’ڈاکٹر خان کی صحت بہتر ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صحت اچھی ہے اور کوئی خطرے کی بات نہیں۔ سنیچر کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خان کا طبی معائنہ کرایا گیا ہے اور ان کے آپریشن کے بعد ان کا مکمل خیال رکھا جارہا ہے۔ ڈاکٹر خان کے مثانے میں کینسر کی تشخیص کے بعد گزشہ ماہ کی نو تاریخ کو کراچی میں آپریشن کیا گیا تھا اور ڈاکٹرز نے ان کے آپریشن کو کامیاب قرار دیا تھا۔ پاکستان کا جوہری بم بنانے والے عبدالقدیر خان کو عید کے روز طبیعت خراب ہونے کے بعد ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا لیکن طبی معائنے کے بعد انہیں واپس اپنی رہائش گاہ منتقل کردیا گیا تھا۔ مقامی اخبارات نے ہسپتال کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کی ایک شریان میں خون جم گیا تھا جس سے ان کی حالت بگڑ گئی تھی۔ لیکن اس بارے میں ’کے آر ایل‘ ہسپتال اور فوجی ترجمان تفصیل بتائے بغیر کہتے ہیں کہ اب ڈاکٹر خان کی صحت بہتر ہے۔ میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ ڈاکٹرز کی جس ٹیم نے عبدالقدیر خان آپریشن کیا تھا وہ ہی اب آپریشن کے بعد بھی ان کی طبی نگرانی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر خان نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ انہوں نے قومی ٹیلی ویژن پر اس کا اعتراف کیا تھا۔ بعد میں ڈاکٹر خان نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی اور معافی کی درخواست کی جو صدر نے قبول کرلی تھی۔ اس معافی کے بعد ان کے ساتھیوں کو رہا کردیا گیا تھا لیکن ڈاکٹر خان اس وقت سے فوج کے سخت پہرے میں اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ اس دوران بین الاقوامی جوہری ادارے کے اہلکاروں یا امریکی تفتیش کاروں کو ڈاکٹر قدیر سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ |
اسی بارے میں ٹائم کی خبر بے بنیاد ہے: پاکستان07 February, 2005 | پاکستان قدیر کے مسئلے پر واک آؤٹ11 March, 2005 | پاکستان ’قدیرکو سی آئی اے نے بچایا تھا‘09 August, 2005 | پاکستان ’قدیرنےسینٹی فیوج کوریا کودیئے‘24 August, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||