BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 September, 2007, 13:50 GMT 18:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قسمت کا لکھا

نواز شریف اور بیظیر بھٹو
تبدیلی کے لئے تیار پاکستانی سماج کو ایک منظم دھارے کی صورت کون دے گا
دیکھا یہ گیا ہے کہ جس طرح غریب آدمی بوجوہ انقلاب اور پیٹ بھرا آدمی طبعاً مصلحت اندیشی پسند کرتا ہے اسی طرح جس سیاسی جماعت کا ووٹ بینک جتنا کم ہوتا ہے وہ اتنی ہی انقلابی باتیں کرتی ہے اور جس کا ووٹ جتنا زیادہ ہوتا ہے وہ انقلاب کے مقابلے میں ارتقاء اور انتہا پسندی کے بجائے اعتدال پسندی اور دھیرج کی وکالت کرتی ہے۔ ووٹ بینک کے تناسب سے ہی ان جماعتوں کی پینترے بازی کا فن بھی نکھرتا چلاجاتا ہے ۔

پاکستان میں نو مارچ سے بیس جولائی تک عدلیہ کے محاذ پر جو معرکہ لڑا گیا اس کے نتیجے میں کئی عشروں بعد ایک حقیقی تبدیلی کے لئے ملک گیر امنگ دیکھنے میں آئی۔مگر بدقسمتی یہ ہے کہ تبدیلی کے لئے تیار سٹیج پر سوار ہونے کے لئے نہ تو کوئی اہلیت دکھا رہا ہے اور نہ ہی آمادہ نظر آتا ہے۔

لینن، ماؤزے تنگ، گاندھی، جناح ، ناصر، خمینی ، منڈیلا ، یا آنگ سانگ سوچی جیسی کسی شخصیت کا عکس کسی اور میں ڈھونڈنا تو خیر دیوانگی ہوگی یہاں تو کوئی نیپالی پراچندہ، فلپینی کورازون اکینو، پولش لیخ ولیسا، چیکو سلوویکین ویسلاف ہاول ، اور وینیزویلین ہیوگو شاویز کی تیسری کاربن کاپی بھی نظر نہیں آرہی جو تبدیلی کے لئے تیار پاکستانی سماج کو ایک منظم دھارے کی صورت دے سکے۔

ہاں ! فضا میں گدھ ضرور منڈلا رہے ہیں۔ جنہیں یہ گمان ہے کہ تبدیلی کی آرزو کا نوزائیدہ بچہ جیسے ہی آکسیجن یا خوراک کی کمی کے سبب آنکھیں پتھرائے تو اسے جھپٹ لیا جائے۔

ایک عام پاکستانی کی عمومی بیزاری بتاتی ہے کہ وہ اب قبائلی انداز کی وفا دارانہ سیاست سے جان چھڑانے کے لئے پوری طرح تیار ہے لیکن اس کی اس آمادگی کو فلک شگاف نعرے میں کون تبدیل کرے،اس آدمی کی قیادت کا کوئی بھی دعویدار اپنی ذات، اپنی ناک اور اپنے ذہن کی تنگ سرنگ سے آگے کچھ دیکھ ہی نہیں سکتا یا دیکھنا ہی نہیں چاہ رہا۔

کسی کو ذاتی مقدمات کے کمبل سے جان چھڑانے کی پڑی ہے تو کسی کو چھینے گئے اقتدار کی بحالی کی لگی ہے تو کوئی پرمٹوں ، عہدوں اور وقتی مراعات کی ہڈیاں چبانے کے لئے خود کو گروی رکھنے پر تیار ہے۔

کیا اس خطے کی قسمت میں حسینہ واجد، خالدہ ضیا، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، مولانا فضل الرحمان ، جنرل ارشاد اور جنرل مشرف وغیرہ ہی لکھے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
25 September, 2005 | قلم اور کالم
’بات ترجیحات کی ہے‘
06 November, 2005 | قلم اور کالم
اگر وہ ہوجاتا تو یہ نہ ہوتا
18 December, 2005 | قلم اور کالم
خاندان والوں سے کیا پردہ
14 May, 2006 | قلم اور کالم
دو رخا ہونے کے فوائد
09 April, 2006 | قلم اور کالم
سب جمہوریت ہے
21 May, 2006 | قلم اور کالم
لبنان: ایک مملکتِ بے وجود
13 August, 2006 | قلم اور کالم
آٹھ اکتوبر فیسٹیول
01 October, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد