BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 September, 2007, 17:12 GMT 22:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسمبلی کی تحلیل کا توڑ، تحریکِ عدم اعتماد‘

اکرم درانی
تحریکِ عدم اعتماد آئی تو رائے شماری تک اسمبلی تحلیل نہیں ہو سکتی
حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل آل پارٹیز ڈیموکریٹ الائنس کی جانب سے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب ہونے سے روکنے کے لیے دو اکتوبر کو قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے اور اسی تاریخ کو وزیراعلی کی سفارش پر صوبہ سرحد کی اسمبلی تحلیل کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس سے بقول مبصرین ایک وفاقی اکائی کی عدم موجودگی میں صدر کا حلقہ انتخاب کو متاثر کرانے کے حوالے سے اے پی ڈی ایم کی حکمت عملی بظاہر کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔

وفاقی وزیر اور مسلم لیگ قائداعظم صوبہ سرحد کے صدر امیر مقام نے اسمبلی کو بچانے کے لیے وزیر اعلٰی کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد لانے کا جو اعلان کیا ہے وہ اے پی ڈی ایم کے لیے بظاہر ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہورہا ہے۔

قانونی ماہرین کےمطابق آئین کے دفعہ ایک سو چھتیس کے تحت اگر وزیر اعلٰی کیخلاف عدم اعتماد کی قراداد جمع کرائی جاتی ہے تو آئین کے رو سے اس پر ایوان میں رائے شماری کے نہ ہونے تک وزیراعلی گورنر کو آئین کے آرٹیکل ایک سو بارہ کے تحت اسمبلی توڑنے کا مشورہ نہیں دے سکتے ہیں۔ لہذا اگر حزب اختلاف میں شامل مسلم لیگ قائداعظم اور پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے اراکین اسمبلی وزیراعلی اکرم خان درانی کیخلاف عدم اعتماد کی قرار داد لاتے ہیں تو وہ دو اکتوبر کو گورنر سے اسمبلی توڑنے کی سفارش کرنے کے اہل نہیں ہونگے۔

آئین کے مطابق عدم اعتماد کی قرار داد لانے کے لیے سرحد اسمبلی کے ایک سو چوبیس میں سے پچیس اراکین کی ضرورت ہوگی جبکہ عدم اعتماد کی قرارداد پر عملدرآمد کرانے کے لیے اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے کل اراکین کی ایک چوتھائی یعنی اکتیس اراکین اسمبلی درکار ہونگے۔

 مولانا فضل الرحمن کے اصرار پر ہونے والے فیصلے کا فائدہ جنرل پرویز مشرف کے پہنچنے کا امکان زیادہ ہے اور مولانا فضل الرحمن نے ایک ایسی سیاسی حکمت عملی اپنائی ہے کہ’سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے‘۔

اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو صوبہ سرحد کی اسمبلی میں مسلم لیگ قائداعظم کے دس جبکہ پیپلز پارٹی کے تیرہ اراکین کی مجموعی تعداد تئیس بنتی ہے ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ سات آزاد اور اے این پی کے دو منحرف اراکین اسمبلی کی حمایت مسلم لیگ قائداعظم کو قدرے آسانی کے ساتھ حاصل ہو سکتی ہے جس سے اس کی تعداد بتیس تک پہنچ جائے گی اور اس طرح وزیر اعلی سرحد کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لانے اور اس سلسلے میں اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے مطلوبہ تعداد پوری ہوسکتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی قرارداد جمع کرانے کے بعد سپیکر آئین کی دفعہ چھتیس کے مطابق تین روز کے بعد اور سات دن سے قبل قرارداد پر رائے شماری کرانے کے پابند ہیں۔ اس طرح اگر عدم اعتماد کی قرارداد دو تاریخ کو جمع کرائی جاتی ہے اور وزیراعلٰی دو اکتوبر ہی کو گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تو سپیکر پانچ اکتوبر سے قبل اجلاس بلانے کا آئینی اختیار نہیں رکھتے اور کم از کم پانچ اکتوبر کو ہی اجلاس بلا کر رائے شماری کرا سکتے ہیں۔

دو اکتوبر کو اراکین اسمبلی کے استعفے دینے کے بعد اگر وزیر اعلی سرحد گور نر سے اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کرتے ہیں تو اراکین اسمبلی کی غیر موجودگی میں گورنر آئین کے دفعہ ایک سو تیس کے تحت وزیر اعلی سے یہ تقاضہ کرسکتے ہیں کہ انکے حمایت یافتہ اراکین پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں لہذا وہ اسمبلی توڑنے کی سفارش کرنے کی بجائے پہلے خود اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیں۔
سابق سپیکر عبدالاکبر خان

قانونی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پانچ اکتوبر کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اگر وزیرِ اعلی اکرم خان درانی گورنر کو اسمبلی کوتحلیل کرنے کا مشورہ دیتے بھی ہیں تو آئین کی رو سے اڑتالیس گھنٹے بعد یعنی سات اکتوبر کو گورنر کی منظوری کے بغیر اسمبلی خود بخود تحلیل ہو جائے گی جبکہ اس دوران چھ اکتوبر کو صدارتی انتخابات مکمل ہو چکے ہوں گے جس سے اے پی ڈی ایم کے صدر کے حلقہ انتخاب کو متاثر کرنے کی حکمت عملی ناکام ہو جائے گی۔

صوبہ سرحد اسمبلی کے سابق سپیکر عبدالاکبر خان ایک اور قانونی نکتے کی طرف اشارے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دو اکتوبر کو اراکین اسمبلی کے استعفے دینے کے بعد اگر وزیر اعلی سرحد گور نر سے اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کرتے ہیں تو اراکین اسمبلی کی غیر موجودگی میں گورنر آئین کے دفعہ ایک سو تیس کے تحت وزیر اعلی سے یہ تقاضہ کرسکتے ہیں کہ انکے حمایت یافتہ اراکین پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں لہذا وہ اسمبلی توڑنے کی سفارش کرنے کی بجائے پہلے خود اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیں۔

مبصرین کے بقول گزشتہ روز پشاور میں اے پی ڈی ایم کے ہونے والے اجلاس میں ڈھائی گھنٹے تک حزب اختلاف کے قائدین سے تن تنہا لڑنے والےقائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے آخر کار ان کا مطالبہ مان کر استعفوں اور اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے ایک ایسی تاریخ مقرر کرنے پر اصرار کیا جس سے اے پی ڈی ایم کے قائدین کو ایسا لگا کہ انہوں جنرل پرویز مشرف کے خلاف جاری جنگ کے سلسلے میں ایک اہم مرحلہ کامیابی کے ساتھ عبور کرلیا ہے لیکن مبصرین کے بقول ایسا معلوم ہورہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے اصرار پر ہونے والے فیصلے کا فائدہ جنرل پرویز مشرف کے پہنچنے کا امکان زیادہ ہے اور یوں مولانا فضل الرحمن نے ایک ایسی سیاسی حکمت عملی اپنائی کہ’ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے‘۔

صدر کا حلقہ انتخاب
’مسئلہ انتخاب کا نہیں اخلاقی جواز کا ہے‘
بات سے باتمولانا فضل الرحمان
انہیں ون مین پولٹیکل آرمی بھی سمجھاجاتاہے
صدر مشرفصدارتی انتخابات
حزبِ اختلاف کی دھمکیاں اورامن و امان
صدارتی انتخاب
وردی پہنی نہ پہنی لنگوٹ باندھی نہ باندھی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد