’انسانی جج کا بھلا کیا بھروسہ‘: وسعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خوشی کی بات یہ ہے کہ صدرِ مملکت کی کمانڈو سپرٹ روزِ اول کی طرح برقرار ہے۔ وہ آج بھی مدِ مقابل کو حیرت میں ڈالنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہیں اور کمانڈو کاروائی کے بنیادی اصولوں یعنی حریف کو شناخت کرو، تلاش کرو اور تباہ کردو کو کبھی نہیں بھولتے۔ کرگل، نواز شریف، سترہویں آئینی ترمیم، اکبر بگتی، جسٹس افتخار چوہدری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اس بات سے خاصا حوصلہ ملا ہے کہ حکومت نے ایک عام شہری اور وکیل نعیم بخاری کے شکایت نامے پر ازخود سوؤ موٹو ایکشن لیا ہے۔ اسی کاروائی سے متاثر ہوکر آئندہ ایسے بحران کے سدِباب کے لیے دو تجاویز پیشِ خدمت ہیں۔ اولاً یہ کہ عدلیہ کو ڈسپلن میں لانے اور کرپشن سے پاک کرنے کے لیے اسی طرح ایماندار اور بااصول حاضر و ریٹائرڈ فوجی افسران کا ڈیپوٹیشن پر تقرر کیا جائے جس طرح سرکاری و نیم سرکاری اداروں، نوکر شاہی کے مختلف شعبوں یا قومی اہمیت کے نجی اداروں میں تقرر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے نیشنل سیکیورٹی کونسل کی تشکیل کے فارمولے سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ یعنی اعلی عدالتوں میں نصف جج سویلین اور بقیہ نصف فوجی پس منظر سے لیے جائیں۔
اگر یہ تجویز قابلِ عمل نہ ہوتو دوسری تجویز یہ ہے کہ عدالتی نظام کو میکنائزڈ اور کمپیوٹرائزڈ کردیا جائے۔ مارکیٹ میں ایسے کمپیوٹر بہت عرصے سے موجود ہیں جن میں اگر آپ اپنا نام اور تاریخ پیدائش فیڈ کریں تو وہ آپ کو فوراً قسمت کا حال، مستقبل اور شخصی خوبیاں اور خامیاں بتا دیتے ہیں۔ اسی اصول کی بنیاد پر کمپیوٹرائزڈ روبوٹس میں آئینِ پاکستان، دیوانی، فوجداری، فوجی اور شرعی قوانین فیڈ کیے جاسکتے ہیں۔مقدمے، پیٹیشن اور ریفرنس کے بارے میں فیصلے اور رائے جاننے کے لیے تین علیحدہ علیحدہ بٹن ہوں۔ایک جانب سے مسئلہ فیڈ کریں۔مطلوبہ جواب کے لیے بٹن اور پرنٹ کی کمانڈ دبا دیں۔ فوری اور سستا پرنٹڈ انصاف۔نہ چک چک نہ بک بک۔ ممکن ہے شروع شروع میں لوگ اس ٹیکنالوجی کے عادی نہ ہوں۔لہذا سائل کو مانوس کرنے اور عدالتی کارروائی میں انسانی عنصر ڈالنے کے لیے روبوٹس کو شیروانی بھی پہنائی جاسکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے بڑے فائدے ہوں گے۔ فیصلے جذبات و احساسات، دباؤ، سفارش اور ذاتی پسند و ناپسند سے پاک ہوں گے۔لمبی چوڑی تنخواہوں، مراعات اور افرادی قوت سے جان چھوٹ جائے گی۔انتظامیہ کو یہ نہیں سوچنا پڑے گا کہ کسے ہٹا کر کس کا تقرر کیا جائے۔ ہر جوڈیشل کمپوٹرائزڈ روبوٹ میں ایک اینٹی وائرس سافٹ وئیر بھی ہوگا جو اسے آس پاس کے حالات سے متاثر ہونے اور کسی مقدمے یا ریفرنس کے پسِ پردہ ارادے کو بھانپنے سے باز رکھے گا۔سپریم جوڈیشل کونسل کا کام بھی آسان ہوجائے گا۔جس جوڈیشل کمپیوٹر میں وائرس آ جائے (Control>Alt>Delete) دبا کر اسکی چھٹی کروا دی جائے۔ ویسے بھی یہ سال پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم سال ہے۔صدرِ مملکت کو ایک اور مدت کے لیے منتخب بھی ہونا ہے۔وردی کے بارے میں بھی سوچنا ہے۔عام انتخابات بھی کرانے ہیں۔دہشت گردی کے ملزموں سے بھی نمٹنا ہے اور نجکاری کے پروگرام کی بھی بلا رکاوٹ تکمیل ہونی ہے۔یہی وقت ہے کہ عدلیہ میں میکنائزڈ، کمپیوٹرائزڈ فیصلوں کی ٹیکنالوجی متعارف کروادی جائے۔ ورنہ انسانی جج کا بھلا کیا بھروسہ۔ | اسی بارے میں ’امریکہ نے تمام مواقع گنوا دیئے‘11 February, 2007 | قلم اور کالم ’سافٹ امیج‘ ابھارنے کی کوشش 18 February, 2007 | قلم اور کالم یہ چمن یونہی رہے گا28 January, 2007 | قلم اور کالم اللہ جانے یہ کیا ہے؟20 January, 2007 | قلم اور کالم ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں 14 January, 2007 | قلم اور کالم ’جس سے ملیئے اسے خفا کیجئے‘07 January, 2007 | قلم اور کالم ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||