BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 September, 2007, 16:41 GMT 21:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انفرادی بات چیت کی اجازت نہیں‘

قاضی حسین احمد (فائل فوٹو)
 صدر جنرل پرویز مشرف وردی یا وردی کے بغیر قابل قبول نہیں ہوں گے۔ ہم قطعی ان کو صدر کی حیثیت سے نہیں قبول کریں گے نہ ان کو ووٹ دیں گے
قاضی حسین احمد
دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) نے فیصلہ کیا ہے کہ اتحاد میں شامل جماعتوں کو انفرادی سطح پر حکومت سے مذاکرات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہ فیصلہ اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے پیر کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

ایم ایم اے اور جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد کی سربراہی میں ہونے والے سپریم کونسل کے اس اجلاس میں حکومت مخالف تحریک کو مزید تقویت دینے، صدر جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم میں کردار پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد صحافیوں کو اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے، قاضی حسین احمد نے بتایا کہ ایم ایم اے کی جماعتوں کو حکومت سے انفرادی بات چیت کی اجازت نہیں ہوگی۔ دوسرا بنیادی فیصلہ قاضی صاحب کے مطابق انہیں صدر جنرل پرویز مشرف وردی یا وردی کے بغیر قابل قبول نہیں ہوں گے۔ ’ہم قطعی ان کو صدر کی حیثیت سے قبول نہیں کریں گے نہ ان کو ووٹ دیں گے۔‘

دوسری جانب قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا اتحاد صدر سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ تاہم اگر یہ ناگزیر ہوئے تو پھر کسی ایک جماعت سے نہیں بلکہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ایم ایم اے صدارتی امیدوار کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سے بھی سخت اقدام کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حکمراں مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین گزشتہ چند دنوں سے جمیعت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی کوشش کر رہے تھے تاہم یہ نہیں ہو پا رہی تھی۔

یہ کوششیں ان اطلاعات کے بعد شروع ہوئی تھیں کہ صدر اور بے نظیر بھٹو کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی تھی۔ اس موقع پر حکمراں مسلم لیگ نے صدر کو ایم ایم اے سے بات کی تجویز پیش کی تھی جس کے بعد ان کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی کوشش کا آغاز ہوا تھا۔

تاہم ایم ایم اے کے آج کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اتحاد بات چیت کے لیے تو تیار ہے لیکن انفرادی سطح پر نہیں۔ ایم ایم اے نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں نواز شریف کی دس ستمبر کو آمد پر استقبال کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

ایم ایم اے کا امتحان
استعفے دینے یا نہ دینے کا فیصلہ پانچ دسمبر کو
’ایم کیو ایم ملوث‘
اسلم مجاہد کے قتل پر قاضی حسین کا الزام
 بلوچستان اسمبلیایم ایم اے کا امتحان
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس کیوں بلایا گیا ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد