BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 September, 2007, 18:44 GMT 23:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کی انتخابی مہم شروع

جنرل مشرف
حزب اختلاف کی بیشتر جماعتیں صدر مشرف پر زور دے رہی ہیں کہ وہ فوجی فوردی اتار دیں
صدر جنرل پرویز مشرف نے منگل کو کوئٹہ سے اپنی انتخابی مہم کے حوالے سے حکمران مسلم لیگ اور دیگر حلیف جماعتوں کے ارکانِ پارلیمان سے گورنر ہاؤس میں ملاقاتیں کی ہیں۔

صدارتی انتخاب کے شیڈول کے اعلان کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز بلوچستان سے کیا ہے۔ تاہم متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے ان سے ملاقات نہیں کی ہے۔

صدر کے انتخاب کے شیڈول کے اعلان کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز بلوچستان سے کیا ہے ۔ ان سے ملاقات کرنے والے ارکان اسمبلی نے ان کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر اور سینئر وزیر مولانا عبدالواسع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ صدر مشرف سے گورنر ہاؤس میں ملاقات نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اتحاد کے مرکزی قائدین جو فیصلہ کریں گے اس پر عملدرآمد کیا جائے گا اور اس وقت صدر سے ملاقات بے معنی تھی کیونکہ اس وقت نہ تو انہیں انکار کیا جا سکتا ہے اور ناں ہی انہیں ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی جا سکتی ہے۔

بگٹی کی پارٹی
 صدر سے نواب اکبر بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی کے ایک دھڑے کے ارکان نے بھی ملاقات کی ہے، جس میں تین ارکانِ صوبائی اسمبلی بھی شامل تھے
سرکاری ذرائع
سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر سے نواب اکبر بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی کے ایک دھڑے کے ارکان نے بھی ملاقات کی ہے، جس میں تین ارکانِ صوبائی اسمبلی بھی شامل تھے۔

یاد رہے ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی کارروائی اور پھر نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد جمہوری وطن پارٹی کے بیشتر ارکان زیادہ متحرک نہیں رہے۔ جماعت کے اپنے دھڑے کے سربراہ طلال بگٹی نے گزشتہ روز ارکان اسمبلی سے کہا تھا کہ وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں۔

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جمہوری وطن پارٹی کے ارکان کو حزب اختلاف کا ساتھ دینا چاہیے۔

صدر پرویز مشرف کے دورے کے حوالے سے کوئٹہ میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور گورنر ہاؤس کو جانے والی شاہراہ تو کرفیو جیسا سماں پیش کر رہی ہے۔ شہر میں جگہ جگہ ٹریفک جام ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کے تعداد پینسٹھ ہے لیکن دو ارکان کے استعفوں اور دو کے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد یہ تعداد اکسٹھ رہ گئی ہے، جن میں ایک بالاچ مری آزاد رکن شامل جو شائد ایک مرتبہ ہی اسمبلی کے اجلاس میں آئے تھے۔

حکمران مسلم لیگ اور حلیف جماعتوں کے اراکین کے تعداد اٹھائیس ہے اور جمہوری وطن پارٹی کے اراکین کے ساتھ ان کی کل تعداد بتیس ہو جاتی ہے لیکن حکمران مسلم لیگ کے کم سے کم دو ارکان ایسے ہیں جو شائد جنرل مشرف کو ووٹ نہ دیں۔

اسی بارے میں
انتخابی مہم کا آغاز کوئٹہ سے
25 September, 2007 | پاکستان
صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو
20 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد