’بےنظیر بھٹو نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے ملک سے باہر بیٹھ کر جوہری پھیلاؤ کی نئے سرے سے تحقیقات کرانے کا بیان دے کر پاکستان کے سیاسی تالاب میں ایک بڑا پتھر پھینکا ہے۔ اس بیان سے جہاں ملک کے اندر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے وہاں اس بیان نے عالمی سطح پر بھی ڈاکٹر قدیر خان کے نیٹ ورک کے بارے میں بظاہر بند فائل کو بھی کھول دیا ہے۔ کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو نے حصول اقتدار کی خاطر مغرب کو خوش کرنے کے لیے یہ بیان دیا ہے۔ پاکستان میں انگریزی روزنامے دی نیشن کے ایڈیٹر عارف نظامی کی رائے بھی ان میں سے ایک ہے جو کہتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو فوج کو بلیک میل کر رہی ہیں۔ ’بینظیر بھٹو اقتدار کے حصول کے لیے بے تاب ہیں۔ کبھی وہ صدر مشرف سے سمجھوتے کی بات کرتی ہیں، کبھی مستعفی ہونے کی اور اب اپنا صدارتی امیدوار بھی سامنے لائی ہیں‘۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جانب سے اقتدار میں آنے کے بعد جوہری پھیلاؤ میں ملوث ڈاکٹر قدیر خان نیٹ ورک کے متعلق پارلیمان سے تحقیقات کرانے اور عالمی جوہری ادارے کو ڈاکٹر خان سے پوچھ گچھ کی سہولت دینے کے بیان کی فوری طور پر تو ملک کے مختلف حلقوں سے مخالفت نظر آتی ہے لیکن کچھ تجزیہ کار اس کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک کالم نگار حسن نثار بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’قدیر خان ایک عجیب و غریب طرح کا کردار ہیں، آپ یوں سمجھ لیں کہ ایک ایسا ولن ہے جو ہیرو کے میک اپ میں بھی ہے یا ایک ایسا ہیرو ہے جو ولن کے میک اپ میں بھی‘۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ دنیا وہ نہیں ہے جو پہلے ہوتی تھی، یہ ایک گلوبل وِلیج ہے۔اس میں بین الاقوامی برادری کو بالکل رسائی ہونی چاہیے، دوسرا بے نظیر بھٹو نے کہا کہ انکوائری کی جائے گی کہ اس واردات میں اور لوگ تو ملوث نہیں تھے، یہ جاننا پہلے پاکستانیوں کا حق ہے اور اس کے بعد پوری دنیا کا کہ یہ قدیر خان نے جو واردات کی ہے اس میں اور کون کون ملوث تھے کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ اتنا بڑا دھندہ قدیر خان اکیلے کر سکیں‘۔ حسن نثار سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس معاملے میں اور کون لوگ ملوث ہوسکتے ہیں تو انہوں نے فوج کے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ قدیر خان تو مہرہ تھے لیکن وہ لوگ ملوث ہوسکتے ہیں جن کا کمانڈ کنٹرول تھا، جن کے پاس طاقت تھی، اتھارٹی تھی۔ مجھے تو دھوکہ دے سکتا ہے قدیر خان، آپ کو تو دھوکہ دے سکتا ہے جن کو نہیں دے سکتا وہی ملوث ہو سکتے ہیں‘۔ حسن نثار کی بات اپنی جگہ لیکن پاکستان کے اندر پہلے بھی محدود پیمانے پر اور عالمی سطح پر کھل کر یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام جو فوج کی کڑی نگرانی میں رہا ہے، اس کے غیرقانونی پھیلاؤ سے اس وقت کی اعلٰی فوجی قیادت بے خبر ہو۔ دفاعی امور کے ماہر لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود کہتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے حالیہ بیان سے فوج پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی غیرملکی کو ڈاکٹر قدیر سے انکوائری کا اختیار نہیں دینا چاہیے لیکن وہ کہتے ہیں کہ جو بھی اس میں ملوث ہیں ان کا احتساب پارلیمان ضرور کرے۔ ’میں اس سے بالکل اتفاق کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ ایک خودمختار ادارہ ہے اور اسی کو اختیار ہے کہ وہ ان معاملات کی انکوائری کرے اور اگر پارلیمنٹ سمجھے کہ کچھ ایسے لوگ ملوث ہیں جن کو چھوڑ دیا گیا ہے تو ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے، چاہے وہ حساس ادارے ہوں یا غیر حساس، ان سب کا احتساب ضروری ہے‘۔
پاکستان میں دفاعی امور کے ایک اور ماہر پروفیسر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں۔’بینظیر بھٹو کے بیان کا مقصد تو صرف یہی ہے کہ پاکستان کے سیاسی تناظر میں صدر جنرل پرویز مشرف پر دباؤ ڈال سکیں اور بین الاقوامی سطح پر یہ ثابت کیا جائے کہ اس قسم کے مشکوک معاملات میں بھی فوج کے لوگ شامل ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’بے نظیر بھٹو کی ایک مہم ہے جو وہ اپنے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے چلا رہی ہیں۔ اقتدار سے باہر بیٹھ کر تو ایسی باتیں کی جانی ہیں لیکن جب آپ اقتدار میں آتے ہیں تو بہت سی ایسی سیاسی مصلحتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ ان تمام باتوں پر عمل نہیں کر پاتے۔ کیونکہ پاکستان میں ایسے حلقے ہیں مثلاً رائٹ کے اسلامک حلقے ہیں، فوجی حلقے ہیں، وہ اس بات کی مخالفت کریں گے تو لہٰذا ہمیں نہیں معلوم کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکیں گی‘۔ دفاعی امور کے ماہرین کی رائے اپنی جگہ لیکن بعض سیاسی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو نے یہ بیان سوچ سمجھ کر ہی دیا ہوگا اور وہ اس کے فوائد یا نقصانات کے لیے بھی ذہنی طور پر تیار ہوں گی۔ |
اسی بارے میں بینظیر کی واپسی اٹھارہ اکتوبر کو15 September, 2007 | پاکستان یقین دہانی مایوس کن ہے: بینظیر19 September, 2007 | پاکستان بےنظیر، بلٹ پروف گاڑی کیلیے ہدایت26 September, 2007 | پاکستان قدیر پر بیان، پیپلز پارٹی کی وضاحت26 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||