مجلس عمل احتجاج جاری ہے: بلوچ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحد مجلس عمل نے پاکستان کے’غیرفعال‘ چیف جسٹس افتخار چودھری کےخلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے باہر اٹھارہ اور انیس اپریل کو احتجاج جاری رکھنے کااعلان کیا ہے۔ سنیچر کو اسلام آباد پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے الزام لگایا کہ حکومت نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں ان کے تقریباً پانچ سو کارکنوں کوگرفتار کیا ہے اور چھاپوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ احتجاج پرامن ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت احتجاجی تحریک کوسبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے تاہم انہوں نے پرامن احتجاج کے لیےاپنی حکمت عملی بنالی ہے۔ لیاقت بلوچ نے تیرہ اپریل کو اسلام آباداور کراچی میں صحافیوں کو زدوکوب کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے حکومت کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف ردعمل صدر کی جانب سےسیکولر قوتوں کی مدد ، اسلامی تعلیمات سے انحراف اور مدارس اور مساجد کے خلاف اقدامات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ لیاقت بلوچ نے تجویز دی کہ ملک میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو کم سے کم ایجنڈے پراکٹھا ہوکرایک وسیع تر اتحاد تشکیل دینا چاہیے ۔ پیپلز پارٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کا کہنا تھا کہ گرینڈ الائنس میں شرکت نہ کرنے والی جماعت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار ہوناچاہیے۔ | اسی بارے میں ایم ایم اے: تیرہ فروری تک بائیکاٹ07 February, 2007 | پاکستان ایم ایم اے کے لیے لمحہ فکریہ؟11 January, 2007 | پاکستان ایم ایم اے کا امتحان28 November, 2006 | پاکستان ایم ایم اے: استعفے بِل سے مشروط05 September, 2006 | پاکستان متحدہ مجلس عمل تحریک چلائے گی01 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||