BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 October, 2007, 06:27 GMT 11:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئینی درخواستوں کے لیے لارجر بنچ

جسٹس وجیہہ
جسٹس وجیہہ نے تمام صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کی استدعا کی ہے
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے نو رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ہے جو بدھ سے ان پٹیشنوں کی سماعت کرے گا۔

یہ آئینی درخواستیں صدارتی امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے لیڈر مخدوم امین فہیم نے دائر کی ہیں۔

ان آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال ہوں گے جبکہ بینچ کے دیگر ارکان جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ناصرالملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس سید جمشید علی اور جسٹس غلام ربانی ہوں گے۔

ممتاز قانون دان حامد خان، جسٹس (ریٹائرڈ) طارق محمود اور علی احمد کرد کی وساطت سے جمع کرائی جانے والی آئینی درخواست میں جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) قاضی محمد فاروق، وفاقِ پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون، صدارتی امیدوار صدر جنرل پرویز مشرف، چیئرمین سینیٹ اور صدارتی امیدوار محمد میاں سومرو، سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے رہنما اور صدارتی امیدوار مخدوم امین فہیم اور نواب شاہ کی ضلعی ناظم اور صدارتی امیدوار فریال تالپور کو فریق بنایا ہے۔

دوسری طرف سردار لطیف کھوسہ، فاروق نائیک، خرم لطیف کھوسہ اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کی وساطت سے دائر کی جانے والی آئینی درخواست میں الیکشن کمشنر آف پاکستان، صدارتی امیدوار جنرل پرویز مشرف اور وفاقِ پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔

 آرمی چیف ہونے کی حیثیت سے صدر مشرف انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ آئین کی دفعہ دو سو ساٹھ انہیں ایسا کرنے سے روکتی ہے۔

جسٹس وجیہہ الدین احمد نے اپنی آئینی درخواست میں صدارتی انتخاب کو نئی اسمبلیوں کے وجود میں آنے تک ملتوی کرنے اور تمام صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کی استدعا کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ یہ بات آئین کی روح کے خلاف ہے کہ ایک ایسی اسمبلی صدر کو درسری بار منتخب کرے جو اپنی آئینی مدت پوری کرنے جارہی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے سنہ انیس سو چونسٹھ میں فوج میں کمشن حاصل کیا اور انہوں نے دودی میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں جو کہ آئین کے تھرڈ شیڈول کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صدر آئین کے تحت پارلیمانی سال کے آغاز میں پارلیمنٹ سے خطاب نہیں کر سکے اس لیے وہ خود بخود نااہل ہوگئے ہیں۔درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ موجودہ صدر نے مسلح افواج کے سربراہ کو مقرر کرکے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی اور ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے کے باوجود وہ ابھی تا اس عہدے پر براجمان ہیں۔

درخواست میں یہ نکتہ بھی اُٹھایا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے عدلیہ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا مذاق اُڑایا ہے اس کے علاوہ انہوں نے وردی میں رہتے ہوئے فوج کی توہین کی اور اس کا مذاق اُڑایا اس لیے وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ صدر مشرف تیسری معیاد کے لیے صدارتی امیدوار ہیں۔ انہوں نے اپنی آئینی درخواست میں کہا ہے کہ آرمی چیف ہونے کی حیثیت سے صدر مشرف انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ آئین کی دفعہ دو سو ساٹھ انہیں ایسا کرنے سے روکتی ہے۔

آئینی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدارتی انتخاب میں سرکاری مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے جو خلاف قانون ہے۔ پٹیشن میں الیکشن کمشن آف پاکستان پر جانبداری کا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس نے الیکشن قوانین میں غیر قانونی طور پر ترمیم کر کے صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے۔

دوسری طرف مخدوم امین فہیم نے اپنی پٹیشن میں کہا ہے کہ صدر مشرف آرمی چیف ہونے کی وجہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ صدر مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری سے متعلق چیف الیکشن کمشنر کے انتیس ستمبر کے حکم کو معطل کر دیا جائے اور ان کے کاغذات مسترد کر دیئے جائیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ ان کی آئینی درخواست پر فیصلہ ہونے تک صدارتی الیکشن کے انعقاد کو روک دیا جائے۔

اسی بارے میں
’فضل ساز باز نہیں کر سکتے‘
01 October, 2007 | پاکستان
سرحد استعفوں کا فیصلہ مؤخر
01 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد