بی بی سی اردو ڈاٹ کام،لاہور |  |
 | | | ’یہ نواز لیگ اور جماعت اسلامی کی بلاوجہ کی جلد بازی ہے‘ |
پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خلاف حکمران مسلم لیگ کے دو ممبران سمیت سترہ اراکینِ پنجاب اسمبلی نے اپنے تحریری استعفے اپوزیشن کی مقامی قیادت کے حوالے کردیئے ہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام نے اس پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلم لیگ نون اور جماعت اسلامی کی بلاوجہ کی جلد بازی قرار دیاہے۔ استعفے دینے والوں میں جماعت اسلامی کے آٹھ اور مسلم لیگ نواز کے سات اراکین شامل ہیں۔حکمران مسلم لیگ کے دو ممبران پنجاب اسمبلی، بہاولپور سے مہر رب نواز لک اور اقلیتی رکن جوئیل عامر سہوترا نے پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن چمبر میں اپنے استعفے مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر رانا ثناءاللہ کو پیش کیے۔ عامر سہوترا حکمران مسلم لیگ کے اقلیتی ونگ کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ انہوں نے اپنے استعفے کو جوتحریری وجوہات بیان کی ہیں ان میں غربت مہنگائی کے علاوہ غیرآئینی صدراتی انتخابات بھی ایک وجہ ہے۔ مسلم لیگ نواز کے سات اراکین نے بھی تحریری استعفے جمع کرائے۔مسلم لیگ نون پنجاب کے اٹھائیس اراکین اسمبلی اسی طرح اپنے استعفے جمع کرا چکے ہیں۔ جماعت اسلامی کے نظر بند رہنما لیاقت بلوچ نے بھی اپنا استعفی امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کو بھجوادیا ہے جس کی نقول جماعت اسلامی کے صوبائی دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں شریک صحافیوں میں تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کی دو خواتین سمیت آٹھ اراکین پنجاب اسمبلی نے بھی مستفی ہونے کااعلان کیا۔ اراکین پنجاب اسمبلی نے کہا کہ استعفوں کے ساتھ ان کے مختار نامے بھی ہیں تاکہ اگر انہیں گرفتار کر لیا جائے تو کوئی بھی رکن اسمبلی یہ استعفے جمع کراسکے۔ جماعت اسلامی کے اراکین اسمبلی سے پوچھا گیا کہ ’جب مجلس عمل نے ابھی صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی حکمت عملی ترتیب ہی نہیں دی تو ان استعفوں کی کیا حثیت ہے۔ اس پر رکن پنجاب اسمبلی ارشد بگو نے کہا کہ ’استعفوں کاحتمی فیصلہ ہوچکا ہے اور وہ ہر صورت مستعفی ہونگے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ یہ استعفے سپیکر پنجاب اسمبلی کو بھجوانے کے وقت کا تعین لیڈر شپ خود کرے گی۔ آل پارٹیز ڈیموکریٹک مومومنٹ (اے پی ڈی ایم) میں شامل سب سے بڑی جماعت جمعیت علمائے اسلام صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں پر تحفظات رکھتی ہے۔ جے یوآئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نواز کوجلد بازی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ابھی اے پی ڈی ایم کے حتمی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیےتھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک دوروز میں اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مستعفی ہونے کی حکمت عملی کا اعلان ہونے ہی والا تھا اس سے پہلے اس قسم کے اعلان پر ہمیں تعجب ہے۔‘ |