 | | | اکبر بگٹی کے جنازے میں چند قبائلی اور سرکاری اہلکار شامل ہوئے |
چھبیس اگست کو پہاڑی غار میں دب کر مرنے والے اکبر خان کے مقفل تابوت کو جب ایک ہفتے بعد دو درجن کے لگ بھگ مقامیوں اور غیر مقامیوں کی موجودگی میں ڈیرہ بگٹی کی زمین میں اتارا گیا تو اس تابوت میں اکبر خان کے باقیات کے ساتھ ساتھ شجاعت - بگٹی سمجھوتہ اور آدھی جمہوری وطن پارٹی بھی موجود تھی۔ پارٹی کا جتنا حصہ تابوت سے باہر رہ گیا اسے کوئٹہ چھاؤنی میں توڑ پھوڑ دیا گیا۔ اس روز کے بعد سے سوئی اور ڈیرہ بگٹی کا علاقہ مقامی باشندوں اور نیم فوجی دستوں کے علاوہ کسی بھی بلوچ یا نان بلوچ پاکستانی کے لئے ممنوعہ علاقہ ہے۔ تاوقتیکہ اس کے پاس کوئی تحریری اجازت نامہ یا سرکاری حوالہ ہو۔ صورتحال ایسی ہے کہ با آسانی غربِ اردن کے شہر نابلس، سوئی، ڈیرہ بگٹی اور غزہ کو جڑواں شہر قرار دیا جاسکتا ہے۔ چھبیس اگست کے بعد اکبرخان کے آدھے سے زیادہ حامی قبائلی بلوچستان اور سندھ کے شمالی علاقوں میں یا تو خود بکھر گئے یا پھر بکھیر دیئے گئے۔ جو اپنے اپنے گوٹھوں میں رہ گئے یا واپس آ گئے، چیک پوسٹ کلچر کے تحت انکے ایک ایک قدم کی نقل و حرکت کا ریکارڈ سیکیورٹی ایجنسیوں کے پاس رہتا ہے۔ یہ وہ اسّی ہزار کے لگ بھگ لوگ ہیں جنہیں یاد رکھنے سے پہلے ہی بھلا دیا گیا۔  | | | اکبر بگٹی کے بعد بگٹی قبائلی سندھ اور کوئٹہ میں بکھر گئے |
اس ایک برس کے دوران اکبر خان کےتقریباً سب ہی فراری کمانڈروں کو ترغیب، دباؤ اور روایتی ہتھیاروں کے ذریعے پہاڑوں سے اتار لیا گیا اور نواب کے قبائلی اثاثے سرکاری اہلکاروں، مخبروں اور مخالف شاخوں کی تحویل میں دے دیئے گئے۔ اکبر خان کی موت کے بعد ممکنہ بے چینی کو فرو کرنے کے لیے گوادر، کوئٹہ اور اسلام آباد میں تمام مالی و سیاسی ترغیبات کے ساتھ ایک وسیع سرکاری سرداری جرگہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش صرف اس لیے ناکام ہوگئی کیونکہ اس کے شرکاء اپنے علاقوں کو لوٹنے کے قابل نہ رہتے۔ البتہ اکبر خان کی موت کے بعد حالات اور عوام کے دباؤ کے سبب قلات میں جو بڑا سرداری جرگہ ہوا اس میں مرکز کی پالیسیوں اور تاریخی زیادتیوں کے بارے میں دھواں دار گفتگو اور اکبر خان کے مشن کو آگے بڑھانے کی خاصی قسمیں اور وعدے ہوئے لیکن کچھ ہی عرصے میں یہ سب وعدے وعید دھوئیں کی طرح فضا کا حصہ بن گئے۔  | | | فی الحال تو اکبر خان کے سر کی حیثیت استبداد کے ڈرائنگ روم میں ایک اضافی ٹرافی کے سوا کچھ نہیں ہے |
رہی بات میڈیا کی تو اس ایک برس کے دوران وزیرستان، لال مسجد، افتخار چوہدری اور وردی کے ہوتے ہوئے بلوچستان کا تذکرہ اسکرین اور کاغذ پر اتنا ہی ہوسکا جتنا نکاراگوا، منگولیا یا آئس لینڈ کا ہوا۔ آج بھی اکبر خان کی پہلی برسی کی خبر کے مقابلے میں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر وصی ظفر کے قلمدان کی تبدیلی کی خبر زیادہ جگہ گھیر رہی ہے۔ جب تک بلوچوں میں ایک ہی گاؤں میں دور دور مکانات بنا کر رہنے کی روایت موجود ہے، جب تک انکے مزاج میں اجتماعی، سماجی اور سیاسی پلیٹ فارم پر یکجائی کے تصوّر سے بیزاری برقرار ہے اور جب تک بلوچ قیادت رات کو تادیر جاگنے اور دن میں تادیر سونے کی عادت کی اسیر ہے، وفاقی حکومت بلوچستان میں اپنی مرضی کی پالیسیاں آگے بڑھا سکتی ہے ۔ جس دن بلوچوں نے اپنی ان تین قباحتوں پر قابو پا لیا اس کے اگلے روز بلوچستان کا مسئلہ بلوچوں کی مرضی کے مطابق اور وفاق کی مرضی کے خلاف حل ہو جائے گا۔ فی الحال تو اکبر خان کے سر کی حیثیت استبداد کے ڈرائنگ روم میں ایک اضافی ٹرافی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ |