BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 September, 2007, 11:45 GMT 16:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوجی افسر کی نامزدگی جرم‘

جنرل مشرف
صدر مشرف کے صدارتی عہدے پر انتخاب کے ساتھ ہی آئین کی دفعہ تینتالیس فوری طور پر بحال ہو جائے گی: ایس ایم ظفر
قانون دان اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ صدر ایک سیاسی عہدہ ہے اور ایک آرمی افسر سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی وہ عہدہ صدارت کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرواسکتا ہے۔

اس سے پہلے قانون دان ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ جنرل مشرف کو صدر منتخب ہوتے ہی فوجی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو الیکشن کے نتائج آنے کے بعد وردی اُتارنی چاہیے کیونکہ اس کے ساتھ ہی دو عہدوں کی مدت ختم ہوجاتی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ایک آرمی افسر کو صدارت کے لیے اُمیدوار نامزد کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس کے تجویز اور تائید کندہ بھی جرم کے مرتکب ہوتے ہیں جس کی سزا دس سال قید ہے۔

یہ بات انہوں نے صدر کے دو عہدے رکھنے، سترہویں آئینی ترمیم اور صدر کے وردی میں آئند صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کےدوران معاون طور پر اپنے دلائل دیتے ہوئے کہی۔

اہلیت
 جنرل پرویز مشرف کا صدر بننے کا حق تو دور کی بات ہے وہ اس عہدے کے امیدوار ہونے کے بھی اہل نہیں ہیں۔
اعتزاز احسن
انہوں نے کہا کہ صدر نے سیاسی تقریبات میں شرکت کرنی ہوتی ہے اور انہیں ووٹ مانگنے جانا ہوتا ہے جو کہ ایک سیاسی عمل ہے اور ایک آرمی چیف کا عہدہ رکھتے ہوئے وہ ووٹ مانگنے نہیں جاسکتے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کا صدر بننے کا حق تو دور کی بات ہے وہ اس عہدے کے امیدوار ہونے کے بھی اہل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر کا عہدہ سیاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاروق لغاری، نوابزادہ نصراللہ خاں اور رفیق تارڑ ووٹ مانگنے جاتے تھے اور یہ ایک سیاسی عہدہ ہے۔

انہوں نے شریف الدین کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنرل پرویز مشرف وردی میں الیکشن لڑیں گے اور کامیاب ہونے کی صورت میں وردی اتار دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اُن کا بیان مان لیا جائے تو جج بھی صدر کا الیکشن لڑسکتے ہیں، ہار گئے تو جج رہیں گے جیت گئے تو صدر بن جائیں گے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اگر سارا جھگڑا وردی کا ہے تو اس پر اعتراض الیکشن کمشن میں بھی ہو سکتا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ سترہویں ترمیم کی روشنی میں صدر صرف ایک مدت کے لیے اپنے پاس دو عہدے رکھنے کے مجاز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم صدر کے عہدے کے لیے کی گئی آرمی چیف کے عہدے کے لیے نہیں ہے۔

دو عہدوں کی مدت
صدر کو الیکشن کے نتائج آنے کے بعد وردی اُتارنی چاہیے کیونکہ اس کے ساتھ ہی دو عہدوں کی مدت ختم ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے آئندہ صدارتی انتخاب کے سلسلے میں میڈیا مہم شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پریز مشرف صدر منتخب ہوکر آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے تو یہ بات متنازعہ ہوگی اور اگر وہ وردی اُتار کر کاغذات نامزدگی داخل کرواتے ہیں تو دو سال کی پابندی ان پر لاگو ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ صدر کے اردگرد ایک قانونی حصار ہے جو صدر کو آئین کے اندر رکھتی ہے اور صدر اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو عدالت اس کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ اعتزاز احسن کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

اس سے پہلے قانون دان ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ جنرل مشرف کو صدر منتخب ہوتے ہی فوجی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو الیکشن کے نتائج آنے کے بعد وردی اُتارنی چاہیے کیونکہ اس کے ساتھ ہی دو عہدوں کی مدت ختم ہوجاتی ہے۔

ایس ایم ظفر نے کہا کہ صدر مشرف کے صدارتی عہدے پر انتخاب کے ساتھ ہی آئین کی دفعہ تینتالیس فوری طور پر بحال ہو جائے گی اور اس کے تحت صدر مشرف کو اپنا فوجی عہدہ چھوڑنا ہوگا۔

ا

فرض کریں
 اگر اُن کا بیان مان لیا جائے تو جج بھی صدر کا الیکشن لڑسکتے ہیں، ہار گئے تو جج رہیں گے جیت گئے تو صدر بن جائیں گے۔
اعتزاز احسن
نہوں نے کہا کہ وہ متحدہ مجلس عمل کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کا حصہ تھے، اس لیے وہ اس شش و پنج میں تھے کہ معاون کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو یا نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو سول اور فوج کے درمیان اقتدار کی کشمکش ختم کرنے کا تاریخی موقع ملا اور کاش وہ اکتیس دسمبر دو ہزار چار کو وردی اُتار دیتے تو ملک میں جمہوریت کو فروغ حاصل ہوتا۔

انہوں نے عدالت سے کہا کہ وا اپنے فیصلے میں لکھیں کہ جب صدارتی انتخاب کے نتائج آئیں تو منتخب ہونے پر صدر جنرل پرویز مشرف اپنی وردی اُتار دیں اس طرح ان خدشات کا خاتمہ ہوجائے گا کہ وہ (مشرف) اپنا وعدہ پوار نہیں کریں گے۔

اس سے پہلے حکومتی وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر کے دو عہدوں کے بارے میں آئینی درخواستیں سپریم کورٹ کے سامنے قابلِ سماعت نہیں ہیں۔

اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس رانا بھگوان داس نے اٹارنی جنرل کی اسی نوعیت کی دلیل پر اپنے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ہی ان درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دے چکی ہے۔

جب سید شریف الدین پیرزادہ نے پیر صابر شاہ کیس کا حوالہ دیا تو جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ایک لارجر بینچ پہلے سے اعلان شدہ سپریم کورٹ کے ہی کسی فیصلے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے جب قاضی حسین احمد کیس کا حوالہ دیا تو بینچ
میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ یہ فیصلہ سترہویں ترمیم کے منظور ہونے سے پہلے آیا تھا۔

سپریم کورٹ کے زیر سماعت ان آئینی درخواستوں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔

ان پٹیشنوں کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک نو رکنی بینچ کر رہا ہے جبکہ اس کے ارکان میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس شاکراللہ جان شامل ہیں۔

صدر مشرفصدارتی انتخابات
حزبِ اختلاف کی دھمکیاں اورامن و امان
احمد رضا قصوریچہرے پر سیاہ سپرے
احمد رضا قصوری کے خلاف’احتجاج‘
جسٹس(ر)وجیہہ الدینبراہِ راست چیلنج
وکلا کا صدر مشرف کو براہِ راست چیلنج ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمدامیدوار کا عزم
اس کاز میں ہم ضرور جیتیں گے: وجیہ الدین
جنرل بمقابلہ جج
’نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں‘
اسی بارے میں
صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل
16 September, 2007 | پاکستان
اے پی ڈی ایم اجلاس سرحد میں
23 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد