مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم شوکت عزیز نے صدر جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب کراونے کے لئے ان کے کاغذات نامزدگی جمعرات کی صبح الیکشن کمیشن میں جمع کر دیے۔ ان کے علاوہ جن امیدواروں کے کاغذات اسلام آباد میں جمع کرائے گئے ہیں ان میں وکلاء کے امیدوار جسٹس وجیہہ الدین احمد اور پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم شامل ہیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لئے وزیر اعظم شوکت عزیز، حکمراں مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین، تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء سمیت الیکشن کمیشن پہنچے۔ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی وہاں موجود نہیں تھے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق صدر کی جانب سے ان کے سترہ کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں جن میں سے ایک میں وزیر اعظم شوکت عزیز ان کے تجویز کنندہ جبکہ وفاقی وزیر ثقافت غازی گلاب جمال تائید کنندہ ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) محمد فاروق نے اپنے دفتر میں صدر مشرف کے کاغذات وصول کیے۔اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ جنرل مشرف کامیاب ہو جائیں گے جس سے ملک میں جمہوریت مستحکم ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں کہ اعتزاز احسن کے مطابق صدر کو تجویز اور تائید کرنے والوں کو سزا ہوسکتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’اعتزاز جج ہیں یا وکیل؟‘ کاغذات نامزگی جمع کرانے کے موقع پر الیکشن کمیشن کے اردگرد سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ بھاری تعداد میں کمانڈو پولیس تعینات تھی اورعمارت کے اندر صرف سرکاری میڈیا کو جانے کی اجازت تھی۔ کاغذات نامزدگی کے علاوہ وسیم سجاد نے صدر کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر کاغذات بھی جمع کرائے جبکہ سینیٹ چیئرمین محمد میاں سومرو نے صدر کے متبادل یا کورنگ امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کروائے۔ الیکشن کمیشن نے تینوں اہم امیدواروں سے تین علیحدہ علیحدہ اوقات میں کاغذات وصول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس موقع پر خطاب میں وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ وہ ایک قومی فریضہ ادا کرنے کی غرض سے یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ وکلاء کو پولیس نے اسلام آْباد نہیں آنے دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان وکلاء کو تسلی دی ہے کہ یہ پولیس جلد ان کے ماتحت ہوگی۔ ان کے تجویز اور تائید کنندہ جماعت اسلامی کے سینیٹر خورشید احمد اور سینیٹر ابراہیم بھی ان کے ہمراہ تھے۔ الیکشن کمیشن میں تیسرے کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے امیدوار پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم تھے۔ وہ خود نہیں آئے بلکہ ان کی جگہ جماعت کی رہنما ناہید خان نے کوئی ایک درجن کارکنوں کے ہمراہ کاغذات جمع کروائے۔ ان تین بڑے امیدواروں کے علاوہ لاہور کے کنگ ایڈورڈز میڈیکل کالج کے ایک سابق پروفیسر سید اقتدار حیدر نے بھی کاغذات جمع کرانے کی کوشش کی لیکن تجویز اور تائید کنندہ نہ ہونے کی وجہ سے انہوں قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے تجویز اور تائید کنندہ کے کالم میں ’پاکستانی عوام‘ لکھا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جسٹس وجہیہ الدین نے تین کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں جن میں ان کے تمام تجویز اور تائید کندہ سینیٹ سے تھے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے دی جانے والی رسیدیں بھی میڈیا کو دکھائی جن کے بارے میں ان کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ رسیدوں کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔ منیر اے ملک نے بتایا کہ جمعرات کی صبح ان کے ہوٹل سے اسلام آباد پولیس نے انہیں اور علی احمد کررد کو حفاظتی حراست میں لے لیا ہے اور انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ جمعرات کی رات سرکاری مہمان ہوں گے۔ البتہ انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔ لاہور سے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے ایک کاغذات نامزدگی لاہور میں بھی جمع کرائے گئے ہیں۔یہ کاغذات جمع کروانے کے لیے دو خاتون اراکین اسمبلی ریٹرنگ افسر کے دفتر آئیں تھیں۔ حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والی خواتین کنول نسیم اور گلشن ملک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ تو نہیں بتایا کہ کاغذات پرصدر مشرف کے دستخط موجود ہیں یا نہیں۔البتہ انہوں نے یہ وضاحت ضرور کی کہ ان کے اس اقدام کا پارٹی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔
صوبہ سرحد سے کاغذات نامزدگی پشاور میں جن امیدواوں نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ان میں صوابی سے تعلق رکھنے والے آل پاکستان ہمدرد فلاحی تنظیم کے چئیرمین سردار محمد رفیق خانزادہ، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سابق رہنما اعتبار خان ایڈوکیٹ اور انکم ٹیکس ڈیپارٹمینٹ پشاور کے لوئر ڈویژن کلرک منیر احمد شیرازی شامل ہیں۔ ان امیدواروں میں کسی امیدوار کے نامزدگی فارم مکمل نہیں تھے ، کسی کے کاغذات پر تجویزکندہ کے دستخط نہیں تھے تو کسی کا تائید کندہ نہیں تھا تاہم امیدواروں کا کہنا تھا کہ کاغذات کے جانچ پڑتال سے قبل وہ اپنے اپنے کاغذات مکمل کرلیں گے۔ صوبہ بلوچستان جمعرات کو بلوچستان سے صدرات کے لیے ایک بھی امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے۔ صوبائی الیکشن کمشنر سونو خان بلوچ کے مطابق دو امیدواروں نے فارم حاصل کیے تھے ان میں ایک استاد ہیں اور دوسرے ڈاکٹر بتائے گئے ہیں۔ الیکشن کمشنر کے مطابق کسی بھی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے اس لیے اب باقی کوئی کارروائی کوئٹہ میں نہیں ہوگی۔
صوبہ سندھ فارم جمع کروانے والوں میں آصف علی زداری کی بہن فریال تالپر بھی شامل ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار مخدوم امین فہیم کی کورننگ امیدوار ہیں، انہوں نے دو نامزدگی فارم جمع کروائے ہیں۔صدارتی انتخاب کے تیرہ امیدواروں کا کوئی تجویز یا تائید کنندہ نہیں ہے۔ تمام امیدواروں کو جانچ پڑتال کے سلسلے میں انتیس ستمبر کو اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سندھ میں کل چونتیس فرام وصول کیے گئے تھے اور فارم وصول کرنے والوں میں سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم بھی شامل تھے۔ اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کنور محمد دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لئے ملک بھر سے اٹھانوے کے قریب افراد نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں صدارتی انتخاب کے لیے اٹھاون افراد نے صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔ کاغذات نامزدگی حاصل کرنے والوں میں خواتین، سابق فوجی اور غیر مسلم بھی شامل ہیں۔ صدارتی انتخاب کے لئے کاغذات نامزدگی حاصل کرنے اور جمع کرانے کے لیے کوئی فیس نہیں ہے۔ کاغذات کی جانچ پڑتال انتیس ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگی۔ |
اسی بارے میں صدارتی انتخاب، سکیورٹی سخت26 September, 2007 | پاکستان سترہ استعفے، قیادت کے حوالے26 September, 2007 | پاکستان ’ان اسمبلیوں سے دو بار صدر نہیں‘26 September, 2007 | پاکستان کاغذاتِ نامزدگی: شاہراہِ دستور تین دن کے لیے بند27 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||