BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئینی انجنئیر کا پتہ

دوبارہ صدر اسی اسمبلی سے انتخاب
حکومت صدارتی انتخاب کے لئے الیکٹورل کالج کی تشکیل اور وجود کی جس تشریح کو آگے بڑھا رہی ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے صدارتی امیدوار کی اہلیت کے قانون میں جس طرح ترمیم کی گئی ہے اور دو عہدے رکھنے سے متعلق سپریم کورٹ کی جانب سے آئینی تشریح کا انتظار کئے بغیر جس عجلت میں صدارتی انتخاب کے شیڈول کا اعلان کیا گیا ہے اس کے ہوتے ہوئے اگر جلد کوئی دورس اور واضح عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آتا تو جنرل پرویز مشرف کا چھ اکتوبر کو ایک بار پھر باوردی صدر منتخب ہونا بظاہر یقینی ہے۔اگر ایسا ہے تو اسکی ممکنہ اخلاقی حیثیت کیا ہوگی۔یہ وہ سوال ہے جو اس وقت کئی پاکستانی سیاسی مبصروں کو تنگ کررہا ہے۔

اگر جنرل پرویز مشرف کے اب تک کے آٹھ برس پر نگاہ ڈالی جائے تو اندازہ یہ ہوتا ہے کہ اس عرصے میں جنرل مشرف کی راہ میں جو بھی بڑی آئینی یا قانونی رکاوٹ آئی اسے ہٹانے کے لئے کسی ایک طے شدہ آئینی طریقے کا سہارا نہیں لیا گیا بلکہ حالات و واقعات و ضروریات کے تحت ہر مرتبہ ایک نیا طریقِہ کار اپنانے کی کامیاب یا ناکام کوشش کی گئی۔

مثلاً جب بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو جنرل مشرف نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے خود کو چیف ایگزیکٹو کہلوانا پسند کیا۔جبکہ آئین میں ایسے کسی عہدے کی گنجائش نہیں ہے۔آئین میں چیف ایگزیکٹو کی اصطلاح وزیرِ اعظم کے لئے مختص ہے۔

پھر صدارتی انتخاب کے لئے آئین میں درج واضح طریقِ کار کے تحت منتخب ایک صدر کو ہٹا کر خود کو قانونی صدر منتخب کروانے کے لئے ماورائے آئین ریفرینڈم کا طریقہ اختیار کیا گیا۔اس عرصے میں سپریم کورٹ نے صدر مشرف کو ملکی معاملات چلانے اور تین برس کے اندر اقتدار منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کی سہولت کے طور پر جو عارضی آئینی راستہ فراہم کیا اسے ازخود ربڑ کی طرح کھینچ کر ایسی غلیل بنا لی جس کی مدد سے سترہویں ترمیم کے کنکر کو تاک کر نشانے پر مارا گیا اور خود کو اس ترمیم کے تحت پیدا ہونے والی پارلیمان سے قانونی آئینی صدر بنوا لیا گیا۔

لیکن جس الیکٹورل کالج سے جنرل مشرف نے پانچ برس کی سندِ صدارت حاصل کی اس الیکٹورل کالج کی عزت بس اتنی تھی کہ پہلے برس تو صدر مشرف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی آئینی ذمہ داری تقریر کے دوران حزبِ اختلاف کو دونوں مکے دکھاتے ہوئے پوری کی لیکن اگلے چار برس تک وہ یہ کہتے رہے کہ وہ اس بد تمیز پارلیمنٹ سے خطاب کرنا پسند نہیں کرتے۔

اور آج جنرل مشرف اسی بد تمیز پارلیمنٹ سے ایک بار پھر صدر منتخب ہونے کا عزمِ مصمم کئے ہوئے ہیں۔جس پارلیمنٹ سے منتخب ہونے کے بعد جنرل مشرف نے دو برس کے اندر وردی اتار دینے کا وعدہ کیا تھا۔اسی پارلیمنٹ کے سامنے وہ وردی پہن کر دوسری مرتبہ سینہ تانے خود کو منتخب کرنے کی تحکمانہ اپیل کررہے ہیں۔

اس تناظر میں بہت سے لوگ آج یہ کہہ رہے ہیں کہ جب جنرل مشرف نے فرانسیسی شہنشاہ لوئی چہاردہم کا مشہورِ عالم نعرہ ’میں ریاست ہوں‘ اپنا کر آٹھ برس گزار دئیے تو اب انہیں ایک بار پھر صدر بننے کے لئے آئینی تکلفات کے پتے باندھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہورہی ہے۔

جہاں آئینی جواز اور آئینی اخلاقیات کو دو الگ الگ چیزیں سمجھا جائے وہاں وردی پہنی نہ پہنی۔لنگوٹ باندھی نہ باندھی۔کیا فرق پڑتا ہے۔

بات سے باتقسمت کا لکھا
تبدیلی کی آرزوؤں کو کون پورا کر سکتا ہے
بات سے بات’بھولا اور پولا‘
’اپنی روٹی اپنے ہی توے پر پکانی پڑے گی‘
 صدر مشرف حکمرانی کی برہنگی
اگر سپریم کورٹ یہ پیشکش ٹھکرا دے تو؟
پرویز مشرفبہت دیر کر دی۔۔
حکمرانوں کے اچھے کام میں دیر: علی احمد خان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد