BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 June, 2007, 11:40 GMT 16:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیگروپونٹے کون؟

 نیگرو پونٹے
نیگرو پونٹے نے سائیگان کے امریکی سفارتخانے میں پولٹیکل آفیسر کے طور پر ڈپلومیٹک کیرئیر کا آغاز کیا
جان دمتری نیگرو پونٹے جب چھ ماہ قبل کونڈو لیزا رائس کے ڈپٹی بنے تو انہوں نے امریکی کانگریس کے روبرو شہادت دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے بے دخلی کے بعد اب پاکستان القاعدہ اور طالبان کا ہیڈ کوارٹر بن گیا ہے۔اس بیان پر حکومتِ پاکستان نے خاصا گرم اور سرد ردِ عمل دکھایا تھا۔

نیگرو پونٹے کی امریکی ڈپلومیسی کی موجودہ تاریخ میں وہی اہمیت ہے جو مسلم تاریخ میں عبیداللہ ابنِ زیاد کی ہے۔

نیگروپونٹے نے انیس سو ساٹھ میں سائیگان کے امریکی سفارتخانے میں پولٹیکل آفیسر کے طور پر ڈپلومیٹک کیرئیر کا آغاز کیا اور اس حیثیت میں یکے بعد دیگرے آنے والی جنوبی ویتنام کی کٹھ پتلی حکومتوں کے مشیر رہے۔

انیس سو اکہتر سے تہتر تک نیگروپونٹے ڈاکٹر ہنری کیسنگر کے تحت نیشنل سکیورٹی کونسل میں ویتنامی امور کے نگراں مقرر رہے۔ یہ وہ دور تھا جب امریکی بی باون طیارے شمالی ویتنام پر روزانہ سینکڑوں ٹن بم برسا رہے تھے اور کمبوڈیا کے خلاف امریکہ نے غیر اعلانیہ جنگ شروع کردی تھی۔

لیکن نیگرو پونٹے کا نام امریکی پریس میں سن اکیاسی سے آنا شروع ہوا جب انہیں ریگن انتظامیہ نے وسطی امریکہ کے ملک نکاراگوا کے ہمسائے ہنڈوراس میں اگلے پانچ برس تک اپناسفیر رکھا۔

اس وقت ہنڈوراس میں جنرل گستاؤو مارٹینز کی آمریت سیاسی مخالفین کو خفیہ فوجی ڈیتھ سکواڈز کے ذریعے ہلاک یا غائب کر رہی تھی۔

لیکن نیگرو پونٹے نے بحثیت سفیر امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو انسانی حقوق سے متعلق جو بھی سالانہ رپورٹ بھیجی اس میں ہمیشہ یہی کہا گیا کہ ہنڈوراس میں نہ تو کوئی ڈیتھ سکواڈ متحرک ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی قیدی ہے۔

نیگرو پونٹے کے دور میں ہنڈوراس کی فوجی جنتا کی امریکی فوجی امداد چار ملین ڈالر سے بڑھ کر ستتر ملین ڈالر اور اقتصادی امداد باون ملین ڈالر سے بڑھ کر دو سو تیس ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔

نیگرو پونٹے نے سلامتی کونسل سے صدام حسین کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت حاصل کرنے کے لیے سلامتی کونسل کے غریب رکن ممالک کا ووٹ امداد میں بڑھوتری یا حمایت نہ ملنے پر امداد میں کٹوتی کی دھمکی کے ذریعے خریدنے کی کوشش کی۔ میکسیکو اور چلی کی حکومتوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ امریکی قرار داد کی کھلی مخالفت کرنے والے اپنے سفیر تبدیل کریں

نیگرو پونٹے انیس سو پچاسی میں واپس بلا لیے گئے اور پھر بش سینئر کی انتظامیہ نے انہیں لاطینی امریکی امور کا مشیر مقرر کردیا۔اس کے نو برس بعد ہنڈوراس کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا کہ اب بھی ایک سو اسی لوگ غائب ہیں۔

ہنڈوراس کے ایک سابق رکنِ کانگریس ایفریان ڈائز کے بقول نیگرو پونٹے سمیت امریکی انتظامیہ کو نکاراگوا کی بائیں بازو کی حکومت کے خلاف کونٹرا باغیوں کو کھڑا کرنے کے لئے ہنڈوراس کے علاقے کی ضرورت تھی اور یہ ضرورت انسانی حقوق کے احترام سے زیادہ اہم تھی۔

انیس سو ستانوے میں سی آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ سن اسی کے عشرے میں ہنڈوراس میں سرکاری ڈیتھ اسکواڈز نے سینکڑوں مرتبہ انسانی حقوق کی پامالی کی۔ یہ رپورٹ جب ظاہر ہوئی تو نیگروپونٹے میکسیکو میں کلنٹن انتظامیہ کے سفیر کے طور پر حکومتِ میکسیکو کو ملک کے جنوبی علاقے میں زپاٹا چھاپہ مار تحریک سے نمٹنے کے طریقے بتا رہے تھے۔

سن دو ہزار ایک میں بش جونیئر نے نیگروپونٹے کو اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مقرر کیا۔ اس حیثیت میں انہوں نے سلامتی کونسل سے صدام حسین کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت حاصل کرنے کے لیے سلامتی کونسل کے غریب رکن ممالک کا ووٹ امداد میں بڑھوتری یا حمایت نہ ملنے پر امداد میں کٹوتی کی دھمکی کے ذریعے خریدنے کی کوشش کی۔ سلامتی کونسل کے ارکان کی گفتگو ٹیپ کرنے کی کوششیں ہوئیں اور میکسیکو اور چلی کی حکومتوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ امریکی قرار داد کی کھلی مخالفت کرنے والے اپنے سفیر تبدیل کریں۔

کئی حکومتیں اتنی اچھی نہیں ہوتیں جتنی اچھی امریکی لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب آپ کسی ملک میں آمرانہ نظام کے بجائے جمہوریت کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تو بعض اوقات اس ملک یا اردگرد کے حالات آپ کو تبدیلی کی حمایت کی اجازت نہیں دیتے۔ یوں آپ کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں
نیگروپونٹے

صدام حسین کے زوال کے بعد بغداد میں نیگروپونٹے کو پہلا امریکی سفیر مقرر کیا گیا۔اس دوران ابوغریب جیل میں قیدیوں پر تشدد اور تعمیرِ نو کے کام میں کروڑوں ڈالر گھپلے کے سکینڈلز سامنے آئے۔

سن دو ہزار پانچ میں نیگرو پونٹے کو ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جینس کے طور پر سی آئی اے سمیت تمام سراغرساں ایجنسیوں کا سپر باس بنا دیا گیا اور جنوری دو ہزار سات میں وہ ڈپٹی وزیرِ خارجہ بن گئے۔

سن دو ہزار ایک میں سی این این کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جان نیگرو پونٹے نے کہا: ’ کئی حکومتیں اتنی اچھی نہیں ہوتیں جتنی اچھی امریکی لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب آپ کسی ملک میں آمرانہ نظام کے بجائے جمہوریت کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تو بعض اوقات اس ملک یا اردگرد کے حالات آپ کو تبدیلی کی حمایت کی اجازت نہیں دیتے۔ یوں آپ کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں‘۔

جان نیگرو پونٹے نے اسلام آباد میں کہا کہ یہ صدر مشرف پر منحصر ہے کہ وہ کب وردی اتارتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنے ڈپٹی رچرڈ باؤچر، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل فالن اور پاکستانی وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری کے ساتھ واشنگٹن پرواز کرگئے۔

’کرزئی ساڈا منڈا اے‘
شکاری اور خرگوش کے ساتھ دوڑ
 بات سے باتکاربن یا بن لادن
’ کاربن ڈائی اوکسائیڈ اسامہ سے زیادہ خطرناک‘
’گھر سے اٹھا ہے فتنہ‘
صدر مشرف کو پریشان ہونے کی اشد ضرورت ہے
بات سے باتڈرتا ہوں آدمی سے- -
صدر کو وردی اتارنے کی ہمت کیوں نہیں
بات سے باتچاچا وردی لاہندا۔۔
آنکھیں بچھانے والوں کو کیا بات بری لگ گئی؟
تنگ نظری کا وائرس
کیا مذہب کے نام پر جہالت فروغ پا رہی ہے؟
اسی بارے میں
صدر، ماسی اور صحبت علی
10 June, 2007 | قلم اور کالم
’چاچا وردی لاہندا کیوں نئیں‘
03 June, 2007 | قلم اور کالم
اپنے کیے کا کوئی علاج
15 April, 2007 | قلم اور کالم
’پاگل‘، ’بے وقوف‘، ’بکواس‘
20 May, 2007 | قلم اور کالم
’قصور جسٹس چودھری کا ہے‘
13 May, 2007 | قلم اور کالم
آفریں آفریں
06 May, 2007 | قلم اور کالم
مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان
01 April, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد