BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 September, 2007, 21:52 GMT 02:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
استعفے، فیصلہ اے پی ڈی ایم کرے گی

مولانا فضل الرحمان استعفوں کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کرنے پر بھی زور دے رہے ہیں
متحدہ مجلس عمل نے جنرل پرویز مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے فیصلے کی توثیق کی ہے تاہم اتحاد نےفیصلہ کیا ہے کہ حتمی حکمت عملی وضع کرنے کے لئےاے پی ڈی ایم کے آئندہ اجلاس میں نئی تجاویز پیش کی جائیں گی۔

منگل کو پشاور میں متحدہ مجلس عمل کے فیصلہ ساز ادارے سپریم کونسل کے تقریباً تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اجلاس کے بعد اتحاد کے سیکریٹری جنرل اور حزب اختلاف کے رہنماء مولانا فضل الرحمن نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس نے اے پی ڈی ایم کی جانب سے استعفے دینے کے فیصلے کی اصولی طور پر توثیق کی ہے۔

انہوں نے زور دیکر کہا کہ استعفوں کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی ابہام موجود نہیں ہے تاہم بقول ان کےجنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب ہونے سے روکنے کے لیے استعفوں کے ساتھ ساتھ دیگر طریقوں کو بھی بروئے کار لایا جانا چاہیے۔

مولانا قاضی حسین احمد کا استعفی دینے کے بارے میں رویہ بہت واضح ہے

انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل دو دن بعد اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں استعفوں کے حوالے سےحکمت عملی وضع کرنے کے سلسلے میں نئی تجاویز پیش کرے گی اور آخری فیصلہ اتحاد کے پلیٹ فارم سے ہی ہوگا۔ تاہم مولانا فضل الرحمن نے ان تجاویز کی وضاحت کرنے سے گریز کیا۔

اس موقع پرایم ایم اے کے ایک رہنما منور حسن نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجلس عمل آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کے اجلاس میں یہ تجویز پیش کرے گی کہ پہلے قومی اسمبلی سے اور بعد میں صوبائی اسمبلی سے استعفے دیئے جانے چاہئیں جبکہ تیسرے مرحلے میں صوبہ سرحد کی اسمبلی کو تحلیل کیا جانا چاہیے۔

ان کے بقول’ ہم اے پی ڈی ایم کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر اب بھی قائم ہیں تاہم آئندہ اجلاس میں ایم ایم اے یہ تجاویز پیش کرے گی کہ مرحلہ وار استعفے دیئے جائیں تاکہ اس دوران صدر جنرل پرویز مشرف پر آئینی، قانونی، سیاسی اور اخلاقی دباؤ بڑھایا جاسکے۔

اس سے قبل یہ طے پایا تھا کہ اجلاس کے اختتام پرصحافیوں کو ایک بریفنگ دی جائے گی مگر اس سے اچانک منسوخ کردیا گیا۔ اجلاس کے بعد جماعتی قواعد و ضوابط کے برعکس ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد کی بجائے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمن نے صحافیوں سے انتہائی مختصر بات چیت کی اور جب صحافیوں نے قاضی حسین احمد سے بات چیت کرنا چاہی تو انہوں نے کچھ کہنے سے انکا ر کردیا۔

سیاسی مبصرین بقول ایم ایم اے میں شامل جمیعت علماء اسلام کے قائدین اب بھی استعفی کے معاملے پر تذبذب کا شکار ہیں اور ان کی کوشش ہے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب ہونے سے روکنے کے لیے استعفوں کی بجائے کوئی اور راستہ ڈھونڈا جائے۔

اسی بارے میں
انتخابی مہم کا آغاز کوئٹہ سے
25 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد