ایوب خان کی ڈائری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین روز سے میں صرف فیلڈ مارشل ایوب خان کی ڈائری پڑھ رہا ہوں جو انیس سو چھیاسٹھ سے سن بہتر کے عرصے پر محیط ہے۔ ڈائری چونکہ آدمی اپنے لئے لکھتا ہے اس لئے جو بھی لکھا جاتا ہے وہ خارجی اثرات سے پاک اندر کی آواز ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے ایوب خان کی یہ ڈائری ایک قیمتی تاریخی دستاویز ہے۔ مثلاً چاہے انکی اپنی کنونشن مسلم لیگ کی قیادت ہو یا حزبِ اختلاف کے سیاستداں، ایوب خان کم و بیش سب کو نا اہل سیاسی بونے سمجھتے تھے۔ مولوی کے لفظ سے انہیں چڑ تھی، انکے خیال میں یہ تفرقہ بازی کے علاوہ کچھ نہیں کرتے تھے۔ غفار خان اور جی ایم سید غدار تھے۔ بلوچ مشکوک تو سندھی مہمان نواز مگر ناقابل اعتبار اور پنجابی ڈنڈے کے پیر اور تماشہ پسند۔ اگرچہ ایوب خان کو احساس تھا کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے مابین وسائل کی تقسیم تسلی بخش نہیں ہے لیکن ان کا خیال تھا کہ اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بنگالی مسلمان ہندو قوم پرستی کے زیر اثر جذباتی، احسان فراموش اور کینہ پرور تھے اور فیڈریشن میں رہنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ ایوب خان اپنے اقتدار کے ابتدائی برسوں میں امریکہ کے مداح تھے لیکن پینسٹھ کی لڑائی میں امریکہ کی بے رخی نے انہیں بدظن کردیا۔ ساتھ ہی ساتھ انکا یہ خیال بھی تھا کہ پاکستان امریکہ کی کھلم کھلا مخالفت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انیس سو اڑسٹھ میں انکے خلاف جو تحریک چلی، ایوب خان کو شبہ تھا کہ اس میں بھی امریکی ہاتھ ہے کیونکہ وہ امریکی بے رخی سے دل برداشتہ ہوکر سوویت یونین کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے تھے۔
اگرچہ پاکستان، ایران اور ترکی آر سی ڈی کی ڈور میں بندھے ہوئے تھے لیکن ایوب خان ایران کے مقابلے میں خود کو ترکی سے زیادہ قریب محسوس کرتے تھے۔عربوں سے پاکستان کی بڑھتی ہوئی قربت اور شاہ کی زود رنج طبیعت کے سبب پاکستان ایران تعلقات میں اکثر تناؤ پیدا ہوجاتا تھا۔ افغانستان اور بھارت کو ایوب خان نے ہمیشہ ایک ہی ترازو میں رکھا یعنی موقع ملتے ہی دونوں ملک پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتے ہیں۔البتہ چین کے وہ مسلسل مداح رہے تاہم پاکستانی کیمونسٹوں سے ہمیشہ بدظن رہے۔ ڈائری سے پتہ چلتا ہے کہ معزولی کے بعد جنرل یحییٰ خان نے کنونشن مسلم لیگ کو ہائی جیک کرنے کی کوششیں کیں۔ ایوب خان کے خاندان کے خلاف ٹیکس چوری کے شواہد جمع کرنے کی بھی مہم چلائی گئی۔ایوب خان کو یحییٰ خان کی شراب نوشی اور عیاشیوں کی خبریں بھی پریشان کرتی رہیں۔انکا خیال تھا کہ بھٹو اور یحییٰ میں قربت کا ایک سبب دونوں کے یکساں مشاغل ہیں۔ ایوب خان اپنے بچوں سے بہت خوش تھے۔اور گوہر ایوب کے بارے میں انکا تجزیہ تھا کہ یہ بہت آگے جائے گا۔ ایوب خان کے بقول انکا سب سے بڑا کریڈٹ یہ تھا کہ انہوں نے ملک کو دس برس کے دوران نہ صرف یکجا رکھا بلکہ صنعتی، زرعی اور تعلیمی ترقی کی شاہراہ پر رواں کردیا۔ بین الاقوامی برادری پاکستان کو رشک سے دیکھتی رہی مگر اس قوم کی بدقسمتی پر رونا آتا ہے جس نے اپنی جذباتیت اور نادانی کے سبب ایک محبِ وطن رہنما کھودیا اور وہ بھی بھٹو جیسے دروغ گو مداریوں اور مجیب جیسے غنڈوں کی باتوں میں آ کر۔ ایوب خان اقتدار سے اپنی علیحدگی کو اس لحاظ سے بہتر بھی سمجھتے تھے کہ کم ازکم انکے دور میں ملک نہیں ٹوٹا۔ ایک جگہ وہ یہ شکوہ بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ یحییٰ حکومت نے اسلام آباد کی ایک شاہراہ کو سہروردی سے منسوب کردیا لیکن جس نے اسلام آباد تخلیق کیا اسکے نام پر کوئی سڑک نہیں ہے۔ کتاب میں ایوب خان کی نادر تصاویر کے علاوہ ایک ٹرک کی تصویر بھی ہے جس کی پشت پر ایوب خان کی پینٹنگ ہے اور لکھا ہے تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد۔ میں سوچ رہا ہوں کہ یہ یاد کم بخت کسی کے جانے کے بعد ہی کیوں آ تی ہے۔ ( آنے والے دنوں میں آپ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ایوب خان کی ڈائری کے منتخب اقتباسات کی مدد سے تیار کردہ مضامین بھی پڑھ سکیں گے) |
اسی بارے میں ’امریکہ نے تمام مواقع گنوا دیئے‘11 February, 2007 | قلم اور کالم کاربن گیس اسامہ سے خطرناک04 February, 2007 | قلم اور کالم پوپلوں کا کلب25 February, 2007 | قلم اور کالم گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان01 April, 2007 | قلم اور کالم ’انصاف مل سکتا ہے تو بھگوان سے‘25 March, 2007 | قلم اور کالم کہیں نمبر تو نہیں بدل گیا؟08 April, 2007 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||