BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 July, 2007, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وردی برقعہ ہوچکی

پاک فوج کے جوان (فائل فوٹو)
’ کیا اب بھی یہ حقیقت تسلیم کرنے کا وقت نہیں آیا کہ وردی اور دبدبہ ماضی کی کہانی ہوچکی‘
بہت ہی ضیعف بزرگوں کے پاس اگر آپ بیٹھیں تو کبھی کبھار وہ یہ ضرور بتائیں گے کہ انگریز کے زمانے میں وردی کا اتنا دبدبہ تھا کہ اگر ایک معمولی پولیس والا کسی گاؤں میں ملزم کی تلاش میں داخل ہوجاتا تو سب کی گھگی بندھ جاتی تھی اور پولیس والا مطلوبہ ملزم کو ہتھکڑی نہیں لگاتا تھا بلکہ اسی کے صافے سے ہاتھ پیچھے باندھ کر کوتوالی تک پیدل لے جاتا تھا۔

اگر آپ کسی پچپن ساٹھ برس کے شخص کو ذرا سا بھی کریدیں تو وہ آپ کو ضرور بتائے گا کہ کس طرح جب پہلا ملک گیر مارشل لاء لگا تھا تو سیاسی کارکن روپوش ہوگئے تھے۔ بستہ الف کے بدمعاش بالکل الف ہوگئے تھے۔ دوکانداروں نے مارے ڈر کے قیمتیں کم کردی تھی۔ ذخیرہ اندوز اپنے گوداموں کی تفصیل لے کر خود باوردی مارشل لاء حکام کے سامنے حاضر ہوجاتے تھے۔ لوگوں نے راتوں رات غیر قانونی ہتھیار گلیوں اور میدانوں میں پھینک دیے تھے اور جرمانے کے خوف سے گلیاں اور محلے خود بخود صاف ہونے لگے تھے۔ مبادا فوجی افسران کوئی سزا نہ دے دیں۔

لیکن جیسے جیسے وردی عام آدمی کو کبھی کبھار کی بجائے ہر وقت نظر آنے لگی وردی کا دبدبہ بھی جھاگ ہونے لگا۔ صرف دس برس کے اندر بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ڈھاکے کا ایک عام سا بنگالی رکشہ ڈرائیور بھی چھ فٹ کے وردی والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنے سے گزرنے لگا۔

’وردی کی حرمت‘
 زندگی کے ہر شعبے میں مداخلت اور مفادات میں حصہ داری کی شدید خواہش نے وردی کی حرمت کو جس طرح ضرب لگائی ہے۔اس کے نتیجے میں نوبت یہ آگئی ہے کہ ایک سرکاری مسجد کے مولوی سے لے کر بلوچستان کے مفلوک الحال قبائلی تک، مصلحت پسند تاجر سے لے کر کسی بھی سیاسی جماعت کے کنگلے کارکن تک ایک سڑک چھاپ دانشور سے لے کر ایک لاغر سے صحافی تک ہر ایرا غیرا وردی والوں کے منہ کو آرہا ہے

وقت نے یہ بھی دکھا دیا کہ جو سیاسی کارکن ایوب خان اور یحیی خان کے مارشل لاء ادوار میں وردی کی دہشت سے دبک کر بیٹھ گئے تھے اور بہت سوں نے معافی نامے بھی لکھ کر دیے تھے۔ انہی کی اولادوں نے جنرل ضیا کے ننگے مارشل لاء کے دوران پیٹھ پر کوڑے کھا کر اور گلے میں پھندا ڈال کر وردی کے دبدبے کو سوالیہ نشان بنا دیا۔

شاید اسی سے حوصلہ پا کر دس برس بعد آسمان نے یہ منظر بھی دیکھا کہ پنجاب جیسے وفادار صوبے کے لاکھوں مزارعوں نے ملٹری فارمز کی انتظامیہ کی جانب سے خود کو بے دخل کرنے کی کوششوں کی اس طرح مزاحمت کی کہ باوردی حکام حیران و پریشان رہ گئے۔

دبدبہ فاصلے سے پیدا ہوتا ہے اور جب من و تو کی تمیز ہی ختم ہوجائے تو پھر کیسا دبدبہ، کونسا ڈر اور کہاں کا وقار۔

زندگی کے ہر شعبے میں مداخلت اور مفادات میں حصہ داری کی شدید خواہش نے وردی کی حرمت کو جس طرح ضرب لگائی ہے۔اس کے نتیجے میں نوبت یہ آگئی ہے کہ ایک سرکاری مسجد کے مولوی سے لے کر بلوچستان کے مفلوک الحال قبائلی تک، مصلحت پسند تاجر سے لے کر کسی بھی سیاسی جماعت کے کنگلے کارکن تک ایک سڑک چھاپ دانشور سے لے کر ایک لاغر سے صحافی تک ہر ایرا غیرا وردی والوں کے منہ کو آرہا ہے۔

ایسے میں صدرِ مملکت کی یہ ضد بہت عجیب سی لگتی ہے کہ وردی ہی ان کی طاقت کا سرچشمہ ہے۔

کیا اب بھی یہ حقیقت تسلیم کرنے کا وقت نہیں آیا کہ وردی اور دبدبہ ماضی کی کہانی ہوچکی۔ اب تو یہ فکر کرنی چاہیے کہ وردی اور برقعے میں جو فرق رہ گیا ہے کہیں وہ بھی نہ مٹ جائے۔

بات سے باتکہاں چلے گئے
دکھی لوگوں کی مدد کرنے والے کہاں کھو گئے
یہ بلوچ!
آخر یہ بلوچ سمجھتے کیوں نہیں
امریکہ اور شیر
امریکہ اور ناقابلِ اشاعت لطیفے والے شیر میں فرق؟
بگٹی کی ہلاکت
بلوچستان کا 33 فیصد مسئلہ حل: وسعت اللہ
اسی بارے میں
ایوب خان کی ڈائری
29 April, 2007 | قلم اور کالم
آفریں آفریں
06 May, 2007 | قلم اور کالم
’قصور جسٹس چودھری کا ہے‘
13 May, 2007 | قلم اور کالم
صدر، ماسی اور صحبت علی
10 June, 2007 | قلم اور کالم
نیگروپونٹے کون؟
17 June, 2007 | قلم اور کالم
’چاچا وردی لاہندا کیوں نئیں‘
03 June, 2007 | قلم اور کالم
’پاگل‘، ’بے وقوف‘، ’بکواس‘
20 May, 2007 | قلم اور کالم
اپنے کیے کا کوئی علاج
15 April, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد