ نومبر سنہ دوہزار سات تک صدر رہ سکتے ہیں۔ان کے بقول ا لیکشن کمیشن نے نوٹیفکشن کے ذریعے اس میں توسیع کی کوشش کی ہے جو خلاف آئین ہے اس کے ذریعے جمہوریت کی آڑ میں آمریت کو تسلسل دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قاضی حسین احمد کے کیس میں اعلیٰ عدلیہ نے جو فیصلہ جاری کیا تھا وہ اس زمانے میں جاری ہوا جب آئین معطل تھا۔

درخواست گزار کے بقول اب یہ نوٹیفکشن ایک ایسے موقع پر جاری کیا گیا ہے جب معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک صدر کے عہدوں کے بارے میں فیصلہ نہیں ہوجاتا الیکشن کمیشن کو صدارتی امیدواروں کی درخواستیں وصول کرنے سے روک دیا جائے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں الکیشن کمیشن کے نوٹیفکشن کو بدنیتی پر مبنی، عوام سے دھوکے کے مترادف اور ایک باغیانہ اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر متعلقہ حکام کو نوٹس لینا چاہیے۔

اسی بارے میں
صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل
16 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد