BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 October, 2007, 06:56 GMT 11:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسمبلی بچاؤ رِٹ، تحریک عدمِ اعتماد

سرحد اسمبلی کے حکومت نواز ارکان(فائل فوٹو)
سرحد اسمبلی کے حکومت نواز ارکان نے حال ہی میں صدر مشرف سے ملاقات کی
سرحد اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی کی تحلیل روکنے کے لیے وزیراعلیٰ سرحد اکرم خان درانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرادی ہے۔

تحریک عدم اعتماد ایسے موقع پر جمع کی گئی ہے جب سرحد میں قائم مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے نے موجودہ اسمبلیوں سے ہی صدر جنرل پرویز مشرف کا انتخاب روکنے کے لیے سرحد اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔

یہ تحریک مسلم لیگ (ق) سے رکھنے والی خاتون رکن صوبائی اسمبلی نگہت اورکزئی نے سرحد اسمبلی کے سیکرٹری امان اللہ کے پاس پیر کی صبح جمع کرائی۔

تحریک پر اکتیس ممبران صوبائی اسمبلی کے دستخط ہیں جن میں دس کا تعلق مسلم لیگ (ق)، پندرہ کا پیپلز پارٹی شیرپاؤ سے اور چار آزاد اراکین ہیں۔ دو ممبران کا تعلق حکمران جماعت متحدہ مجلس عمل سے ہے جن میں خاتون رکن غالبہ خورشید اور اکرم اللہ شاہد شامل ہیں۔

واضح رہے کہ تین روز قبل پشاور میں اے پی ڈی ایم کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے چھ اکتوبر کو سرحد جنرل پرویز مشرف کا انتخاب موجودہ اسمبلیوں سے روکنے کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کے علاوہ سرحد اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

وکیل کے خلاف کارروائی
 پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے درخواست دائر کرنے والے مسلم لیگ (ق) کے وکیل میاں محب اللہ کاکاخیل کی ممبرشب معطل کرتے ہوئے چھ اکتوبر تک ان کی ہائی کورٹ کے احاطے میں داخلے پر پابندی لگادی ہے۔
سرحد اسمبلی رٹ درخواست دائر
سرحد اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے سرحد کو اسمبلی کی ممکنہ تحلیل کے روکنے کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں ایک رٹ درخواست دائر کردی ہے۔

یہ درخواست پیر کو مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے اراکین صوبائی اسمبلی مشتاق غنی، نگہت اورکزئی اور مرید کاظم نے آئین کے ارٹیکل 199 تحت پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی ہے۔

میاں محب اللہ کا کا خیل ایڈوکیٹ کی توسط سے جمع کرائی گئی اس درخواست میں وزیراعلیٰ و گورنر سرحد، چیف سیکرٹری اور سرحد اسمبلی کے سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے۔

ستر صفحات پر مشتمل درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ گورنر کو وزیراعلیٰ کی طرف سے اسمبلی توڑنے کے مشورہ سے روکا جائے اور گورنر کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ وزیراعلیٰ کے مشورے پر عمل نہ کریں۔ درخواست کے مطابق اسمبلی توڑنا سرحد کے دو کروڑ عوام سے زیادتی کے مترادف ہوگا۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کرنے کا اعلان صدارتی انتخاب کو سبوثاژ کرنا ہے لہذا اس طرح کا کوئی بھی اقدام بدنیتی پر مبنی ہوگا۔

دوسری طرف پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے درخواست دائر کرنے والے مسلم لیگ (ق) کے وکیل میاں محب اللہ کاکاخیل کی ممبرشب معطل کرتے ہوئے چھ اکتوبر تک ان کی ہائی کورٹ کے احاطے میں داخلے پر پابندی لگادی ہے۔

یہ فیصلہ پیر کو پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک جنرل باڈی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت عبد الطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے کی۔

اسی بارے میں
سیاسی تبدیلی یا محفوظ راستہ
27 September, 2007 | پاکستان
سرحد اسمبلی بچانے پر غور
27 September, 2007 | پاکستان
بیالیس استعفے قیادت کے حوالے
29 September, 2007 | پاکستان
انتخابی عمل کا پرتشدد آغاز
29 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد