رند کے رند رہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولٹیکل سائنس کے جدِ امجد چانکیہ، میکیاولی اور انیسویں صدی میں آسٹریا کے چانسلر میٹرنخ کے افکار کا نچوڑ یہ ہے کہ سیاست کی سفاک ڈھلانوں پر سفر کے پرخطر شوق میں صرف وہی زوال کی گہری کھائی میں گرنے سے بچ سکتا ہے جو اپنی ذات کو کائنات کا مرکز فرض کرتے ہوئے وقت و حالات کے مطابق سوچنے اور عمل کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہو۔ ہٹ دھرم نہ ہو۔ حسبِ موقع طوفان بن جائے اور حسبِ ضرورت پرسکون پانی میں تبدیل ہوجائے۔ مائع کی طرح جس برتن میں جائے ویسی ہی شکل اختیار کرلے۔ حالات کا تقاضا ہو تو اصول و نظریے کی چادر اوڑھ لے۔ پھر اسی چادر کو اوپر چڑھنے کے لیے رسی کی طرح بل دے لے اور ضرورت ہو تو یہی رسی اپنی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کے گلے میں ڈال کر آگے نکل لے۔ چانکیہ، میکیاولی اور میٹرنخ کی تعلیمات کے مطابق جب زندگی ہی خطِ مستقیم نہیں تو سیاست کس طرح خطِ مستقیم بن سکتی ہے۔ چنانچہ ایک سیاستداں کے لیے کسی بھی معاملے میں آئیڈیل ازم کا شکار ہو کر حتمی موقف اختیار کرنا اور ڈٹ جانا مانندِ زہر ہے۔ اسے ہر صورتحال میں ایسے الفاظ کا چناؤ کرنا چاہیے جو کسی بھی طرح کے حالات میں داخلے یا باہر نکلنے کے عمل میں پاؤں کی زنجیر نہ بن جائیں بلکہ آسان ترین راستے یا چپو کا کام دیں۔ اس تناظر میں اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آج کی پاکستانی سیاست میں میرا ہیرو کون ہے تو میں بلا جھجھک کہوں گا مولانا فضل الرحمان۔ مولانا صاحب سیاست کے مے خانےمیں ’رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی‘ کی روشن تصویر ہیں۔ وہ آئیڈیل ازم اور عملی سیاسی تقاضوں کو نہ صرف خلط ملط نہیں ہونے دیتے بلکہ بے وقت کی راگنی پر بھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ مولانا فضل الرحمان طالبان کے بھی ہیرو ہیں اور اینٹی طالبان لابی کے بھی آئیڈیل۔ وہ امریکہ کے خلاف جب چاہیں آگ اگل سکتے ہیں اور جب چاہیں اس آگ پر ٹھنڈی بالٹی انڈیل سکتے ہیں۔ وہ موجودہ کشمیر پالیسی کے بھی حق میں نہیں اور اس ناطے بحیثیت سرکاری ایلچی بھارت کے غیر سرکاری دورے کو بھی مباح سمجھتے ہیں۔
وہ نواز شریف کے بھی ہمدرد ہیں اور پرویز مشرف بھی انہیں اپنا آدمی سمجھتے ہیں۔ وہ قائدِ حزبِ اختلاف بھی ہیں اور سرکاری ہیلی کاپٹر کو بھی محبوب سواری جانتے ہیں۔ وہ جمیعت علمائے اسلام کے جھمگٹے میں ہوں تو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ سے کم کسی بات کے لیے راضی نہیں اور باہر ہوں تو جنرل مشرف کی اعتدال پسندی اور روشن خیالی کو بھی حرام نہیں کہتے ۔ بس مکروہ سمجھتے ہیں۔ وہ فوج کی حکومت کے یکسر مخالف بھی ہیں اور موجودہ سیٹ اپ میں وزیرِاعظم بننے کے بھی خواہش مند ہیں۔وہ ایک بالا دست پارلیمنٹ بھی چاہتے ہیں لیکن نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنے ہی وزیرِاعلی کی شرکت پر بھی انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ الغرض مولانا فضل الرحمان فی الوقت واحد قومی سیاستداں ہیں جو ایک ہی وقت میں پانچ مختلف رنگوں کی گیندیں ہوا میں اچھالنے کے ماہر ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے۔ انہی اوصاف کے سبب بعض پرستار مولانا کو محض ایک سیاستداں نہیں بلکہ ون مین پولٹیکل آرمی سمجھتے ہیں۔ بلکہ بعضوں کے نزدیک تو مولانا اپنی ذات میں ایک ایسا ادارہ ہیں جس سے ہر شخص اپنی سیاسی بساط کے مطابق عملیت پسندی کا سبق لے سکتا ہے۔ جو لوگ مولانا کو سنجیدگی سے نہیں لیتے وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو حسین شہید سہروردی، فاطمہ جناح، مولانا مفتی محمود، اصغر خان، نواز شریف، قاضی حسین احمد اور عمران خان جیسے آئیڈیل باز سیاستدانوں کی ناکامیوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ |
اسی بارے میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں25 September, 2005 | قلم اور کالم ’بات ترجیحات کی ہے‘06 November, 2005 | قلم اور کالم اگر وہ ہوجاتا تو یہ نہ ہوتا18 December, 2005 | قلم اور کالم خاندان والوں سے کیا پردہ14 May, 2006 | قلم اور کالم دو رخا ہونے کے فوائد09 April, 2006 | قلم اور کالم سب جمہوریت ہے21 May, 2006 | قلم اور کالم لبنان: ایک مملکتِ بے وجود13 August, 2006 | قلم اور کالم آٹھ اکتوبر فیسٹیول01 October, 2006 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||