چیف الیکشن کمشنر کی تقرری چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ میں ایک وکیل نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کو چیلنج کیا ہے۔ سندھ بار کونسل کے رکن سہیل حمید ایڈووکیٹ نے جمعہ کو ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست داخل کی ہے جس میں انہوں نے صدر پاکستان، چیف الیکشن کمشنر اور آئندہ صدارتی انتخاب کے لیے صوبہ سندھ میں پریذائڈنگ آفیسر کو جوابدہ بنایا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 213 کے سب آرٹیکل 2 کے تحت چیف الیکشن کمشنر بننے کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار نے کم سے کم پانچ سالوں تک ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے فرائض ادا کئے ہوں اور وہ سپریم کورٹ کا بھی جج رہا ہو لیکن موجودہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) اس شرط کو پورا نہیں کیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر 1996ء میں پشاور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے اور فروری 2000ء میں ترقی پاکر سپریم کورٹ کے جج کے عہدے پر فائز ہوئے تھے اس طرح انہوں نے پانچ کی بجائے چار سال تک ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے فرائض انجام دیے تھے اور وہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تقرری کے اہل نہیں تھے۔ درخواست گزار نے چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے صدارتی انتخاب کے لیے اعلان کردہ انتخابی شیڈول کو بھی چیلنج کیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کی تقرری کو غیرقانونی قرار دیا جائے اور انہیں روکا جائے کہ وہ صدارتی انتخاب کا انقعاد نہ کرائیں۔ سہیل حمید کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی آئینی درخواست کے ساتھ ایک اور درخواست بھی داخل کی ہے جس میں انہوں نے عدالت سے پٹیشن کی جلد سماعت کرنے کی استدعا کی ہے۔ | اسی بارے میں ’تبدیلی عدالتی فیصلوں کے تحت ‘17 September, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو20 September, 2007 | پاکستان مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع27 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||