BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 September, 2007, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قدیر پر بیان، پیپلز پارٹی کی وضاحت

 ڈاکٹر قدیر
امریکہ اور دیگر یورپی ممالک پاکستان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ انہیں ڈاکٹر قدیر تک تفتیش کے لیے رسائی دی جائے
پیپلز پارٹی نے بدھ کو ایک بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت کی تاحیات چئرپرسن بے نظیر بھٹو نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کو ڈاکٹر قدیر خان تک رسائی دینے کی کوئی بات نہیں کی ہے۔

جماعت کی جانب سے جاری کیا گیا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا جب اس بارے میں بے نظیر بھٹو کی امریکہ میں ایک تقریر پر حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

پاکستان میں شائع ہونے والے تقریباً تمام اخبارات میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے واشنگٹن میں ایک امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کے دوران کہا کہ ان کی حکومت قائم ہونے کی صورت میں وہ عالمی ایجنسی برائے جوہری توانائی یعنی آئی اے ای اے کو تفتیش کے لیے ڈاکٹر قدیر خان تک رسائی دے دیں گی۔

دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے الزامات سامنے آنے کے بعد فروری دو ہزار چار سے حکومت پاکستان نے ڈاکٹر قدیر خان کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر رکھا ہے۔ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک پاکستان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ انہیں ڈاکٹر قدیر تک تفتیش کے لیے رسائی دی جائے۔ پاکستان اس درخواست کو مسترد کرتا رہا ہے۔

متنازعہ بیان
 اس متنازعہ بیان کا ایسے وقت پر سامنے آنا جب ملک میں انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں پیپلز پارٹی کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے
مبصرین

پیپلز پارٹی نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ بےنظیر بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں صرف اتنا کہا تھا کہ ان کی حکومت عالمی ادارے سے تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی۔ ان کے مطابق یہ موقف موجودہ حکومت کے موقف سے بالکل مختلف نہیں ہے۔

بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے الفاظ کو غلط رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے کہ جیسے انہوں نے کسی کو غیر ملکیوں کے حوالے کرنے کی بات کی ہے۔

مبصرین کے خیال میں اس متنازعہ بیان کا ایسے وقت پر سامنے آنا جب ملک میں انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں پیپلز پارٹی کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں
’ڈاکٹر خان کی صحت بہتر ہے‘
28 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد