BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 September, 2007, 09:09 GMT 14:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں کا احتجاج، وزیر کی پٹائی

صحافی نے سرکاری افطاریوں کےبائیکاٹ کا اعلان کیا ہے
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر سنیچر کو ہونے والے ہنگامے میں پولیس نے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم ایک مشتعل ہجوم کے تھپڑوں اور گھونسوں کا نشانہ بن گئے۔

قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کو چند مشتعل افراد نے پولی کلینک میں تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں پولی کلینک کے ڈاکٹروں نے انہیں مشتعل ہجوم سے نکال کر ایک کمرے میں چھپا دیا۔

جب اس واقعہ کی اطلاع اعلی حکام کو دی گئی تو انہوں نے پولیس کی بھاری نفری کو پولی کلینک بھیجا اور ان افراد کو پولیس کی حفاظت میں نکال لیا گیا۔

پولیس کے تشدد کے خلاف راولپنڈی اور اسلام آباد کے صحافیوں نے سنیچر کے روز وزیر اعظم شوکت عزیز کی طرف سے صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اس کے علاوہ اتوار کے روز یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

پولیس کے تشدد اور پتھراو کی وجہ سے بیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے جن میں چھ صحافی اور چودہ وکلاء شامل ہیں جبکہ اسلام آباد پولیس کے حکام نے دعوی کیا ہے کہ وکلاء کی طرف سے ہونے والے پتھراؤ کے باعث دس پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین کے مطابق وزیر مملکت برائے اطلاعات سینیٹر طارق عظیم نے ایک ایمبولنس میں چھپ کر الیکشن کمیشن کے اندر جانے کی کوشش کی تو ایک مشتعل ہجوم نے ان کی پٹائی کر دی۔

اس مشتعل ہجوم سے پولیس نے طارق عظیم کو بچایا اور پولیس کی گاڑی میں بیٹھا کر وہاں سے فرار ہونے میں مدد کی۔

صحافیوں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہی کی گاڑی کو بھی روکنے کی کوشش کی لیکن ان کے محافظوں نے صحافیوں کو بندوقوں کے بٹ مار کر گاڑی سے دور رکھا۔ وزیر اعلی کی گاڑی صحافیوں کے ہجوم کو چیرتی ہوئی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔

وزیر اعلیٰ پرویز الہی کی گاڑی کی ٹکر لگنے سے ایک مقامی رپورٹر الطاف بھٹی زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر پولی کلینک منتقل کر دیا گیا۔

وزیر اعظم شوکت عزیز نے ایک بار الیکشن کمیشن سے جانے کی کوشش کی لیکن وہ وہاں سے نہ نکل سکے اور اپنی گاڑی سے اتر کر دوبارہ الیکشن کمیشن کی عمارت کے اندر چلے گئے۔

صحافیوں کا احتجاج اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے ایک نجی ٹی وی چینل کی ٹیم پر تشدد کیا اور انہیں زخمی کر دیا۔

صحافیوں کے نمائندوں کے مطابق پولیس تشدد سے ایک درجن سے زائد صحافی، کیمرہ مین اور معاون عملے کے افراد زخمی ہوئے ہیں اور انہیں مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز گروپ سے تعلق رکھنے والے پچیس سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرکے قریبی تھانوں میں منتقل کردیا۔ ادھر پولیس نے علی احمد کُرد سمیت متعدد وکلاء کو رہا کردیا ہے۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے صدارتی اُمیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر امن وامان قائم رکھنے کے لیے پنجاب پولیس کے پندرہ سو سے زائد پولیس اہلکاروں کو شہر میں طلب کیا تھا۔

بی بی سی رپورٹنگ ٹیم انتخاب امیر، اعجاز مہر اور شہزاد ملک

اسی بارے میں
ٹی وی چینلوں کی نشریات معطل
29 September, 2007 | پاکستان
وکلاء تحریک نہیں رکے گی: کرد
29 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد