اسلام آباد پر مارچ زیرغور: قاضی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ’فوج کو جہاں زمین ملتی ہے اس پر قبضہ کرلیا جاتا ہے اور پھر (انہیں الاٹ کرنے کے لیے) جھوٹ موٹ کے (فوجی) تمغے بنائے جاتے ہیں اور تمغوں کے ساتھ (فوجیوں کو) اراضی کے مربعے اور پلاٹ الاٹ کر دیے جاتے ہیں۔‘ قاضی حسین احمد نے کہا کہ حالانکہ کسی فوجی نے جنگ نہیں لڑی ہے‘ کسی نے کوئی بہادری نہیں دکھائی اور نہ ہی کوئی فتح حاصل کی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں ستارہ جرآت، ہلال جرآت، ہلال امتیاز اور نجانے کیا کیا تمغے دیے جارہے ہیں اور ہر تمغے کے ساتھ اراضی کے مربعے اور پلاٹ دیے جا رہے ہیں۔ وہ سنیچر اور اتوار کی شب لاہور کے مینار پاکستان کے سبزہ زار میں ہونے والی شان مصطفی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
قاضی حسین احمد نے کہا کہ صدر مشرف بندوق کے ذریعے زبردستی اقتدار میں آئے ہیں اور وہ ’کبھی بھی‘ انتخابات کراکے نہیں جائیں گے۔ مجلس کے رہنما نے کہا کہ صدر مشرف کو ہٹانے کے لیے قوم کو اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج کرنا ہوگا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ وہ مجلس عمل میں شامل دوسری جماعتوں سے مشورے کے بعد جلد ہی اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنے کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بار اسلام آباد پہنچ گئے تو پھر جنرل مشرف کے استعفی دیکر جانے تک نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اس موقع پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج برداشت کرنے کے لیے تیار رہیں اور اگر گولی بھی چلے تو بھی وہاں سے نہ ہٹیں۔
قاضی حسین احمد نے صدر مشرف کے ایران کے معاملے پر غیرجانبدار رہنے کے بیان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے میں پاکستان اگر غیرجانبدار رہے گا تو خود اس کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی کیونکہ ’اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایران کا ایٹمی پروگرام نامنظور ہے تو پھر وہ پاکستان کی ایٹمی پروگرام کیسے برداشت کر لیں گے۔‘ قاضی حسین احمد نے کہا کہ پاکستان کو خاموش تماشائی بننے کے بجائے کھل کر ایران کا ساتھ دینا چاہیے۔ان کے مطابق صدر مشرف امریکہ اور مغرب کے آلہ کار ہیں اور انہیں ایک تحریک کے ذریعے ہٹا دینا چاہیے۔ مجلس عمل کے صدر نےکراچی میں میلاد النبی کے بم دھماکے کا الزام ایک بار پھر ایم کیو ایم اور اس سے تعلق رکھنے والے حکام پر عائد کیا ہے۔ |
اسی بارے میں چھاؤنیاں کہاں اورکیوں؟21 February, 2005 | پاکستان جی ایچ کیو کے لیے مزید زمین 02 March, 2005 | پاکستان فوج کے 55 کاروباری ادارے26 April, 2005 | پاکستان فوج میں اہم تبدیلیاں18 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||