BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 September, 2007, 10:37 GMT 15:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بےنظیر، بلٹ پروف گاڑی کیلیے ہدایت

بلٹ پروف گاڑی
بلٹ پروف گاڑی کی قیمت عام لگژری کار سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے
سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں بلٹ پروف گاڑی درآمد کرنے کی بےنظیر بھٹو کی درخواست پر اپنے فیصلے سے عدالت کو جمعہ (اٹھائیس ستمبر) تک آگاہ کرے۔

عدالت نے یہ ہدایت بدھ کو بےنظیر بھٹو کی ایک درخواست پر جاری کی ہے۔ بےنظیر بھٹو نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ حکومت کو حکم دے کہ انہیں بلٹ پروف گاڑی درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل دو رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

بدھ کو وفاقی حکومت کے وکیل طارق علی نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی وزارت داخلہ سے انہیں ابھی تک اس بارے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا کہ بےنظیر بھٹو کی درخواست پر کیا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں جواب داخل کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا جائے۔

بے نظیر بھٹو کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے حکومتی وکیل کی اپیل کی مخالفت کی اور عدالت سے استدعا کی کہ ان کی مؤکلہ اٹھارہ اکتوبر کو اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں وطن واپس آرہی ہیں اس لیے ان کی درخواست پر جلد فیصلہ کیا جائے۔

سکیورٹی سکواڈ اور بلٹ پروف
 حالات اتنے خراب ہیں کہ ملک کے وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، کور کمانڈروں اور دوسری اعلیٰ شخصیات سکیورٹی سکواڈز کے ساتھ بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرتی ہیں

عدالت نے حکومتی وکیل کو آئندہ سماعت تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

اپنی درخواست میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کی چئر پرسن ہیں اور وطن واپسی پر ان کی جان کو خصوصاً آئندہ انتخابات کے دوران خطرہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ صرف بلٹ پروف گاڑی میں سفر کریں۔‘

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو 1999ء سے اپنے خاندان کے ساتھ جلاوطنی میں رہ رہی ہیں اور اب جلد پاکستان واپس آنا چاہتی ہیں تا کہ آئندہ انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ تاہم ملک کے حالات بہت خراب ہیں اور یہاں اغواء اور خودکش حملوں کے سنگین واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

’حالات اتنے خراب ہیں کہ ملک کے وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، کور کمانڈروں اور دوسری اعلیٰ شخصیات سکیورٹی سکواڈز کے ساتھ بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرتی ہیں۔ درخواست گزار بھی اعلیٰ شخصیت ہیں چونکہ وہ دو بار ملک کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں اور انہیں ماضی میں قاتلانہ حملوں کا سامنا رہا ہے۔‘

درخواست گزار کا مزید کہنا ہے کہ ملک میں ایسی قوتیں موجود ہیں جو ان کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ ان کی اور ان کے اہل خانہ کی زندگیوں کو کئی حلقوں، خصوصاً انتہا پسند قوتوں سے سخت خطرہ لاحق ہے۔

اسی بارے میں
’پاکستان میں اب صرف گیدڑ‘
05 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد