’تبدیلی عدالتی فیصلوں کے تحت ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں صدارتی انتخاب کے قانون میں گزشتہ دنوں ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلی عدالتی فیصلوں کی روشنی میں لائی گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے جاری کیئے گئے بیان میں سپریم کورٹ کے پاکستان لائرز فورم اور قاضی حسین احمد کے دو ہزار پانچ اور دو ہزار دو کے مقدمات کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صدر پر آئین کے آرٹیکل تریسٹھ میں دی گئی نااہلی کی شرائط لاگو نہیں ہوتیں۔ بیان کے مطابق اس قانون پر نظر ثانی کی گئی ہے اور یہ کسی ایک شخص سے متعلق نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ اس قانون کا اطلاق تمام صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال پر ہوگا۔ اس قانون میں حالیہ ترمیم پر قانونی ماہرین تقسیم دکھائی دیتے ہیں،معروف وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن عدالتی فیصلوں کو غلط رنگ دیکر پیش کر رہا ہے۔ یہ ترمیم رٹرننگ افسر کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے اختیارت سے تعلق رکھتی ہے، اس ترمیم کا ذکر پیر کو سپریم کورٹ میں بھی ہوا جس پر عدالت کا ایک ریمارک میں کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن سے آئین کا آرٹیکل تریسٹھ ختم نہیں ہوجاتا۔ پاکستان لایئرز فورم کے اے کے ڈوگر جن کے مقدمے کا حوالہ الیکشن کمیشن دے رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ انتخاب سے پہلے ہی دھاندلی شروع ہوگئی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی اس آرٹیکل کو ختم کیا جاسکتا ہے کسی نوٹیفیکشن کے ذریعے نہیں۔ اے کے ڈوگر کا موقف تھا کہ نوٹیفکیشن تو ثانوی قانون کی حیثیت بھی نہیں لے سکتا۔ | اسی بارے میں اسمبلی سے استعفے: APDM کا اعلان16 September, 2007 | پاکستان قوانین میں ترمیم: ماہرین میں اختلاف16 September, 2007 | پاکستان ’استعفوں کی کوئی اہمیت نہیں‘16 September, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب: اخبارات کی سرخیاں16 September, 2007 | پاکستان ’ماتحت ادارہ آئین میں کیسے ترمیم کر سکتا ہے‘ 17 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||