یہ بلوچ! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف حکومت کی یہ بات بالکل سچ ہے کہ بلوچستان کے لیے ترقیاتی امداد میں جتنا اضافہ موجودہ دور میں کیا گیا۔ پچھلے کسی دور میں نہیں ہوا۔ یہ بھی درست ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹے میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ فوج اور نیم فوجی اداروں میں تو بہت پہلے ہی سے بلوچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے تعلیمی اور جسمانی اہلیت کی شرائط نرم ہوچکی ہیں۔گیس اور دیگر معدنی وسائل کی آمدنی میں سے بھی ایک چوتھائی صوبائی حکومت کے حوالے کرنے پر سنجیدگی سے غور ہورہا ہے تاکہ صوبے کی معاشی مشکلات کا کسی حد تک ازالہ ہوجائے۔ صوبائی خود مختاری کا جو پیکیج اگلے چند روز میں آنے والا ہے اس سے بھی صوبے کے احساسِ محرومی میں خاصی کمی ہوگی۔
گوادر پورٹ جب پوری طرح کام کرنا شروع ہوجائے گی اور اسکا آنے والے برسوں میں وسطی ایشیا سے سڑک اور ریل کے ذریعے رابطہ ہوجائے گا تو نہ صرف عام بلوچستانی کے لیے روزگار اور کاروبار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ اس کی املاک کی قیمت میں بھی کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ مجھے اگر کچھ غصہ ہے تو ان بلوچوں پر ہے جو موجودہ حکومت کے ترقیاتی اخلاص کو سمجھنے میں بالکل اسی طرح ناکام ہیں جس طرح بنگالی ایوب خان اور یحییٰ خان کی نیک نیتی پر شبہہ کرتے رہے اور اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔ بجائے اسکے کہ یہ بلوچ صوبے کی تعمیروترقی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں حکومت کی مدد کریں۔ انہیں صرف یہ فکر پڑی ہوئی ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں صوبے کے مختلف علاقوں سے پانچ، چھ ہزار لوگوں کو کیوں گرفتار کرلیا گیا۔ ان میں سے ایک کو بھی آج تک کسی باقاعدہ سویلین عدالت کے روبرو کیوں نہیں لایا گیا۔ ایک سو ستر بلوچ کہاں غائب ہوگئے۔انہیں زمین نے نگل لیا یا آسمان نے اچک لیا۔
اور تو اور یہ بلوچ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کے بقول دو لاکھ افراد کی بے گھری کی ذمہ داری بھی حکومت کے فوجی آپریشن پر ہی ڈال رہے ہیں۔ ان میں سے چوراسی ہزار مرد، عورتیں اور بچے نصیر آباد، جعفر آباد اور کوئٹہ کے کیمپوں میں خوراک اور دیگر لازمی ضروریات سے محروم سرد موسم جھیل رہے ہیں۔ مٹھی بھر بلوچوں کی سمجھ میں آخر اتنی موٹی سی بات کیوں نہیں آرہی کہ ان بےگھروں کی دیکھ بھال حکومت سے زیادہ ان سرداروں کی ہے جنہوں نے ان لوگوں کے دل میں حکومت کے خلاف نفرت بھری اور ایک روشن خیال اور معتدل وفاق سے لڑائی مول لی۔ انہیں تو الٹا حکومت کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ اس نے فراخ دلی سے کام لیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسیوں کو پناہ گزیں کیمپوں میں انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دے دی ہے۔ حکومت پر پہلے ہی چاروں صوبوں کے پندرہ کروڑ عوام کی فلاح و بہبود اور سلامتی کی ذمہ داری ہے اب اگر ان بے گھر بلوچوں کا بوجھ بھی وہ اپنے کاندھوں پر اٹھا لے تو پھر اسے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کا وقت کہاں سے ملے گا۔ اگر چند سرپھرے بلوچ یہ بات نہیں سمجھ پا رہے تو نہ سمجھیں۔ توقع ہے کہ باقی تین صوبوں کے لوگ ضرور یہ بات سمجھیں گے اور عیدِ قرباں کے موقع پر قربانی کے گوشت کی بھاری مقدار نصیر آباد، جعفر آباد اور کوئٹہ کے کیمپوں تک بھیجیں گے۔ جب ناکافی غذائیت کے شکار عورتوں اور بچوں کے معدے میں خوراک جائے گی تب ان کا ذہن بھی کھلے گا۔ اس کے بعد ہی وہ وسیع تر قومی مفاد اور’میگا پروجیکٹس‘ کے بارے میں سوچنا بھی شروع کریں گے۔ |
اسی بارے میں نجکاری کا بدمست ہاتھی 16 April, 2006 | قلم اور کالم آخری کیل16 July, 2006 | قلم اور کالم تینتیس فیصد تو حل ہوگیا27 August, 2006 | قلم اور کالم کہاں چلے گئے08 October, 2006 | قلم اور کالم مچھلی پکڑنا سکھا دو15 October, 2006 | قلم اور کالم امریکہ اور شیر22 October, 2006 | قلم اور کالم ’پہلے مرنا چاہیے تھا‘05 November, 2006 | قلم اور کالم دو رخا ہونے کے فوائد09 April, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||