سرحد اسمبلی بچانے پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مستعفی ہونے اور سرحد اسمبلی کو دو اکتوبر کو تحلیل کرنے کے فیصلے نے صوبہ سرحد کی حد تک حکمران اتحاد کو تشویش لاحق کر دی ہے۔ حکمران مسلم (ق) فیصلہ کرے گی کہ سرحد اسمبلی کو بچانے کی خاطر وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ لایا جائے یا اس معاملے کو عدالت میں لے کر جائیں۔ وفاقی وزیر برائے سیاسی امور امیر مقام کا کہنا ہے کہ وہ جعمے کو ایک اجلاس میں اپنے لائحے عمل کے بارے میں غور کریں گے۔ اس سلسلے میں سرحد مسلم لیگ (ق)، پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور چند آزاد اراکین نے اسلام آباد میں جمعرات کی رات گئے ایک ابتدائی اجلاس میں اے پی ڈی ایم کے اعلان کے بعد کی صورتحال پر سوچ بچار کیا ہے۔ یہ اراکین اسمبلی صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے لیے وفاقی دارالحکومت میں جمع ہیں۔ اجلاس میں عدم اعتماد کی تحریک کی صورت میں اراکین کے دستخط حاصل کرنے کے بارے میں بھی مشورہ ہوا ہے۔ تاہم قانونی جنگ لڑنے یا عدم اعتماد کی امیر مقام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حزب اختلاف کے اس اعلان پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اعلان سے حزب اختلاف کی جماعتوں نے صوبہ وہ پرامید دکھائی دیتے تھے کہ عدم اعتماد کی تحریک لانے کے فیصلے کی صورت میں وہ مطلوبہ تعداد میں اراکین کی حامیت حاصل کر لیں گے۔ صدارتی انتخابات کے قریب آنے کے بعد مبصرین کے خیال میں فریقین ایک دوسرے کے خلاف انتہائی اقدامات کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ | اسی بارے میں سیاسی تبدیلی یا محفوظ راستہ27 September, 2007 | پاکستان استعفوں اور اسمبلی توڑنے کا فیصلہ27 September, 2007 | پاکستان استعفے، فیصلہ اے پی ڈی ایم کرے گی25 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||