کاغذاتِ نامزدگی: شاہراہِ دستور تین دن کے لیے بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھ اکتوبر کو ہونے صدارتی انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ پر آج جمعرات کو صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں جکبہ دیگر امیدوار الیکشن کمیش یا چاروں صوبائی چیف جسٹس صاحبان کے سامنے اپنے اپنے کاغذات جمع کرائیں گے۔ کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال انتیس سمتبر کو اسلام آباد میں ہوگی۔ صدر مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی ان کی جگہ وزیرِ اعظم شوکت عزیز اور حکومت کے اعلیٰ عہدیدار نے الیکشن کمیشن میں کرائے۔ صدراتی انتخاب میں وکلاء کی طرف سے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد امیداوار ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے مخدوم امین فہیم کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جائیں گے۔ وکلاء نے صدر مشرف کے صدارتی انتخاب میں شریک ہونے پر عدالتوں کے بائیکاٹ اور ملک گیر احتجاج کا پروگرام مرتب کر رکھا ہے جبکہ اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی احتجاج میں شرکت کا عندیہ دیا ہوا ہے۔ حکومت نے کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے ہیں۔ اسلام آباد میں واقع الیکشن کمیشن کے دفتر میں کسی بھی ’غیر متعلقہ‘ شخص کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور صرف سرکاری میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت ملی ہے۔ احتجاجی وکلاء اور اپوزیشن کے جلوسوں کے خدشے کے پیشِ نظر راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والے مختلف راستوں پر پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد تعینات کر دی گئی ہے اور اسلام آباد کی چند شاہراؤں کو ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔شاہراہِ دستور کو آئندہ تین روز کے لیے بند کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر میں صدر پرویز مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی، وزیرِ اعظم شوکت نے جمع کرائے جبکہ حکمراں مسلم لیگ کے اہم عہدیدار، کچھ وزراء اور تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ وزیرِ اعظم کے ہمراہ الیکشن کمیشن گئے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں ایک اجلاس میں حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی گئی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری کنور محمد دلشاد نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں صدارتی انتخاب کے لیے اٹھاون افراد نے صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر سے کاغذات نامزدگی حاصل کئے ہیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن کمیشن اسلام آباد سے بائیس افراد نے کاغذات حاصل کیے ہیں جبکہ سندھ اورسرحد سے آٹھ آٹھ اور بلوچستان سے دو افراد نے کاغدات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔ کاغذات نامزدگی حاصل کرنے والوں میں خواتین، سابق فوجی اور غیر مسلم بھی شامل ہیں۔ صدارتی انتخاب کے لئے کاغذات نامزدگی حاصل کرنے اور جمع کرانے کے لیے کوئی فیس نہیں ہے۔ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لئے کاغذات نامزدگی حاصل کرنے کے آخری روز گیارہ افراد نے صوبائی الیکشن کمیشن پنجاب کے دفتر سے کاغذات حاصل کیے۔ صدارتی امیدوار کے لئے یہ لازمی ہے کہ اس کا تجویز اور تائید کنندہ دونوں رکن اسمبلی ہوں۔ بدھ کے روز کاغذات حاصل کرنے والوں میں حکمران جماعت مسلم لیگ کی رکن پنجاب اسمبلی کنول نسیم اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر سردار لطیف کھوسہ کی اہلیہ جمیلہ برلاس بھی شامل ہیں۔ رکن پنجاب اسمبلی کنول نسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے لئے کاغذات نامزدگی حاصل کئے ہیں۔ان کے بقول وہ صدر جنرل مشرف کی جانب سے تجویز اور تائید کنندہ ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور پاکستان بارکونسل کے رکن سردار لطیف احمد خان کھوسہ جو صدارتی انتخاب میں وکلا کی طرف سے جسٹس(ر) وجیہہ الدین کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے مخالف ہیں، ان کی اہلیہ جمیلہ برلاس کا کہنا ہے وہ ملک میں قانون حکمرانی کے لیے صدارتی انتخاب لڑنا چاہتی ہیں۔ان کے بقول ان کے پاس تجویز کنندہ اور تائید کنندہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ سردار لطیف کھوسہ کی اہلیہ ہونے کی وجہ نہیں کیا بلکہ وہ قانونی حکمرانی کے لئے انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||