صحافیوں پر تشدد کا ازخود نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے سنیچر کو اسلام آباد میں وکلاء ، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اتوار کو متعلقہ سرکاری افسران اور اداروں کے سربراہوں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ اتوار کے دن نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو کر تشدد کے واقعات کے حوالے سے وضاحت پیش کریں ۔ سپریم کورٹ کے پی ۔ آر ۔ او ۔ ارشد منیر کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وفاقی سیکریٹری داخلہ اور اسلام آباد کے چیف کمشنر ، انسپیکٹر جنرل پولیس، ڈپٹی کمشنر، ڈیوٹی مجسٹریٹ اور سینیئر سپرانٹینڈنٹ پولیس کو پیر کو عدالت میں طلب کیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی انتیس ستمبر کے واقعات کے حوالے سے مرتب کی گئی ایک رپورٹ کی بنیاد پر ازخود نوٹس لیا گیا ہے ۔
چیف کمشنر اور آئی جی پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ انتیس ستمبر کے لیے مرتب کی گئی سکیورٹی حکمتِ عملی اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے اگر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کوئی خصوصی حکمنامہ جاری کیا گیا ہو تو اس کی بھی کاپی عدالت میں پیش کریں۔ ان کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ انتیس ستمبر کا روزنامچہ اور ایف ۔ آئی ۔ آر ۔ کی کاپیاں اور ان میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کی تفصیلات اور ثبوت بھی عدالت کے سامنے پیش کریں۔ اس کے علاوہ نجی ٹیلیویژن چینلوں بشمول ’جیو‘ ، ’اے ۔ آر۔ وائی‘ اور’آج‘ کے نمائندوں سے کہا گیا ہے کہ اگر انہوں نے ہفتہ کے روز رونما ہونے والے واقعات کی فلمبندی کی ہو یا رپورٹ نشر کرنے کے لیے سی ڈیز بنائی ہوں تو وہ بھی عدالت میں پیش کی جائیں ۔ وزارتِ اطلاعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے خرچہ پر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے وکلاء برادری ، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مطلع کریں کہ وہ عدالت کے سامنے حاضر ہوں اور اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ بھی تحریری حلفی بیان کے ساتھ عدالت میں جمع کرائیں ۔ اس کے علاوہ فیڈرل گورنمنٹ سروسز ہسپتال کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ اور پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے وکلاء ، صحافیوں ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں میں سے ایسے زخمی افراد کی فہرست عدالت کے سامنے پیش کی جائے جنہیں طبی امداد پہنچائی گئی ہو۔ پریس ریلیز کے مطابق پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عدالت میں حاضر ہوں اور معاونت کریں ۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے جس نوٹ کی بنیاد پر از خود نوٹس لیا گیا ہے اس کے مطابق ’ وکلا ء شاہراہِ دستور اور سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر جمع ہوئے تھے اس ارادے کے ساتھ کہ وہ الیکشن کمیشن کے باہر اپنا احتجاج درج کریں گے۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے دروازے کے سامنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور وکلا ء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے جھڑپیں ہوئیں اور پولیس ان کا تعاقب کرتے ہوئے سپریم کورٹ عمارت کے احاطے کے اندر بھی آگئی ۔ ایس ایس پی کو کہا گیا کہ وہ اپنی فورس پیچھے ہٹا لیں جس کے بعد انہوں نے اہلکاروں کو سپریم کورٹ کے سامنے فیڈرل شریعت کورٹ کے سامنے کھڑا کر دیا ۔رجسٹرار کی رپورٹ میں وکلاء اور صحافیوں کے زخمی ہونے کے حوالے سے بھی لکھا گیا ہے۔ | اسی بارے میں صحافیوں کا ملک گیر احتجاج30 September, 2007 | پاکستان صحافیوں کا احتجاج، وزیر کی پٹائی29 September, 2007 | پاکستان وکلاء کا ملک گیر یوم سیاہ29 September, 2007 | پاکستان ٹی وی چینلوں کی نشریات معطل29 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||