ایشور لال کا خط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھے کل صوبہ سندھ کے ایک شہری کا خط موصول ہوا ہے جسے مِن و عن آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ وسعت اللہ خان جی میں سن چھیاسٹھ سے بی بی سی اردو اور ہندی سن رہا ہوں۔ لیکن آج پہلی دفعہ خط لکھنے کو جی چاہا۔ جب پارٹیشن ہوئی تو میری عمر چوبیس سال تھی۔ شکار پور اور سکھر میں ہمارے خاندان کا آڑھت کا جما جمایا کاروبار تھا۔ اس زمانے میں پنجاب اور آس پاس کے علاقوں سے دنگوں کی خبریں ملتی رہتی تھیں۔ چنانچہ پریشان ہو کر ہمارے دور نزدیک کے کئی رشتے داروں نے انڈیا جانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ہمارے پتاجی نے ہم دو بھائیوں اور ماں کو صاف صاف کہا کہ جب تک ہماری جان کو خطرہ نہ ہو ہم اپنی جنم بھومی نہیں چھوڑیں گے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں کوئی دنگا نہیں ہوا اور مسلمان بھائیوں نے اس خطرناک زمانے میں ہمارا ہر طرح سے خیال کیا اور یوں ہمارے پیر آج تک اس دھرتی پر جمے ہوئے ہیں۔ میرے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں اور اب تو ان کی اولادوں کی بھی شادیاں ہوگئی ہیں۔ میرے بیٹے بزنس کرتے ہیں۔ایک داماد ڈاکٹر اور دوسرا دوبئی میں ہے۔
آج میری پڑپوتی نے جو فرسٹ ائیر میں پڑھتی ہے ٹی وی دیکھتے دیکھتے مجھ سے اچانک پوچھا بابا کیا کوئی ہندو پاکستان کا صدر یا وزیرِ اعظم بن سکتا ہے۔ میں نے کہا نہیں بن سکتا کیونکہ قانون کے مطابق اس کا اکثریتی فرقے سے ہونا ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن بابا ہندوستان بھی ہمارے ساتھ آزاد ہوا تھا۔ وہاں ایسا قانون کیوں نہیں ہے۔ میں نے اپنی پڑپوتی سے کہا کہ ہر ملک کا اپنا قاعدہ قانون ہوتا ہے۔۔۔۔لیکن بابا صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ تو کسی اور عہدے پر کوئی بھی پاکستانی آسکتا ہے نا؟ میں نے کہا بالکل آ سکتا ہے۔ جیسے جناح صاحب کی کابینہ میں جوگندر ناتھ منڈل وزیرِ قانون تھے۔ سر طفراللہ خان وزیرِ خارجہ تھے۔اس وقت تو ظفراللہ کے فرقے کو مسلمان سمجھا جاتا تھا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ مسلمان نہیں تھے۔ اس کے علاوہ ابھی جسٹس بھگوان داس چیف جسٹس رہے ہیں۔ بہت پہلے جسٹس کارنیلیس بھی ایوب کے زمانے میں چیف جسٹس تھے۔ جسٹس دراب پٹیل پارسی تھے اور بہت بڑے جج تھے۔ ابھی لاہور میں ایک سکھ لڑکا ٹریفک کانسٹیبل بنا ہے۔ اس کی تو تصویر بھی چھپی تھی۔ایک اور سکھ لڑکے کی بھی پچھلے سال تصویر چھپی تھی جسے آرمی میں کمیشن ملا ہے، اور بھی کئی ہندو لڑکے فوج میں سپاہی ہیں۔ایئرفورس اور آرمی میں کئی کرسچن افسر رہے ہیں۔ شاید آج بھی ہیں۔
میری پڑپوتی نے پوچھا کہ کیا کوئی غیر مسلم گورنر، چیف منسٹر، سپیکر یا فوج کا سربراہ بھی رہا ہے۔ میں نے ذہن پر بہت زور دیا لیکن کوئی نام یاد نہیں آیا۔ میں نے کہا بن تو سکتا ہے لیکن اتفاق ہے کہ اب تک شاید کوئی نہیں بنا۔ اس کے بعد اس بچی نے کچھ نہیں پوچھا اور وہ تھوڑی دیر ٹی وی دیکھ کر اٹھ گئی۔ وسعت جی ! میں چوراسی سال کا ہوں اور معلوم نہیں کب تک ہوں۔ میرے پِتا سمیت چار پیڑھیوں نے بغیر سوال پوچھے زندگی گزار دی۔ لیکن میں خوش ہوں کہ میری پڑپوتی کی پیڑھی نہ صرف سوال کرتی ہے بلکہ ان کے جواب بھی فوراً چاہتی ہے۔ امید کی بس یہی ایک کرن ہے جو مجھ سے کہتی ہے کہ شاید میری پڑپوتی کے بچوں کو ایسے سوالات کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ بھگوان آپ کو خوش رکھے |
اسی بارے میں کبھی بادشاہ کبھی بساط سے باہر29 July, 2007 | قلم اور کالم ’انصاف مل سکتا ہے تو بھگوان سے‘25 March, 2007 | قلم اور کالم گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم ’سافٹ امیج‘ ابھارنے کی کوشش 18 February, 2007 | قلم اور کالم یہ چمن یونہی رہے گا28 January, 2007 | قلم اور کالم ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم آزادی کا شکنجہ19 March, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||