حکمران مسرور، اپوزیشن مایوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کی نو رکنی بینچ کی جانب سے صدر مشرف کے دو عہدوں کے خلاف دائر پٹیشن کو خارج کرنے پر اپوزیشن جماعتوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ تاہم حکمران جماعتوں کا کہنا ہے جس طرح اپوزیشن جماعتوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کا فیصلہ تسلیم کیا اسی طرح اس فیصلے کو بھی دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔ پاکستان مسلم لیگ کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کو صدر مشرف کے حق میں دیئے گئے فیصلے پر عدلیہ کو ہی مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے بلکہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا اگرچہ قوم کو اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ایسا فیصلہ آنے کا پہلے سے ادراک تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے قاضی حسین احمد اور عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی درخواستیں واپس لے لیں کیونکہ ’اس میں کوئی توقع نہیں ہے کہ اس کیس میں ایسا فیصلہ آسکے جو قوم کی امنگوں کے مطابق ہو۔‘ انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کی جو فضاء تھی اس سے صاف ظاہر تھا کہ عدالت ان درخواستوں کو بوجھ محسوس کررہی ہے۔
جاوید ہاشمی نے کہا کہ ان کے اس مشورے پر قاضی حسین احمد اور عمران خان دونوں کا یہی کہنا تھا کہ اگر وہ اپنی درخواستیں واپس بھی لے لیں تب بھی دوسری درخواستیں بھی عدالت میں موجود ہیں اور کورٹ اس پر فیصلہ کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا موقف تھا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی جدوجہد اور سیاسی فیصلوں کے ذریعے فوجی حکمرانوں کا سامنا کرنا چاہیے۔ ’وہ فیصلے وہی ہیں جو اب اے پی ڈی ایم نے کئے ہیں ان میں سے اسمبلیوں اجتماعی طور پر استعفی دینے کا فیصلہ بہت بڑا فیصلہ ہے اور صدارتی انتخاب سے الگ تھلگ رکھا جائے اور قوم کو یہ پیغام دیا جائے کہ پندرہ دن کی پارلیمنٹ پانچ سال کا صدر مسلط کرسکتی ہے قوم پر۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اپنی جگہ لیکن سیاسی جماعتوں کو قوم کی رہنمائی کرنی ہے اور عدلیہ کو بھی آزاد کرانا ہے۔ ’یہ تیسری دنیا کا ملک ہے جہاں پر عدلیہ کتنی آزاد ہوتی ہے ہمیں اسکا اندازہ ہونا چاہیے اور یہ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم عدلیہ کو بھی آزاد کرائیں اور قوم کو بھی آزاد کرائیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے سیاسی جماعتوں کو دوسرے طریقے اختیار کرنا ہوں گے، عوام کی عدالت میں جانا ہوگا اور آپس کے اختلافات کو دور کرکے یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ’میں نہیں سمجھتا کہ ہم صرف عدلیہ کو ہی ذمہ دار ٹھہرائیں اس میں ہماری بھی ذمہ داریاں بھی ہیں اور بحیثیت سیاستدان ہمیں ان ذمہ داریوں کو قبول کرنا چاہیے۔‘
’ہم نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کیا تھا اور اب دوسروں کو بھی صدر کے دو عہدوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنا چاہیے۔‘ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں جائیں گے تاکہ فل کورٹ میں اس کی سماعت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پٹیشن دو عہدوں کےبارے میں تھی جو مستقبل کے حوالے سے ہے وہ تو کل سے دنگل شروع ہوگا کیونکہ اپوزیشن اور وکلا کی جو لڑائی ہے وہ ون ڈے میچ نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالت نے پورا بوجھ پارلیمنٹ پر ڈال دیا تھا، جبکہ اسی پارلیمنٹ کا اختیار نظریہ ضرورت کے تحت ایک فرد واحد کو آئین میں ترمیم کا اختیار دے دیا تھا۔ حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ نظریہ ضرورت کی پیدائش ہی سپریم کورٹ میں ہوئی ہے جبکہ جسٹس جاوید نے کہا تھا کہ نظریہ ضروت دفن ہوچکا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ پالنے میں تھا اب وہ توانا ہوچکا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت اپنی سمجھ کے مطابق جو فیصلہ کرتی ہے وہ آپ کی نظر میں صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی، البتہ آپ پر یہ لازم ہوتا ہے کہ آپ اس فیصلے کی خلاف ورزی نہ کریں ۔ رسول بخش پلیجو کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کو خوش آئند نہیں، انتہائی مایوس کن سمجھتے ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کے قانون کے مطابق جو ہمارا فہم و ادراک تھا یہ فیصلہ اس کے مطابق عدالتوں کے فیصلوں کے اثرات ہوتے ہیں جس طرح جسٹس منیر نے فیصلہ کیا تھا آگے چل کر اس کے تاریخی اثرات پڑے وہ خراب ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلوں کی عمر بہت لمبی ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ سماج اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ حکمران جماعت اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے یہ ایک خوش آئند فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کی باتیں کی جاتی ہیں مطلب میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو ۔ فاروق ستار کے مطابق جو فیصلہ میرے حق میں ہو وہ مجھے قبول ہو اور جو فیصلہ میرے خلاف ہو وہ مجھ قبول نہ ہو اس کا مطلب یہ ہوا کہ چٹ بھی میری اور پٹ بھی میری، تو پھر عدالتوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، تنظیم کے رہنما مخدوم امین فہیم کا کہنا ہے کہ وہ صدر مشرف کی حمایت میں دستبردار نہیں ہوں گے۔ | اسی بارے میں ’یہ میرا پاکستان ہے‘28 September, 2007 | قلم اور کالم عدالت کے دماغ میں جھانکنے کی کوشش27 September, 2007 | پاکستان چیف الیکشن کمشنر کی تقرری چیلنج 28 September, 2007 | پاکستان فیصلے پر مایوسی، جدوجہد کا عزم28 September, 2007 | پاکستان فیصلہ صدر جنرل مشرف کے حق میں28 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||