نازی گردہ فروش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹر جوزف مینگل آشوٹز کنسنٹریشن کیمپ میں قیدیوں کو گیس چیمبرز میں بھیجنے کے لئے منتخب کرنے کے کام کا نگراں تھا۔ جب وہ یہ کام نہیں کرتا تھا تو قیدیوں پر طبی تجربات کرتا تھا۔ جب وہ قیدی ڈاکٹر مینگل کی تجرباتی آپریشن میز پر مرجاتے تھے تو انہیں برقی بھٹی میں جلا دیا جاتا تھا۔ اسی آشوٹز کیمپ میں ڈاکٹر کارل کلو برگ بھی موجود تھا۔ جس نے ہزاروں قیدی عورتوں پر بانجھ پن کے تجربات کیے۔ان عورتوں کو جو آزمائشی کیمیاوی انجکشن لگائے جاتے ان سے عورتوں کو ناقابل برداشت درد ہوتا۔ ان کے رحم پھول کر پھٹ جاتے، انتڑیاں جل جاتیں اور وہ تڑپ تڑپ کر جان دے دیتیں۔ جبکہ ڈاکٹر کارل تولیدی مواد پر ریسرچ کے لیے زندہ قیدی مردوں کے خصئیے نکال کر پہلے خود تجربات کرتا اور پھر یہ خصیےمزید تجربات کے لئے نازی مقبوضہ بیلا روس کی ایک لیبارٹری میں بھجوا دیے جاتے۔ محاذ جنگ پر زخمی ہونے والے فوجیوں کی قوتِ برداشت کس نوعیت کے زخم کے نتیجے میں کتنی کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہ جاننے کے لئے ایک نازی ڈاکٹر ھارتا اوبر ہاؤسر اپنی تحویل میں رہنے والے قیدیوں کو زنگ آلود کیلوں، شیشے اور لکڑی کے ٹکڑوں سے زخمی کرتی اور پھر ان زخموں پر دھاتی برادہ رگڑا جاتا جس کے بعد قیدیوں کی تکلیف کا درجہ ناپا جاتا۔
ڈاکٹر ہارتا بچوں کو تیل اور ایوی پین کے انجکشن لگا کر یہ تجربے بھی کرتی تھی کہ مختلف عمروں کے بچے مرنے سے پہلے کتنا درد برداشت کر سکتے ہیں۔ عام طور سے بچے انجکشن لگنے کے تین سے پانچ منٹ کے اندر مرجاتے لیکن آخری سانس نکلنے تک وہ پوری طرح با ہوش و حواس رہتے۔ عالمی جنگ ختم ہونے کے بعد جرمن شہر نورمبرگ میں اکتوبر انیس سو چھیالیس میں ’میڈیکل‘ ٹرائل شروع ہوا جس میں تئیس جرمن ڈاکٹروں اور سائنسدانوں پر غیر انسانی طبی تجربات کرنے کی فردِ جرم عائد کی گئی۔ان میں سے سات کو سزائے موت اور آٹھ کو قیدِ طویل ملی جبکہ آٹھ ڈاکٹر بری ہوگئے۔ آج ان نازی ڈاکٹروں میں سے کوئی زندہ نہیں۔ مگر ان کی بھٹکی ہوئی روحیں ان ڈاکٹروں اور ان کے سرپرستوں میں سرائیت کر گئی ہیں جنہوں نے پچھلے بارہ برس میں ہزاروں بے خبر، نادار اور ان پڑھ لوگوں کے گردوں پر ڈاکہ ڈال کر پاکستان کو عالمی گردہ بازار بنادیا ہے اور کروڑوں ڈالرز سے اپنی جیبیں بھر لی ہیں۔ نازی ڈاکٹروں کو ہٹلر کی آشیرواد حاصل تھی جبکہ پاکستانی گردہ چور بے نظیر سے پرویز مشرف تک ہر حکومت کےدوران کھل کھیلے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسانی اعضا کی غیر قانونی خریدو فرو خت کی روک تھام اور سزا کے قانون کا مسودہ انیس سو بانوے سے تیار پڑا ہو۔ لیکن چار پارلیمانیں اسے منظور نہ کرپائیں اور اب یہ معاملہ پانچویں پارلیمنٹ کے لئے چھوڑا جارہا ہے۔ جو قانون چیف جسٹس افتخار چوہدری کی عدالت اور پاکستان کے سب سے بڑے ماہرِ گردہ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی چیخ و پکار کے باوجود نہ بن پایا اب اسے بنوانے اور نافذ کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔ یعنی کوئی انسانیت کا درد رکھنے والا کونڈولیز رائس سے درخواست کرے کہ وہ اسلام آباد ایک اور فون کریں اور جلدی کریں۔ |
اسی بارے میں کبھی بادشاہ کبھی بساط سے باہر29 July, 2007 | قلم اور کالم ’انصاف مل سکتا ہے تو بھگوان سے‘25 March, 2007 | قلم اور کالم گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم ’سافٹ امیج‘ ابھارنے کی کوشش 18 February, 2007 | قلم اور کالم یہ چمن یونہی رہے گا28 January, 2007 | قلم اور کالم ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم آزادی کا شکنجہ19 March, 2006 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||