ڈاکٹر قدیر بدستور علیل ہیں: بہن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نظربند ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بہن رضیہ حسین نے اپنے بھائی کی صحت سے متعلق حکومتی دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ رضیہ حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی کے دانت اور کان میں سخت تکلیف ہے۔ ’اس کے علاوہ ان کی ایک ٹانگ بیماری کے باعث دوسری ٹانگ سے ایک انچ موٹی ہو گئی ہے۔‘ ہفتہ کے روز فوجی ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کے مطابق ڈاکٹر قدیر کو روبصحت بتایا گیا تھا۔ رضیہ حسین نے آئی ایس پی آر کے دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔’یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میرے بھائی کو چوبیس گھنٹے طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔‘ رضیہ حسین کراچی کے علاقے محمد علی سوسائٹی میں بچوں کا سکول چلاتی ہیں اور ڈاکٹر قدیر کی نظربندی سے لے کر اب تک وہی ان کا خیال رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب ڈاکٹر قدیر کو آپریشن کے لیے کراچی لایا گیا تھا تو انہوں نے رضیہ حسین کے گھر ہی قیام کیا تھا۔ ’ہم تو اخبار والوں سے بات بھی کرنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ جب بھی ہم نے کوئی بات کرنا چاہی، حکومت نے ڈاکٹر صاحب سے ہماری ملاقات پر پابندی لگا دی۔ لیکن ہم بھی مجبور ہیں، آخر کس سے فریاد کریں‘، رضیہ حسین نے کہا۔ ڈاکٹر قدیر کے گھر والے شازونادر ہی ذرائع ابلاغ سے براہ راست بات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں انہوں نے ایک پورا نظام وضع کیا ہوا تھا جس کے تحت صبح سے شام تک ڈاکٹر قدیر کے رشتہ دار ان سے آ کر ملتے رہتے اور ان کا دل بہلا رہتا۔ کھانا بھی ان کی پسند کا بنتا جس میں پلاؤ، زردہ، قیمہ کریلے یا کوئی نہ کوئی سبزی ضرور شامل ہوتی۔ ’ہم ان سے ہر وقت مذاق کرتے رہتے تھے، پرانے وقتوں کی یادوں کو دہراتے اور کوشش کرتے تھے کہ گھر کا ماحول خوش و خرم رہے۔ ان کے ڈاکٹر کا بھی کہنا تھا کہ انہیں کم از کم تین ماہ تک کراچی میں ہی رہنا چاہئیے۔‘ ’لیکن خدا جانے حکومت کو کس چیز کی جلدی تھی۔‘ انہوں نے بتایا کہ ہر وقت ایک برگیڈیئر آ کر پوچھتا رہتا کہ وہ واپس جانے کو تیار ہیں یا نہیں۔ ’ان دنوں اتنے فوجی ہمارے گھر کے آس پاس گھومتے رہتے تھے کہ میرے کتے نے دہشت زدہ ہو کر کھانا ہی چھوڑ دیا اور تین دن بعد وہ مر گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کو واپس لیجانے کے لیے اتنا چھوٹا جہاز استعمال کیا گیا کہ سارا رستہ ان کو جھٹکے لگنے سے ان کی طبیعت اور بھی خراب ہو گئی۔
’آپ سوچیں کہ جس شخص نے تن تنہا ایٹم بم بنا لیا وہ تو اٹھارہ، اٹھارہ گھنٹے کام کرنے کا عادی ہو گا۔ اب وہ ریٹائر ہونے کے بعد اپنے گھر والوں سے دور ایک گھر میں محصور کیا کرے؟‘ ڈاکٹر قدیر کی بہن کے مطابق آج کل وہ پانچ وقت کی نماز اور قرآن پڑھنے کے علاوہ فرانسیسی زبان سیکھنے میں اپنا دل بہلا رہے ہیں۔ لیکن ان کو جو ہوا اس پر کوئی پچھتاوا نہیں۔ ’انہوں نے جو کیا اپنے ملک اور قوم کے لیے کیا۔ عوام کی ان سے محبت کا ثبوت وہ لاکھوں پھول ہیں جو ان کے چاہنے والوں نے ان کی صحتیابی کی دعاؤں کے ساتھ ہسپتال بھیجے۔‘ رضیہ حسین نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ان کے بھائی کو فوری طور پر پاکستان کے اندر کھلا گھومنے پھرنے کی اجازت دے۔ ’وہ نہ تو ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں اور نہ ہی سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ ہے۔ پھر حکومت نے خود ان سے وعدہ کیا تھا کہ قوم سے معافی مانگنے کے ایک ہفتے بعد ان کو رہا کر دیا جائے گا۔” لیکن رضیہ حسین کے مطابق نہ صرف حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا بلکہ اب جب بھی کوئی ملک ان کے بارے میں کچھ بھی کہتا ہے تو حکومت فورا ان کی قید تنہائی مزید سخت کر دیتی ہے۔ | اسی بارے میں ’مشرف کادعویٰ مضحکہ خیز‘02 October, 2006 | پاکستان ’ڈاکٹر خان کی صحت بہتر ہے‘28 October, 2006 | پاکستان ڈاکٹر قدیر کی صحت کیسی؟25 November, 2006 | پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کا ’ کامیاب آپریشن‘ 09 September, 2006 | پاکستان ڈاکٹر قدیر خان ہسپتال سے فارغ17 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||