BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 August, 2007, 06:10 GMT 11:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاضی کی پٹیشن سماعت کیلیےمنظور

مشرف
جنرل مشرف کے خلاف درخواست کی سماعت کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا
سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے صدر جنرل مشرف کےخلاف قاضی حسین احمد کی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی اور اس پر رجسٹرار آفس کی طرف سے لگائے جانے والے اعتراضات کو مسترد کر دیا۔

اپنی آئینی درخواست میں قاضی حسین احمد نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ قرار دے کہ جنرل پرویز مشرف بطور چیف آف سٹاف ریٹائر ہو چکے ہیں اور وہ اس عہدے پر غیر قانونی طور پر قابض ہیں۔

قاضی حسین احمد کا موقف ہے کہ جنرل پرویز مشرف اگست دو ہزار تین میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور وہ غیر قانونی طور پر اس عہدے سے چپکے ہوئے ہیں۔

چند ماہ پہلے جب قاضی حسین احمد نے یہ آئینی درخواست دائر کی تھی تو سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے اسے اس بنا پر لوٹا دیا تھا کہ وہ یہ درخواست دائر کرنے کا حق نہیں رکھتے۔

تاہم تیس مئی کو سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس رانا بھگوان داس نے اس آئینی درخواست کو دفتری اعتراضات سمیت عدالت کے سامنے لگانے کا حکم جاری کیا تھا۔

بدھ کے روز جسٹس جاوید اقبال کی سربراھی میں قائم سپریم کورٹ کے بینچ نے اس آئینی درخواست پر رجسٹرار کے اعتراض کے خلاف دلائل کی سماعت کی۔

عہدے سے چپکے ہوئے ہیں
 جنرل پرویز مشرف اگست دو ہزار تین میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور وہ غیر قانونی طور پر اس عہدے سے چپکے ہوئے ہیں
قاضی حسین احمد

قاضی حسین احمد کی طرف سے حامد خان سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے آئینی درخواست پر رجسٹرار آفس کی طرف سے لگائے جانے اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیا اور عدالت سے استدعا کی کہ وہ میرٹ پر آئینی درخواست کی سماعت کرے۔

انہوں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ اس آئینی درخواست کو پاکستان لائرز فورم کی طرف سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی درخواست کے ساتھ ملا کر دونوں درخواستوں کی اکٹھی سماعت کی جائے۔

ان ابتدائی دلائل کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے قاضی حسین احمد کی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی۔

اس کی باقاعدہ سماعت کے لیے بینچ کی تشکیل اور سماعت کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

قاضی حسین احمد نے اپنی آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف دس اگست 2003 کو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اوراس کے بعد وہ اس عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے۔

قاضی حسین احمد نے اپنی آئینی درخواست میں مزید کہاکہ وہ بطور صدر بھی اپنے عہدے پر فائز رہنے کے اہل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ صدر پاکستان وفاق کی علامت ہو تا ہے لیکن صدر جنرل پرویز مشرف ایک مخصوص سیاسی جماعت کے جلسوں میں تقریریں کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
آرمی چیف کے خلاف درخواست
30 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد