BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 September, 2007, 14:03 GMT 19:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
استعفوں اور اسمبلی توڑنے کا فیصلہ

 قاضی حسین احمد اور عمران خان
فیصلوں کا اعلان اے پی ڈی ایم کی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی 2 اکتوبر کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں گے جبکہ اسی روز وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی گورنر کو سرحد اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کریں گے۔

یہ فیصلہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل اقبال ظفرجھگڑا کی رہائش پر ہونے والے اے پی ڈی ایم کی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس میں حزب اختلاف کے قائدین مولانا فضل الرحمٰن، قاضی حسین احمد، اسفند یار ولی خان، عمران خان اور محمود خان اچکزئی نے شرکت کی۔


اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کا اعلان قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف مولانا فضل الرحمٰن نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ 29 ستمبر کو اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی اپنے استعفے پارٹی قیادت کے پاس جمع کرا دیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق اے پی ڈی ایم کی قیادت یہ استعفے 2 اکتوبر کو قومی اور صوبائی سپیکر حضرات کے پاس جمع کرائیں گے جبکہ اسی روز سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی گورنر سرحد علی محمد اورکزئی کو اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سفارش کریں گے۔

مولانا کے اعتراضات
 مولانا فضل الرحمٰن نے اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہونے کے لیے متعدد دلائل پیش کیے اور یہ سوال اٹھایا کہ اگر سپریم کورٹ نے وردی کے معاملے پر دائر کردہ رٹ پٹیشن کا فیصلہ جنرل پرویز مشرف کے حق میں کیا تو کیا اے پی ڈی ایم اس فیصلے کو تسلیم کرے گی جس کے جواب میں دیگر قائدین نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی بلکہ تمام سیاسی جماعتیں برسوں سے جسٹس منیر کے’ نظریہ ضرورت ، کے فیصلے کی مذمت کرتے آرہے ہیں اور اس بار بھی ایسا ہی ہوگا‘
اجلاس میں شامل ایک سیاستدان
اس سے پہلے منگل کو ہونے والے اجلاس میں متحدہ مجلس عمل نے جنرل پرویز مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔ تاہم اتحاد نےفیصلہ کیا تھا کہ حتمی حکمت عملی وضع کرنے کے لیےاے پی ڈی ایم کے آئندہ اجلاس میں نئی تجاویز پیش کی جائیں گی۔

اس سے قبل جب مولانا فضل الرحمٰن پریس کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے اسٹیج پر نمودار ہوئے تو وہاں پر صحافیوں سے آنکھیں دو چار ہوتے ہی دونوں طرف سے ایک قہقہہ بلند ہوا۔اگر چہ اے پی ڈی ایم کا اجلاس قاضی حسین احمد کی صدارت میں ہوا تاہم قواعد کے برخلاف قاضی حسین احمد نے مولانا فضل الرحمٰن سے درخواست کی کہ وہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے صحافیوں کو آگاہ کر دیں۔

اجلاس میں شامل ایک سیاستدان نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں ڈھائی گھنٹے تک اے پی ڈی ایم کے قائدین اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے موضوع پر بحث ہوتی رہی۔

ان کے بقول مولانا فضل الرحمٰن نے اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہونے کے لیے متعدد دلائل پیش کیے اور یہ سوال اٹھایا کہ اگر سپریم کورٹ نے وردی کے معاملے پر دائر کردہ رٹ پٹیشن کا فیصلہ جنرل پرویز مشرف کے حق میں کیا تو کیا اے پی ڈی ایم اس فیصلے کو تسلیم کرے گی جس کے جواب میں دیگر قائدین نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی بلکہ تمام سیاسی جماعتیں برسوں سے جسٹس منیر کے’ نظریہ ضرورت ، کے فیصلے کی مذمت کرتے آرہے ہیں اور اس بار بھی ایسا ہی ہوگا‘۔

ان کے بقول مولانا فضل الرحمٰن کی دوسری دلیل یہ تھی کہ اگر جنرل مشرف کسی بھی صورت میں صدر منتخب ہوتے ہیں تو ان کی زیر قیادت آئندہ کے عام انتخابات میں حصہ لینا اخلاقی کے طور پر درست نہیں ہوگا لیکن دیگر سیاسی قائدین کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی پارٹیاں اس قسم کی صورتحال کے باوجود انتخابات میں حصہ لیں گی اورانہوں نے اس سے پہلے بھی دو ہزار دو میں جنرل پرویز مشرف کی زیرقیادت ہونے والے انتخابات میں اختلافات کے باوجود حصہ لیا تھا۔

ذرائع کے مطابق صورتحال میں اس وقت یکلخت اور فیصلہ کن تبدیلی آئی جب ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا کہ وہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کی گزشتہ اور آئندہ ہونے والے فیصلوں پر قائم رہیں گے جس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفند یار ولی خان نے مولانا فضل الرحمٰن کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وہ استعفے دینے کے لیے تیار ہیں ۔ انکے بقول تھوڑی سی توقف کے بعد مولانا فضل الرحمن نے استعفے دینے پر رضا مندی ظاہر کی اورجب اجلاس میں مولانا فضل الرحمن سے پوچھا گیا کہ انہیں اس سلسلے میں کتنے دن درکار ہونگے تو انہوں نے کہا کہ چونکہ انکی جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے انکے پاس استعفے جمع نہیں کرائے ہیں لہذا بقول مولانا فضل الرحمن کے کہ استعفوں کی تاریخ ایک یا دو اکتوبر مقرر کی جائے۔

اس سے پہلے منگل کو ہونے والے اجلاس میں متحدہ مجلس عمل نے جنرل پرویز مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔ تاہم اتحاد نےفیصلہ کیا تھا کہ حتمی حکمت عملی وضع کرنے کے لیےاے پی ڈی ایم کے آئندہ اجلاس میں نئی تجاویز پیش کی جائیں گی۔

اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ جمیعت علماء اسلام کے قائدین استعفوں کے معاملے پر تذبذب کا شکار ہیں اور ان کی کوشش ہے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب ہونے سے روکنے کے لیے استعفوں کی بجائے کوئی اور راستہ ڈھونڈا جائے۔

مولانا فضل الرحمان’لاٹھی اور سانپ‘
’مرحلہ وار استعفوں کی بات مضحکہ خیز‘
مولانا فضل الرحمٰن ’تبدیلی کی کنجی‘
’مولانافضل الرحمن شدید تذبذب کا شکار ہیں‘
جسٹس(ر)وجیہہ الدینبراہِ راست چیلنج
وکلا کا صدر مشرف کو براہِ راست چیلنج ہے۔
جنرل مشرفانتخاب چھ اکتوبر کو
صدر جنرل مشرف اخبارات پر چھائے رہے
صدر کا حلقہ انتخاب
’مسئلہ انتخاب کا نہیں اخلاقی جواز کا ہے‘
اسی بارے میں
سیاسی تبدیلی یا محفوظ راستہ
27 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد