BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 October, 2007, 08:18 GMT 13:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی اخبارات کی سرخیاں

اخبارات میں جنرل اشفاق پرویز کیانی، اہم شخصیات کے لیے عام معافی کی تجویز اور اراکینِ پارلیمینٹ کے استعفے نمایاں موضوع رہے
فوج کے اعلیْ عہدوں پر نامزدگیاں، حزب مخالف کے ارکان اسمبلی کے استعفے اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدمات واپس لینے کی خبریں بدھ کو پاکستان کے قومی اخبارات کے سر ورق کی سرخیوں کا موضوع بنی ہیں۔

ان کے علاوہ صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف درخواستوں کے سماعت کےلیے فل بنچ کی تشکیل کے خبریں بھی نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔

’روزنامہ جنگ‘ کی سرخی ہے: ’جنرل اشفاق پرویز کیانی نئے آرمی چیف ہوں گے، پرویز مشرف کے عہدہ چھوڑنے پر منصب سنبھال لیں گے‘۔

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدمات کو واپس لینے کی خبر کو ’جنگ‘ نے سُپر لیڈ بنایا ہے: ’بےنظیر بھٹو کے خلاف مقدمات واپس لینے کا فیصلہ سیاستدانوں کو بدعنوانی کے کیسز میں معافی دینے کا آرڈیننس آج جاری ہوگا۔‘

’نوائے وقت‘ کے الفاظ ہیں: ’مشرف کے عہدہ چھوڑنے پر اشفاق کیانی کو فوجی سربراہ بنانے کا اعلان، وائس چیف مقرر کردیا گیا ‘۔

’روزنامہ ایکسپریس‘نے اسی خبر کو یوں شائع کیا ہے: ’جنرل اشفاق کیانی مشرف کے جانشین بن گئے، صدر کے وردی اتارتے ہی عہدہ سنبھال لیں گے، طارق مجید چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر‘۔

اسی خبر کو انگریزی روزنامہ ’ڈان‘ نے اس انداز میں شائع کیا ہے: ’کیانی فوج کے اعلیْ ترین عہدے پر نامزد‘۔

’ڈیلی ٹائمز‘ نے سرخی لگائی ہے: ’کیانی فوج کے نئے سربراہ ہونگے‘۔

’دی نیشن‘ نے جنرل اشفاق کیانی کی نامزدگی کی خبر کو یوں شائع کیا: ’کیانی فوج کی قیادت کریں گے ‘۔

’دی نیوز‘ نے فوج کے اعلیْ عہدوں پر نامزدگیوں کی خبر کو صرف دو کالم میں شائع کیا ہے۔ اخبار کے الفاظ ہیں ’کیانی نئے وائس چیف آف آرمی سٹاف، طارق مجید چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر‘۔

روزنامہ جنگ نے فوجی عہدوں پر نامزدگیوں کے حوالے سے خصوصی ایڈیشن بھی شائع کیا ہے۔

’ایکسپریس‘ کی لیڈ ہے: ’اے پی ڈی ایم کے 164 ارکان مستعفی، بلوچستان اور سندھ سے ایم ایم اے کے تین ارکان منحرف‘۔

’نوائے وقت‘ نےحزب مخالف کے ارکان اسمبلی کے استعفوں کو اپنی سپر لیڈ بنایا ہے: ’ق لیگ کے گیارہ ناراض ممبران سمیت اے پی ڈی ایم کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفیْ ، فیصلہ کن تحریک کا اعلان، کئی شہروں میں احتجاج ‘۔

قومی مفاہمت آرڈیننس کے بارے میں خبر کو’نوائے وقت‘ نے چار کالم میں یوں شائع کیا ہے: ’ قومی مفاہمت آرڈیننس لانے کا فیصلہ، حکومت بےنظیر کے خلاف مقدمات واپس لینے پر تیار، 85 سے99 تک مقدمات میں سیاست دانوں کو معافی، نواز شریف کو فائدہ نہیں ہوگا‘۔

’ڈیلی ٹائمز‘ نے اس خبر کی شہ سرخی جمائی ہے’ُُغیر سزا یافتہ سیاست دانوں کو عام معافی‘۔

قومی مفاہمت آرڈیننس پر ایم کیو ایم کے درعمل کو روزنامہ ’جنگ‘ کے صفحہ اول پر تین کالم میں شائع کیا ہے ’کریشن کے مقدمات کا خاتمہ، قوم کے مجرموں کو یک طرفہ ریلیف دینے کا فیصلہ قبول نہیں کریں گے، ایم کیو ایم ‘۔

’دی نیشن‘ نے عام معافی دینے کے بارے میں فیصلے کے لیے ان الفاظ کا انتخاب کیا: ’کابینہ نے ڈیل کی توثیق کردی‘ جبکہ ’دی نیوز‘ نے اس خبر کو یوں شائع کیا کہ ’ کابینہ نے بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدمات واپس لینے کی توثیق کردی‘۔

’روزنامہ ایکسپریس‘ کی خبر ہے ’سیاست میں حصہ نہ لینے کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا، بھگوان داس کا پنشن کیس روک لیا گیا‘۔ اسی اخبار میں ایک اور خبر ہے کہ’جسٹس بھگوان تین ہفتوں کی چھٹی پر چلے گئے‘۔

تمام قومی اخبارات نے صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے نو رکنی فل بنچ تشکیل دینے کی خبر کو بھی نمایاں شائع کیا ہے۔

’دی نیوز‘ کی خبر ہے’صدارتی امیدوار جسٹس وجیہہ الدین کے وکلاء نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں نورکنی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے‘۔

اخبار ’نوائے وقت‘ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ’ کیا بہتر ہوتا کہ جنرل پرویز مشرف نے پیپلزپارٹی سے جو مفاہمت کی وہ ملک کی دیگر جماعتوں سے بھی کرتے اور انہیں اپنے انتخاب کے لیے قائل کرتے۔ اب بھی انہیں صدارتی منصب سنبھالنے سے قبل سیاستدانوں کے ساتھ مل کر چلنے اور شیخ رشید کے بقول اپنا مزاج بدلنے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ وہ اب بے وردی صدر ہونگے‘۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ ’بے وردی صدر خواہ آٹھویں ترمیم سےلیس جنرل ضیاء الحق ہو نیشنل سیکیورٹی کونسل کی بیساکھی والا پرویز مشرف، حکومت اور وزیراعظم کا محتاج ہوتا ہے‘۔ اخبار کہتا ہے کہ ’اگر یہ منصب کسی واقعی سیاستدان کے پاس ہو تو صدر کے لیے بہت کچھ خلاف توقع ہوگا اور انہیں دن میں تارے نظر آنے شروع ہوجائیں گے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد