اس کاز میں ہم جیتیں گے: وجیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء برادری کی جانب سے متفقہ صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب ایک ثانوی چیز ہے اور اس میں ہار یا جیت اہمیت کی حامل نہیں بلکہ اصل چیز وہ مقصد ہے جس کے لیے وکلاء برادری کھڑی ہوئی ہے اور اس مقصد میں فتح ضرور حاصل ہوگی۔ اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے مگر یہ جیت آخرِ کار مقدر بنے گی۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نہ انہوں نے سوچا تھا نہ ہی اس کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کا فیصلہ نہیں بلکہ وکلاء برادری کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کرنے کے بارے میں کہا کہ اس وقت ملک میں جس طرح کے حالات ہیں اور جو کچھ ہو رہا ہے اس میں عوام کا بھی قصور ہے لیکن اس ملک کو اس وقت جس درجہ پر پہنچایا گیا ہے اس کی سب زیادہ ذمہ داری اس ملک کے لیڈروں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں بھی سرفہرست فوجی لیڈر ہیں جنہوں نے وقتاّ فوقتاّ اس قوم کی ’پاور بیس‘ پر شب خون مارے۔
انہوں نے کہا کہ ’چونکہ یہ ایک اصولی مؤقف ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت جس طرح کا سلسلہ بن رہا ہے اس میں شاید میں کوئی مثبت کام کرسکوں، اور اسی لیے میں نے وکلاء کے فیصلہ کو قبول کیا‘۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اب تک چھ انتخابات لڑے ہیں اور تمام جیتے ہیں لیکن جہاں تک عددی کھیل کا تعلق ہے تو یہ ایک ہارنے والا الیکشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس انتخاب کے بعد مزید مرحلے آئیں گے بلکہ اصل چیز وہ مقصد ہے جس کے لیے وکلاء برادری کھڑی ہوئی ہے تو اس کاز میں ہم ضرور جیتں گے، میں یہ نہیں کہتا کہ ہم فوراّ جیتں گے لیکن وہ جیت ہمارے مقدر میں ہے‘۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان کا جھکاؤ دائیں ہو گا یا بائیں، تو انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک معیشت کا تعلق ہے تو میں مقابلے اور آزاد معیشت کے حق میں ہوں اور جہاں تک عوام الناس کی بہبود کا تعلق ہے تو میں بائیں بازو کی اس سوچ کا حامی ہوں جو ایک حد تک اسلامی ہے۔ میں دونوں چیزوں کو اس انداز سے ملا کر چلانا پسند کروں گا کہ جس سے ملک میں ایک فلاحی ریاست قائم ہو، جمہوریت قائم ہو، معیشت ترقی کرے اور مقابلے کی فضا پیدا ہو جس سے ہر ایک کو اس کا حق ملے‘۔ انہوں نے عبوری آئینی حکم کے تحت سن دو ہزار میں حلف اٹھانے سے انکار کرنے کی توجیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آئین کے حلف میں آخری جملہ ہے کہ میں اس آئین کی پاسداری، حفاظت اور دفاع کروں گا اور پھر کوئی طالع آزما آئے اور کہے کہ ہمارا فوجی اقتدار ہے اور اس کے لیے حلف لے لیں تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ایسا شخص تو منفی نظریات رکھنے والا آدمی ہوگا‘۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حلف سے متعلق ایک خاص بات یہ ہے کہ فوجی افسران سے بھی آئین کے تحت حلف لیا جاتا ہے لیکن کسی فوجی افسر سے عبوری آئینی حکم کی تحت حلف نہیں اٹھوایا گیا بلکہ صرف ججوں، وزراء اور دیگر غیر فوجی افراد سے یہ حلف اٹھوایا گیا۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے لیے تعریفی کلمات کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ حلف اٹھانے سے انکار کے بعد انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ ان کو سپریم کورٹ کے جج سے بھی بڑے عہدوں کی پیشکش کے اشارے دیے گئے لیکن انہوں نے یہ کہ کر انکار کردیا کہ وہ جب جج کی حیثیت سے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھا سکتے تو کسی اور عہدے پر وہ یہ حلف کیسے اٹھا سکتے ہیں۔ ملکی حالات اور مستقبل کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ اب اس سے بدتر نہیں ہو سکتے لہذٰا اب بہتری ہی ہوگی۔ یہاں ادارے تشکیل پائیں اور فعال ہوجائیں تو لوگوں کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا، اور ہماری اور وکلاء برادری کی کوشش بھی یہی ہوگی جس سے معاملات آہستہ آہستہ درست ہوجائیں گے۔ | اسی بارے میں ’جسٹس (ر) وجیہہ بااصول انسان ہیں‘24 September, 2007 | پاکستان جسٹس(ر) وجیہہ صدارت کےامیدوار24 September, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ کے لیے پانچ نئے جج14 September, 2005 | پاکستان قانون کی بالادستی یا بالادستوں کا قانون؟19 October, 2003 | پاکستان سندھ ہائی کورٹ کے راستے بندرہیں گے23 September, 2007 | پاکستان چیف جسٹس بننے سے معذرت22 May, 2006 | پاکستان ’لوگ عدلیہ سے مایوس ہیں‘30 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||