BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 September, 2007, 09:34 GMT 14:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’احتجاج‘: قصوری کے منہ پر سپرے

احمد رضا قصوری
احمد رضا قصوری کے چہرے پر کالا سپرے
پیر کی صبح سپریم کورٹ میں صدر کے دو عہدوں کے خلاف آئینی پٹیشن کی سماعت کے آغاز سے قبل پشاور سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ایک سینئر وکیل نے ’احتجاج‘ کرتے ہوئے سرکاری وکیل احمد رضا قصوری کے چہرے پر سیاہ رنگ سپرے کر دیا۔

یہ واقعہ اعلٰی عدالت کے صدر دروازے کے قریب پیش آیا۔ محمد خورشید ایڈووکیٹ پی پی پی کے پرانے کارکن ہیں۔ اس اچانک صورتحال سے احمد رضا قصوری کا تقریباً تمام چہرہ سیاہ ہوگیا۔

بعد میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے خورشید ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ کئی روز سے تاک میں تھے لیکن انہیں موقع نہیں مل رہا تھا۔ ان کے مطابق گزشتہ شب ایک نجی ٹی وی چینل پر احمد رضا قصوری کی باتوں سے ان کا صبر کا پیمانہ بلآخر لبریز ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ احمد رضا قصوری نے چند روز قبل عدالت میں اعتزاز احسن اور اتوار کی شب ٹی وی پر دیگر سینئر وکلاء پر چیف جسٹس کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران بھاری رقوم لینے کے الزامات لگائے تھے۔ تاہم خورشید ایڈووکیٹ کو احمد رضا قصوری کا ایک جملہ بہت ناگوار گزرا جو بقول ان کے احمد رضا قصوری نے ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو کیفر کردار تک پہنچایا تھا تو یہ وکلاء کیا چیز ہیں۔

 میرے پاس محدود راستے ہی تھے۔ یا میں گندے انڈے مارتا، یا گندے ٹماٹر مارتا یا پھر یہ کہ منہ سیاہ کرتا
محمد خورشید ایڈووکیٹ

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا اس سے مہذب احتجاج کا طریقہ کوئی اور نہیں تھا تو خورشید ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ شائستہ ترین طریقہ ہی تھا۔’میرے پاس محدود راستے تھے۔ یا میں گندے انڈے مارتا، یا گندے ٹماٹر مارتا یا پھر یہ کہ منہ سیاہ کرتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو ان کے خلاف مقدمہ درج ہواور وہ سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سپریم کورٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے احمد رضا قصوری نے اس کارروائی میں ملوث افراد کو وکلاء برادری پر بدنما دھبہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس واقعہ کی رپورٹ درج کرا دی ہے اور اس میں اعتزاز احسن، منیر اے ملک اور علی احمد کرد کے ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

احمد رضا قصوری
احمد رضا قصوری نے اپنا ہاتھ اور چشمہ بھی صحافیوں کو دیکھایا جن پر سیاہ سپرے کے نشانات موجود تھے

انہوں نے یہ معاملہ سپریم کورٹ کے بنچ کے سامنے بھی اٹھایا جس پر عدالت نے انہیں درخواست دائر کرنے کی ہدایت دی۔ تاہم انہوں نے شکایت کی کہ عدالت ایرے غیرے افراد کے کیسس میں تو ازخود نوٹس لیتی ہے لیکن انہیں درخواست دینے کے لیے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی شخصت ہیں اور اس کا سیاسی طریقے سے مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے اپنا ہاتھ اور چشمہ بھی صحافیوں کو دیکھایا جن پر سیاہ سپرے کے نشانات موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی آنکھوں پر حملہ کیا گیا تھا تاہم چشمے کی وجہ سے آنکھیں بچ گئیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ خورشید ایڈووکیٹ نے ایسا انتہائی قدم اٹھایا ہو۔ اس سے قبل سن دو ہزار دو میں پشاور میں اپنی جماعت کی جانب سے این اے ون پشاور سے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ واپس لینے پر انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے ایک اخباری کانفرنس میں اپنے ہاتھ میں گولی مار لی تھی۔ اس موقع پر سینئر پارٹی رہنما نصیر اللہ بابر بھی موجود تھے۔

پیپلز پارٹی نے انتخابی ایڈجسمنٹ کے تحت یہ نشست اے این پی کے حق میں چھوڑ دی تھی۔

دریں اثنا ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سیکرٹریٹ پولیس نے حکومتی وکیل احمد رضا قصوری کی درخواست پر خورشید خان ایڈووکیٹ کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 337 ایل کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے ۔

سیکرٹریٹ سرکل کے ڈی ایس پی گلفام ناصر وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مقدمہ صرف ایک شخص خورشید خان کے خلاف دوج کیا گیا ہے جبکہ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں سنئر وکلاء اعتزاز احسن، منیر اے ملک اور علی احمد کرد پر الزام لگایا تھا کہ ملزم نے یہ اقدام ان مزکورہ افراد کی ایما پر کیا ہے۔

اسی بارے میں
مشرف کے عہدے، سماعت پیر سے
14 September, 2007 | پاکستان
صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل
16 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد