BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 September, 2007, 05:30 GMT 10:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع

صدر جنرل پرویز مشرف
صدر مشرف کی ٹیم نے سب سے پہلے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے
وزیر اعظم شوکت عزیز نے صدر جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب کراونے کے لئے ان کے کاغذات نامزدگی جمعرات کی صبح الیکشن کمیشن میں جمع کر دیے۔

ان کے علاوہ جن امیدواروں کے کاغذات اسلام آباد میں جمع کرائے گئے ہیں ان میں وکلاء کے امیدوار جسٹس وجیہہ الدین احمد اور پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم شامل ہیں۔

طے شدہ پروگرام کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لئے وزیر اعظم شوکت عزیز، حکمراں مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین، تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء سمیت الیکشن کمیشن پہنچے۔ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی وہاں موجود نہیں تھے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق صدر کی جانب سے ان کے سترہ کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں جن میں سے ایک میں وزیر اعظم شوکت عزیز ان کے تجویز کنندہ جبکہ وفاقی وزیر ثقافت غازی گلاب جمال تائید کنندہ ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) محمد فاروق نے اپنے دفتر میں صدر مشرف کے کاغذات وصول کیے۔اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ جنرل مشرف کامیاب ہو جائیں گے جس سے ملک میں جمہوریت مستحکم ہوگی۔

وجیہہ الدین احمد تقریباً سو وکلاء کے ایک جلوس کے ساتھ الیکشن کمیشن پہنچے
صحافیوں کے استفسار پر کہ صدر نے کاغذات بطور جنرل پرویز مشرف یا صرف ایک سویلین کی حیثیت سے جمع کرائے ہیں، پنجاب کے وزیر اعلٰی چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر کے کاغذات سترہویں ترمیم کے تحت بطور جنرل پرویز مشرف جمع کرائے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ اعتزاز احسن کے مطابق صدر کو تجویز اور تائید کرنے والوں کو سزا ہوسکتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’اعتزاز جج ہیں یا وکیل؟‘

کاغذات نامزگی جمع کرانے کے موقع پر الیکشن کمیشن کے اردگرد سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ بھاری تعداد میں کمانڈو پولیس تعینات تھی اورعمارت کے اندر صرف سرکاری میڈیا کو جانے کی اجازت تھی۔

کاغذات نامزدگی کے علاوہ وسیم سجاد نے صدر کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر کاغذات بھی جمع کرائے جبکہ سینیٹ چیئرمین محمد میاں سومرو نے صدر کے متبادل یا کورنگ امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کروائے۔

الیکشن کمیشن نے تینوں اہم امیدواروں سے تین علیحدہ علیحدہ اوقات میں کاغذات وصول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کاغذات نامزدگی جمع کر انے والے تین اہم امیداوروں میں پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم شامل تھے
وکلاء برادری کے متفقہ امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد بھی سپریم کورٹ سے پیدل تقریباً سو وکلاء کے ایک جلوس کے ساتھ الیکشن کمیشن پہنچے۔تمام راستے وکلاء صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف بھرپور نعرہ بازی کرتے رہے۔ ’گو مشرف گو‘ کے علاوہ وہ ’مشرف تیری اڑ گئی نیند، وجیہہ الدین وجیہہ الدین‘ کا نعرہ بھی بلند کرتے رہے۔ جلوس کے ہمراہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رہنما منیر اے ملک اور علی احمد کرد بھی تھے۔

اس موقع پر خطاب میں وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ وہ ایک قومی فریضہ ادا کرنے کی غرض سے یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ وکلاء کو پولیس نے اسلام آْباد نہیں آنے دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان وکلاء کو تسلی دی ہے کہ یہ پولیس جلد ان کے ماتحت ہوگی۔ ان کے تجویز اور تائید کنندہ جماعت اسلامی کے سینیٹر خورشید احمد اور سینیٹر ابراہیم بھی ان کے ہمراہ تھے۔

الیکشن کمیشن میں تیسرے کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے امیدوار پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم تھے۔ وہ خود نہیں آئے بلکہ ان کی جگہ جماعت کی رہنما ناہید خان نے کوئی ایک درجن کارکنوں کے ہمراہ کاغذات جمع کروائے۔

ان تین بڑے امیدواروں کے علاوہ لاہور کے کنگ ایڈورڈز میڈیکل کالج کے ایک سابق پروفیسر سید اقتدار حیدر نے بھی کاغذات جمع کرانے کی کوشش کی لیکن تجویز اور تائید کنندہ نہ ہونے کی وجہ سے انہوں قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے تجویز اور تائید کنندہ کے کالم میں ’پاکستانی عوام‘ لکھا تھا۔

دو اعتراضات
 منیر اے ملک نے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دو اعتراضات الیکشن کمیشن کو پیش کیے ہیں۔ ان میں سے ایک بقول ان کے صدر کے کاغذات نامزدگی دفتری اوقات سے قبل یعنی پونے نو بجے کے قریب وصول کرنا اور دوسرا اعتراض صرف سرکاری میڈیا کو کمیشن کے اندر کی کارروائی دیکھانے کی اجازت دینے سے متعلق ہے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے منیر اے ملک نے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دو اعتراضات الیکشن کمیشن کو پیش کیے ہیں۔ ان میں سے ایک بقول ان کے صدر کے کاغذات نامزدگی دفتری اوقات سے قبل یعنی پونے نو بجے کے قریب وصول کرنا اور دوسرا اعتراض صرف سرکاری میڈیا کو کمیشن کے اندر کی کارروائی دیکھانے کی اجازت دینے سے متعلق ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جسٹس وجہیہ الدین نے تین کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں جن میں ان کے تمام تجویز اور تائید کندہ سینیٹ سے تھے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے دی جانے والی رسیدیں بھی میڈیا کو دکھائی جن کے بارے میں ان کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ رسیدوں کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔

منیر اے ملک نے بتایا کہ جمعرات کی صبح ان کے ہوٹل سے اسلام آباد پولیس نے انہیں اور علی احمد کررد کو حفاظتی حراست میں لے لیا ہے اور انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ جمعرات کی رات سرکاری مہمان ہوں گے۔ البتہ انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے ایک کاغذات نامزدگی لاہور میں بھی جمع کرائے گئے ہیں۔یہ کاغذات جمع کروانے کے لیے دو خاتون اراکین اسمبلی ریٹرنگ افسر کے دفتر آئیں تھیں۔

حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والی خواتین کنول نسیم اور گلشن ملک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ تو نہیں بتایا کہ کاغذات پرصدر مشرف کے دستخط موجود ہیں یا نہیں۔البتہ انہوں نے یہ وضاحت ضرور کی کہ ان کے اس اقدام کا پارٹی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔

صوبہ سرحد سے تین
 صوبہ سرحد سے ایک سرکاری ملازم سمیت تین افراد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ اس موقع پر ہائی کورٹ کے باہر اور اندر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے جبکہ عمارت کے اردگرد اور سڑک پر پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات تھی
لاہور میں دس دیگر افراد نے بھی صدراتی کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق صدر مشرف کے سوا کسی کو بھی تائید و تجویز کنندہ نہیں مل سکا۔

صوبہ سرحد سے کاغذات نامزدگی
پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق صوبہ سرحد سے ایک سرکاری ملازم سمیت تین افراد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ اس موقع پر ہائی کورٹ کے باہر اور اندر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے جبکہ عمارت کے اردگرد اور سڑک پر پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات تھی۔

پشاور میں جن امیدواوں نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ان میں صوابی سے تعلق رکھنے والے آل پاکستان ہمدرد فلاحی تنظیم کے چئیرمین سردار محمد رفیق خانزادہ، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سابق رہنما اعتبار خان ایڈوکیٹ اور انکم ٹیکس ڈیپارٹمینٹ پشاور کے لوئر ڈویژن کلرک منیر احمد شیرازی شامل ہیں۔

ان امیدواروں میں کسی امیدوار کے نامزدگی فارم مکمل نہیں تھے ، کسی کے کاغذات پر تجویزکندہ کے دستخط نہیں تھے تو کسی کا تائید کندہ نہیں تھا تاہم امیدواروں کا کہنا تھا کہ کاغذات کے جانچ پڑتال سے قبل وہ اپنے اپنے کاغذات مکمل کرلیں گے۔

صوبہ بلوچستان
کوئٹہ سے نامہ نگار عزیزاللہ خان کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں صدارتی انتخاب کے حوالے سے جہاں گہما گہمی عروج پر پہنچ رہی ہے وہاں بلوچستان میں مکمل خاموشی ہے۔

جمعرات کو بلوچستان سے صدرات کے لیے ایک بھی امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے۔ صوبائی الیکشن کمشنر سونو خان بلوچ کے مطابق دو امیدواروں نے فارم حاصل کیے تھے ان میں ایک استاد ہیں اور دوسرے ڈاکٹر بتائے گئے ہیں۔

الیکشن کمشنر کے مطابق کسی بھی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے اس لیے اب باقی کوئی کارروائی کوئٹہ میں نہیں ہوگی۔

افواہیں
 صدر جنرل پرویز مشرف کے حالیہ دورے کے دوران کوئٹہ میں یہ افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ ان کے کاغذات نامزدگی کوئٹہ میں جمع کرائے جائیں گے اور وزیر اعلی بلوچستان جنرل مشرف کے تجویز کنندہ ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف کے حالیہ دورے کے دوران کوئٹہ میں یہ افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ ان کے کاغذات نامزدگی کوئٹہ میں جمع کرائے جائیں گے اور وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف جنرل پرویز مشرف کے تجویز کنندہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ کورنگ امیدوار بلوچستان سے ہو گا لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔

صوبہ سندھ
کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صوبے سندھ کے چودہ امیدواروں کی جانب سے پندرہ نامزدگی فارم جمع کروائے گئے ہیں۔

فارم جمع کروانے والوں میں آصف علی زداری کی بہن فریال تالپر بھی شامل ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار مخدوم امین فہیم کی کورننگ امیدوار ہیں، انہوں نے دو نامزدگی فارم جمع کروائے ہیں۔صدارتی انتخاب کے تیرہ امیدواروں کا کوئی تجویز یا تائید کنندہ نہیں ہے۔

تمام امیدواروں کو جانچ پڑتال کے سلسلے میں انتیس ستمبر کو اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ میں کل چونتیس فرام وصول کیے گئے تھے اور فارم وصول کرنے والوں میں سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم بھی شامل تھے۔

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کنور محمد دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لئے ملک بھر سے اٹھانوے کے قریب افراد نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں صدارتی انتخاب کے لیے اٹھاون افراد نے صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن کمیشن اسلام آباد سے بائیس افراد نے کاغذات حاصل کیے ہیں جبکہ سندھ اورسرحد سے آٹھ آٹھ اور بلوچستان سے دو افراد نے کاغدات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔

کاغذات نامزدگی حاصل کرنے والوں میں خواتین، سابق فوجی اور غیر مسلم بھی شامل ہیں۔ صدارتی انتخاب کے لئے کاغذات نامزدگی حاصل کرنے اور جمع کرانے کے لیے کوئی فیس نہیں ہے۔ کاغذات کی جانچ پڑتال انتیس ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگی۔

صدر کا حلقہ انتخاب
’مسئلہ انتخاب کا نہیں اخلاقی جواز کا ہے‘
جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمدامیدوار کا عزم
اس کاز میں ہم ضرور جیتیں گے: وجیہ الدین
جسٹس(ر)وجیہہ الدینبراہِ راست چیلنج
وکلا کا صدر مشرف کو براہِ راست چیلنج ہے۔
 جاوید ہاشمی’ملک کی تباہی‘
فوج کے سیاسی کردار سے مزید تباہی ہوگی: ہاشمی
بے نظیر بھٹو ڈاکٹر قدیر پر بیان
’بےنظیر بھٹو نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں‘
صدر مشرفصدارتی انتخابات
حزبِ اختلاف کی دھمکیاں اورامن و امان
مولانا فضل الرحمان’لاٹھی اور سانپ‘
’مرحلہ وار استعفوں کی بات مضحکہ خیز‘
اسی بارے میں
صدارتی انتخاب، سکیورٹی سخت
26 September, 2007 | پاکستان
سترہ استعفے، قیادت کے حوالے
26 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد