حکم امتناعی فیصلہ جمعہ کو متوقع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ میں صدارتی امیداروں جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین اور مخدوم امین فہیم کی طرف سے صدارتی انتخابات کے خلاف حکم امتناعی کی دوخواستوں پر فیصلہ جمعہ کو متوقع ہے۔ دونوں صدارتی امیدواروں کی طرف سے صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے سے متعلق چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت سپریم کو رٹ کا ایک دس رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے۔ جمعرات کے روز سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکم امتناعی کی دوخواستوں پر صدارتی امیدوار جسٹس وجیہہ الدین کے وکیل حامد خان، مخدوم امین فہیم کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور قانون دان فاروق حسن کے دلائل سنے۔ جواب میں اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کے دلائل جاری تھے کہ سماعت جمعہ تک ملتوی ہوگی۔ جمعہ کے روز عدالت صدر مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ اور حکومتی وکیل وسیم سجاد کے دلائل سنے گی۔ شریف الدین پیرزادہ اور وسیم سجاد نے اپنے دلائل مکمل کرنے کے لیے چالیس چالیس منٹ کا وقت مانگا ہے۔ صدارتی اُمیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب سے ملک میں افراتفری پھیلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کی معیاد پندرہ نومبر کو ختم ہو رہی ہے اور آئین کے مطابق صدارتی انتخابات پندرہ نومبر کے بعد ہونے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے صدارتی انتخاب کے سلسلے میں جو صدارتی انتخاب کے رولز میں ترامیم کی ہیں وہ قاضی حسین احمد اور پاکستان لائرز فورم کی آئینی درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں کیے ہیں جن میں صدر کی اہلیت کے بارے میں بات ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کو ان درخواستوں کے فیصلے تک ملتوی کردیا جائے۔
حامد خان نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کو وردی سمیت الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ ایک سرکاری ملازم سروس میں رہتے ہوئے انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا۔ ابنہوں نے کہ جنرل پریز مشرف نے متعدد بار آئین کی خلاف ورزی کی ہے جس پر جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنرل مشرف نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے تو پارلیمنٹ نے اس کی تائید کی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ان آئینی درخواستوں کی سماعت تک صدارتی انتخاب ملتوی کردیا جائے۔بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن شیڈول کو ان درخواستوں کے فیصلے تک ملتوی کردیا جائے یا پھر دوسری طرف ان درخواستوں کی سماعت ہوتی رہے اور صدارتی الکشن ہوگئے اور جنرل پرویز مشرف صدر منتخب ہوگئے تو کیا منتخب صدر کو اتارنا مناسب ہوگا اور آیا کیا پوری قوم اس بات کو ہضم کر پائے گی۔ حامد خان نے کہا کہ آئندہ صدر کا انتخاب عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی اسمبلیاں کریں گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چھ اکتوبر کو صدارتی انتخاب ہوگئے تو ملک کے سولہ کڑور عوام کے جذبات متاثر ہوں گے۔ جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے جذبات اپنی جگہ لیکن یہاں پر فیصلہ میرٹ پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں میں متعدد لوگ ایسے بیٹھے ہیں کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ انہوں نے کدھر جانا ہے۔
پیپلز پارٹی پارلیمنٹرنز کےصدارتی امیدوار مخدوم امیں فہیم کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قوم اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے بینچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ایک بارودی شخص کو صدر کا الیکشن لڑنا چاہیے یا عوام کو حکومت کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب پارلیمنٹ کے تقدس کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ اعتراض الیکشن کمیشن کے سامنے بھی اُٹھایا تھا لیکن ان کا یہ عتراض تسلیم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اسمبلی جو اپنی آئینی مدت پوری کرنے جا رہی ہے وہ کس طرح مستقبل کے صدر کا انتخاب کرسکتی ہے۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ دوسرے ملکوں میں بہت بُرے حالات بھی آتے ہیں لیکن وہاں پر فوج مداخلت نہیں کرتی جبکہ پاکستان میں فوج اقتدار میں آنے کےبہانے ڈھونڈتی ہے۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان درخواستوں میں جو نکات اُٹھائے گئے ہیں وہ بد نیتی پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان نکات کے بارے میں سپریم کورٹ اپنا فیصلہ صدر کے دو عہدے رکھنے کے بارے میں دائر کی جانے والی درخواستوں میں دے چکی ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر کے دو عہدے رکھنے کے بارے میں سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کی اکثریت نے فیصلہ دیا ہے اس میں صدر مشرف کو وردی میں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی ۔
جسٹس رمدے نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اگر صدارتی انتخابات کو دس روز کے لیے ملتوی کردیا جائے تو کیا ہوگا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس سے دنیا میں جگ ہنسائی ہوگی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر عدالت نے حکم امتناعی جاری کردیا تو اس عرصے میں سرحد اسمبلی ٹوٹ جائے گی ۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ ہم نے پوری دنیا کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا اور ہمیں خدشات پر نہیں چلنا چاہیے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو سیاست میں نہیں آنا چاہیے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان کے دس رکنی لارجر بینچ نے صدارتی امیدوار جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین کے اس بیان پر برہمی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض کیا تھا۔ جب آئینی درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں جسٹس وجیہہ الدین نے جو بینچ کی تشکیل سے متعلق جو ریمارکس دیئے ہیں وہ انتہائی ہتک آمیز ہیں اور یہ ریمارکس دیتے ہوئے انہوں نے تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔
جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اگر بینچ لوگوں کی مرضی کے مطابق بننے لگیں تو اس ادارے کا کیا بنے گا۔ انہوں نے جسٹس وجیہہ الدین کے وکیل حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس پر حامد خان نے کہا یہ عدالت کے دائرہ کار میں ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عدالت کا مذاق اڑانے کا سلسلہ بند ہوتا چاہیے۔ اس موقع پر جسٹس نواز عباسی نے میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہر ٹی وی چینل نے ایک علیحدہ عدالت لگا رکھی ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ہر گیم کے کچھ اصول ہوتے ہیں، چینل عدالت عدالت کھیلنا بند کریں۔ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا کہ عوامی مفاد کے معاملات پر بحث میڈیا کا حق ہے لیکن ہر ادارے کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نو مارچ کو جو کچھ ہوا اس طرح کی انہونیاں ہوتی رہتی ہیں جو لوگوں کو برداشت کرنی چاہیے۔ بینچ میں شامل ججوں نے اٹارنی جنرل کو بھی ٹی وی چینلوں پر دیئے گئے بیانات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ جسٹس جاوید اقبال نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آپ کو سن رہے ہیں تو یہ قومی مفاد میں سن رہے ہیں، جسٹس وجیہہ الدین کی وجہ سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فریقین کو بینچ پر اعتماد نہیں ہے تو اس کارروائی کو آگے چلانا مشکل ہے۔ اس موقع پر نے بینچ نے پندرہ منٹ کے لیے عدالت کی کارروائی روک دیا اور جب جج صاحبان عدالت میں واپس آئے تو انہوں نے کہا کہ وہ قومی مفاد میں عدالت کی کارروائی جاری رکھیں گے۔ | اسی بارے میں عدالت عظمیٰ کا نو رکنی بینچ ٹوٹ گیا03 October, 2007 | پاکستان ’پارلیمنٹ نے بیساکھیاں دیں‘24 September, 2007 | پاکستان ’فوجی افسر کی نامزدگی جرم‘26 September, 2007 | پاکستان حکمران مسرور، اپوزیشن مایوس28 September, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ اخبارات کی شہ سرخیوں میں29 September, 2007 | پاکستان صحافیوں پر تشدد کا ازخود نوٹس30 September, 2007 | پاکستان بادشاہ مرگیا، بادشاہ زندہ باد!30 September, 2007 | پاکستان آئینی درخواستوں کے لیے لارجر بنچ02 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||