BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 September, 2007, 01:25 GMT 06:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے نظیر کے اعلان پر ملا جلا رد عمل

بینظیر کی واپسی
اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر پارٹی رہنما بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کا اعلان کر رہے ہیں
پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے سابق وزیر اعظم نے نظیر بھٹو کی پاکستان واپس آنے کے اعلان پر ملی جلی رائے کا اظہار کیا ہے۔

مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کی رائے ہے کہ پاکستان کی عوام کا مطالبہ ہے کہ قوم کے لیڈروں کو وطن واپس آنا چاہئے ۔ان کے بقول نے نظیر بھٹو کی واپسی سے ان کی جماعت (پیپلز پارٹی) کے لیے بہتر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو پہلے واپس آجانا چاہئے تھا۔

سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیْ کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو کافی مشکلات کاٹنے کے بعد جلاوطنی سے وطن واپس آرہی ہیں ۔افسوس اس بات کا ہے کہ وہ اس طرح سے نہیں آرہی ہیں جس طرح پاکستان کے عوام چاہتے ہیں۔
ان کے بقول بے نظیر بھٹو کو جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا چاہئے اور کسی ایسی ڈیل میں شامل نہیں ہونا چاہئے جس سے آمریت کو طول ملے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا موقف ہے کہ پاکستان واپس آنا ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے بلکہ پاکستانی شہری اپنے ملک میں کہیں بھی جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کو خوش آمدید کہتے ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاکستان واپس آنے سے ملک میں جمہوریت کو فائدہ ہوگا یا نقصان ۔ ان کے بقول اگر بے نظیر بھٹو پاکستان آکر فوجی آمر کے ساتھ ڈیل کرتی ہیں تو اس سے جمہوریت کو نقصان ہوگا۔

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپس آ رہی ہیں

جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ڈیل کی خبریں عام ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو کا ملک واپس آنا خوش آئندہ ہے لیکن ان کو واپس آکر جمہوری قوتوں کا ساتھ دینا چاہئے۔

جمیت علماء اسلام (فضل الرحمن ) کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد کی رائے ہے کہ ایک طرف بے نظیر بھٹو واپس آرہی ہیں ۔ دوسری طرف نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کے پاکستان آنے کی خبریں گردش کررہی ہیں اور تیسری طرف صدر جنرل پرویز مشرف کی اہلیہ کے بارے میں یہ خبر ہے کہ وہ صدارت کے منصب پر اپنے شوہر کی کورننگ امیدوار ہونگی۔ ان کے بقول ملک کے سیاسی منظر نامے پر خواتین کا کردار خاصا اہم ہوگا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسان وائیں کا موقف ہے کہ ملک میں کسی سیاسی لیڈر کی واپسی ایک خوش آئند بات ہے لیکن اگر وہ لیڈر کسی آمر کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے نہ آرہی ہوں ۔اگر ایسا ہے تو یہ جمہوریت کے لئے نیک شگون نہیں ہوگا۔

کراچی میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے احمد رضا سے بات کرتے ہوئے حکمران اتحاد میں شامل جماعت ایم کیو ایم یعنی متحدہ قومی موومینٹ کے رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے کہا کہ ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا حق ہے کہ وہ یہاں پر آئیں۔ جب وہ آتی ہیں اسکے بعد کیا ہوتا ہے آیا ان پر کیسز ہیں نہیں ہیں کیا صورتحال بنے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن بہرحال ہر پاکستانی کی طرح ان کو حق ہے کہ وہ پاکستان آئیں۔‘

کیا کوئی فائدہ ہو گا؟
News image
 اگر بے نظیر بھٹو پاکستان آکر فوجی آمر کے ساتھ ڈیل کرتی ہیں تو اس سے جمہوریت کو نقصان ہوگا
عمران خان

اس سوال پر کہ کیا ایم کیو ایم کراچی آمد پر بے نظیر بھٹو کا خیر مقدم کرے گی، فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ملک کو لاحق خطرات میں سے انتہا پسندی ایک انتہائی سنگین خطرہ ہے اور پاکستان میں جمہوری قوتوں کو جو انتہا پسندی کے خلاف ہیں بقائے باہمی پر یقین رکھنا چاہیے۔

’اور سیاسی قوتوں کو نئی صف بندیاں کرنا چاہیں پاکستان کی بہتری کے لیے ایک مخصوص ایجنڈے پر کام کرنا چاہیے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت اگر اسکو آگے بڑھانے کی بات کرتی ہے تو ایم کیو ایم اسکا خیرمقدم کرتی ہے۔‘

مستقبل میں پی پی پی کے ساتھ اتحاد کے امکانات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کبھی بھی سیاسی انتہا پسندی کا ثبوت نہیں دیا اور کبھی کسی لبرل جمہوری سوچ رکھنے والی سیاسی جماعت کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کئے۔

’جہاں تک اتحاد کی بات ہے تو وہ ہوتا ہے الیکشن کے بعد۔ پہلے الیکشن ہوں، دیکھتے ہیں لوگ کس کو ووٹ دیتے ہیں، کس کو منتخب کرتے ہیں اور جو منتخب قوتیں ہیں ان میں کس قدر ہم آہنگی ہوسکتی ہے اسی بنیاد پر سیاسی اتحاد بنیں گے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایم کیو ایم نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حالیہ وطن واپسی کی تو مخالفت کی تھی پھر بے نظیر کے لئے مختلف رائے کیوں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا کیس مختلف تھا کیونکہ وہ بے نظیر بھٹو کی طرح ملک سے خود باہر نہیں گئے تھے۔

’نواز شریف ایک فرمائشی پروگرام کے تحت ملک سے باہر گئے جب جیل میں اچانک قدرت ان پر ایسے مہربان ہوئی کہ وہ ایک سو بیس صندوقوں کے ساتھ اپنے تمام مال و متاع یہاں تک کہ اپنے خانصامہ اور ڈرائیور کے ساتھ بیرون ملک چلے گئے اور سات برس تک کہتے رہے کہ میں گیا نہیں ہوں بھیجا گیا ہوں اور اس سلسلے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا بعد ازاں وہ معاہدہ سامنے آگیا۔‘

اسی بارے میں
’نو ڈیل‘ کی افواہوں کا قتل
15 September, 2007 | پاکستان
بینظیر: سیاسی آغاز سے ڈیل تک
14 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد