BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 September, 2007, 16:23 GMT 21:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرحلہ وار استعفے، مضحکہ خیز بات

قاضی حسین اور مولانا فضل الرحمان
جماعت اسلامی تو بظاہر اسمبلیوں کو خدا حافظ کہنے کے لیے کب سے بے چین ہے
پاکستان میں الرجی طبی نہیں سیاسی بھی ہوسکتی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال جمعیت علماء اسلام (ف) کی پہلے دن سے حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے استعفے پیش کرنے کے عمل سے بظاہر الرجِک ہونا ہے۔ استعفے نہ دینے کی اب تک کی ان کی منطق کا کوئی فائدہ اگر کسی کو ہوا ہے تو وہ حکومت ہی ہے۔

لیکن اب مبصرین کے خیال میں وقت آگیا ہے کہ حزب اختلاف کے پاس مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ اس ’کاماکازی مشن‘ (خودکش حملہ) کو انہوں نے ہر صورت صدر کے انتخاب سے قبل اپنے منطقی انجام تک پہنچانا ہے ورنہ اس کے بعد استعفوں کا کیا فائدہ۔

مولانا فضل الرحمان اب بھی وہی‘ والی حکمت عملی پر کئی برسوں سے عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے حلیف جماعت اسلامی کے دباؤ کے باوجود ہمیشہ مناسب وقت پر یہ استعفے پیش کرنے کی بات کی ہے۔

وہ اس حوالے سے قدرے کامیاب بھی رہے ہیں کہ دیگر جماعتوں کے اراکین کو ماسوائے قاضی حسین احمد کے انہوں نے مستعفی ہونے سے ابھی تک روکے رکھا ہے۔

استعفوں کا مناسب وقت
 مناسب وقت کب آئے گا، کونسا ہوگا؟ اس سوال کی وضاحت مولانا فضل الرحمان نے کبھی نہیں کی۔ دسمبر دو ہزار چار میں صدر مشرف کے اپنے وردی اتارنے کے وعدے سے مکر جانے اور حقوق نسواں بل کی منظوری جیسے کئی مواقع پر جمعیت نے استعفے دینے سے انکار کیا

مولانا فضل الرحمان کی منطق یہی رہی ہے کہ ان استعفوں کو ایسے مناسب وقت پر جمع کیا جائے کہ ان کا اثر زیادہ سے زیادہ ہوسکے اور صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت دہل جائے۔

لیکن وہ ’مناسب وقت‘ کب آئے گا، کونسا ہوگا؟ اس سوال کی وضاحت مولانا فضل الرحمان نے کبھی نہیں کی۔ دسمبر دو ہزار چار میں صدر مشرف کے اپنے وردی اتارنے کے وعدے سے مکر جانے اور حقوق نسواں بل کی منظوری جیسے کئی مواقع پر جمعیت نے استعفے دینے سے انکار کیا۔

سخت گیر موقف والی جماعت اسلامی تو بظاہر اسمبلیوں کو خدا حافظ کہنے کے لیے کب سے بے چین ہے۔ تاہم اتحاد کی دوسری بڑی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) اس بارے میں بظاہر وہ جوش و جذبہ دکھانے سے قاصر رہی ہے۔

استعفوں یا مستعفی ہونے کے طریقۂ کار پر دونوں میں اختلافات ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر سامنے آئے ہیں۔

پشاور میں متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان ایک مرتبہ پھر اپنا ’مناسب وقت‘ کا فارمولہ فروخت کرنے میں کامیاب رہیں ہیں۔ استعفے دینے پر تو وہ پہلے دن سے تیار ہیں اور اس اجلاس کے بعد بھی تھے لیکن انہوں نے ایک مرتبہ پھر انہیں ایک نئے رنگ میں جمع کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

بے معنی عمل
 صدر انتخاب کے بعد ویسے بھی نئے انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے اسمبلیاں کسی بھی وقت تحلیل کر دیں گے۔ پھر نہ استعفوں کی ضرورت ہوگی اور نہ احتجاج کی

ان کی اس تجویز پر کہ اگر استعفے مرحلہ وار طریقے سے پیش کیے جائیں تو یہ زیادہ مہلک ہوں گے شرکاء کا اتفاق ہوا ہے۔ ایم ایم اے کی حد تک پشاور کے اجلاس میں یہ طے ہوا ہے کہ پہلے استعفے قومی اسمبلی، پھر صوبائی اسمبلیوں سے دیے جائیں اور آخر میں سرحد اسمبلی کی تحلیل کروائی جائے۔

اب اس فارمولہ پر جمعرات کو پشاور میں اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں بحث ہوگی۔

ملکی سیاست کی بساط اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں ’اب نہیں تو کبھی نہیں‘ والی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ صدارتی انتخابات سر پر آن کھڑے ہیں۔ چھ اکتوبر کو ملک کا نیا صدر چنا جانا ہے، جس میں دس روز سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے۔

اس میں واضع نہیں کہ حزب اختلاف کیسے تین مراحل میں احتجاج کرے گی۔ ایسے میں مرحلہ وار استعفوں کی بات کافی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔ اگر ایم ایم اے کا صدر کے انتخاب کے بعد بھی استعفوں کے ذریعے احتجاج کا ارادہ ہے تو یہ بےمعنی سی بات ہو جائے گی۔

صدر انتخاب کے بعد ویسے بھی نئے انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے اسمبلیاں کسی بھی وقت تحلیل کر دیں گے۔ پھر نہ استعفوں کی ضرورت ہوگی اور نہ احتجاج کی۔

بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)تاریخ سازگھڑی مگر
پاکستان کے تاریخ ساز لمحوں میں کیا کیا ہوا؟
قاضی کی درخواست
’۔۔۔ مشرف کی حمایت کے مترادف ہے‘
صدر مشرفصدارتی انتخابات
حزبِ اختلاف کی دھمکیاں اورامن و امان
اپوزیشن تحریک
’عوامی عدم دلچسپی حکومت کی سازش ہے‘
’بے ثمر احتجاج‘
اے پی ڈی ایم کا اعلان ناکامی کا اعتراف ہے
قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن (فائل فوٹو)ایم ایم اے کا امتحان
بلوچستان میں حکومت سے علیحٰدگی کیلیے دباؤ
اسی بارے میں
مشرف کی انتخابی مہم شروع
25 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد