سیاسی تبدیلی یا محفوظ راستہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک معاہدے کے تحت سترھویں ترمیم کے ذریعے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کو صدارت کی آئینی کرسی پر براجمان کرانے اور اپنے مخالفین کی جانب سے ’فرینڈلی اپوزیشن‘ کا خطاب پانے والا مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل اس وقت ایک سیاسی امتحان سےگز رہا ہے۔ آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے استعفوں کے اعلان کے باوجود ایم ایم اے اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے کے لیے بظاہر تیار نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں منگل کے روز پشاور میں متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے ایک اجلاس میں استعفے دینے پر اتفاق تو کیا گیا لیکن اجلاس کے اختتام پر صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن کی اس بات نے کہ اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں اس سلسلے میں نئی تجاویز پیش کی جائیں گی، استعفے دینے کے معاملے کو مزید گھمبیر بنا دیا۔ ایک سینئر صحافی اسماعیل خان کا کہنا ہے کہ ملک کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر ایم ایم اے کو مزید وقت درکار ہے اور سپریم کونسل کا متفقہ مبہم فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بقول ’سپریم کونسل کے اجلاس سے قبل بھی ہمارا یہی خیال تھا کہ مولانا فضل ا لرحمٰن کی کوشش ہوگی کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کر سکیں تاکہ صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہونے کے حوالے سے اندرون خانہ کوئی اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے اور وہ اس سلسلے میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں‘۔
صحافی اسماعیل خان کے بقول اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے روایتی طرز عمل کو اپناتے ہوئے بحث کے لیے بلوچستان کے امیر اور رکن قومی اسمبلی مولانا محمد خان کو آگے کر دیا جنہوں نے شرکاء کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ بلوچستان میں مرحوم نواب اکبر خان بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی کے چار اراکین اسمبلی کی جانب سے صدر جنرل مشرف کو ووٹ دینے کی یقین دہانی کرانے کے بعد ایم ایم اے کا اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کا عمل بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ دیکھا جائے تو ابتداء ہی سے متحدہ مجلس عمل میں شامل دو بڑی سیاسی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام کے درمیان صدر جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے حوالے سے دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ کالم نگار سلیم صافی کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد کا خیال ہے کہ اب ایم ایم اے کی سیاسی شہادت کا وقت آن پہنچا ہے لہذا استعفے دے کر عوام سے رجوع کیا جائے جبکہ مولانا فضل الرحمن مستقبل میں اپنے سیاسی کردار کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی قدم اٹھانے سے گریزاں ہیں۔ سلیم صافی کا کہنا ہے کہ ’ گزشتہ پانچ سال سے ایم ایم اے نے بیک وقت حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا بہترین کردار ادا کیا ہے لیکن اب قاضی حسین احمد اس دورخہ کردار سے نکلنا چاہتے ہیں مگر مولانا فضل الرحمن کی نظر بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی عدم موجودگی میں مستقبل میں اپنے سیاسی کردار پر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کم از کم صوبہ سرحد کی حکومت اور بلوچستان کی وزارتیں ان کے ہاتھ سے نہ نکلنے پائیں‘۔
تاہم سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر محمد فاروق کا خیال ہے کہ قائدِ حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن اب ایک ایسے سیاسی گرداب میں پھنس چکے ہیں جس سے نکلنا ان کے لیے محال ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق ’مولانا فضل الرحمن بخوبی جانتے ہیں کہ صدر جنرل مشرف اگلے پانچ سال کے لیے ہرصورت صدر منتخب ہو جائیں گے جبکہ دوسری طرف وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ صوبہ سرحد کی حکومت بھی ان کے پاس رہے اس لیے وہ جنرل مشرف کے ساتھ تعلقات بگاڑنا نہیں چاہتے۔ اس کے علاوہ ان کی یہ خواہش بھی ہے کہ ایم ایم اے نہ ٹوٹے۔ اس طرح وہ عوام میں اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے بھی خواہاں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ شدید تذبذب کا شکار ہیں اور وہ ان تمام متضاد راہوں سے نکلنے کے لیے ایک راستے کی تلاش میں ہیں لیکن بظاہر ایسا راستہ ملنا ایک مشکل عمل معلوم ہو رہا ہے‘۔ سیاسی مبصرین کے بقول پاکستانی سیاست میں اہم تبدیلی کی کنجی اس وقت ایم ایم اے بالخصوص قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کے ہاتھ میں ہے اور اب یہ دیکھا جائے گا کہ آیا وہ حزب اختلاف کے فیصلوں پر اپنی اصلی روح کے ساتھ عملدرآمد کراتے ہیں یا پھر جنرل مشرف کے لیےایک بار پھر محفوظ راستہ ہموار کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||