بینظیر کی واپسی، ’ڈِیل‘ کی خبریں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تمام قومی اخبارات نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کےاعلان کو اپنے اپنے انداز میں شہ سرخی کا موضوع بنایا ہے جبکہ بینظیر بھٹو کی واپسی پر حکومتی ردعمل کو بھی نمایاں طور پر شائع کیا گیا ہے۔ ایکسپریس اور نوائے وقت نے سرخیوں میں کہا ہے کہ ’حکومت اور بی بی میں ڈیل نہیں ہو سکی‘۔ روزنامہ ’نوائے وقت‘ کی شہ سرخی ہے ’ بینظیر بھٹو نے اٹھارہ اکتوبر کو کراچی آنے کا اعلان کردیا ، بدقسمتی سے حکومت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا، چیئرپرسن پی پی ‘۔ اخبار نے حکمران مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کے بیان کو سپر لیڈ لگایا ہے ’بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدمات کے خاتمے پر اعتراض نہیں، مشرف سویلین صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے، مشاہد حسین ‘۔ اسی اخبار میں وفاقی وزیر شیخ رشید کا بیان شائع کیا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو کی واپسی رکاوٹ نہیں ڈالا جائے گا اور محمد علی درانی کا بیان ہے کہ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ اسی خبر کی کیچ لائن میں وزیر ریلوے کا بیان ہے کہ پی پی پی کی چیئرپرسن کا معاملہ نوازشریف سے مختلف ہے کیونکہ ان کے حکومت سے مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے اور وزیر اطلاعات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی سے کوئی مفاہمت نہیں ہوئی ، بےنظیر بھٹو کو مقدمات کو سامنا کرناہوگا۔ روزنامہ ’جنگ‘ کے الفاظ ہیں کہ’ بے نظیر بھٹو اٹھارہ اکتوبر کو کراچی ائیر پورٹ اترینگی ، پیپلز پارٹی کا اعلان ‘۔ اسی اخبار میں ایک تین کالم خبر ہے جس کی سرخی ہے کہ ’اعتماد کا فقدان، پرویز مشرف بے نظیر ڈیل غیر معنیہ مدت کے لئے ملتوی ہوگئی‘۔ ’ڈیلی ایکسپریس‘ نے سرخی لگائی ہے کہ ’ اٹھارہ اکتوبر کو کراچی آمد کا اعلان، مشرف سے سمجھوتہ نہیں ہوسکا ، بے نظیر‘۔ اسی اخبار کی خبر ہے کہ ’بے نظیر بھٹو بذریعہ سڑک کراچی سے لاہور جائینگی‘۔
اخبار نے ایم کیو ایم کی طرف سے بے نظیر بھٹو کے کراچی میں اترنے کے فیصلہ کے خیرمقدم کے حوالے سے خبر کو بھی شائع کیا۔’دی نیوز‘ نے اس خبر کو یوں شائع کیاکہ ’بے نظیر بھٹو کا خود ساختہ جلاوطنی ختم کرنے کا فیصلہ‘۔ اخبار نے بینظیر بھٹو کے ایک بھارتی میگزین کو دیے گئے انٹرویو کو دو کالم شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’صدر کے دوبارہ انتخاب کا فیصلہ عدالت کرے گی‘۔ اخبار نے کہا ہے کہ ’ آئندہ اڑتالیس گھنٹے اہم ہیں‘۔ ’ڈیلی ٹائمز‘ کی شہ سرخی کے الفاظ ہیں کہ ’بینظیر بھٹو اٹھارہ اکتوبر کو واپس آرہی ہیں‘۔ اسی اخبار کی خبر ہے کہ ’بے نظیر بھٹو کو واپسی پر ملک بدر نہیں کیا جائے گا، حکومت ‘۔ اخبار میں حکمران مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کے بیان پر مبنی خبر ہے ’ صدر پندرہ نومبر سے پہلے وردی اتار دیں گے ، مشاہد حسین‘۔ اسی اخبار میں سرخی کے برابر میں ایک خبر شائع کی گئی ہے:’صدراتی انتخاب آٹھ اکتوبر کو ہونے کا امکان‘۔ تمام اخبارات نے جماعت اسلامی کی طرف سے صدر کے عہدوں کے معاملہ پر سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کے بارے میں خبر کو بھی نمایاں شائع کیا۔ | اسی بارے میں بینظیر کی واپسی اٹھارہ اکتوبر کو15 September, 2007 | پاکستان میاں صاحب گئے محترمہ آرہی ہیں15 September, 2007 | پاکستان بے نظیر کے اعلان پر ملا جلا ردِ عمل15 September, 2007 | پاکستان بینظیر: سیاسی آغاز سے ڈیل تک14 September, 2007 | پاکستان ایک بار پھر سے ڈیفائننگ مومنٹ؟14 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||